21 بلین ڈالر کے معاشی واقتصادی ترقی کے 8 ایم او یوز پردستخط

پاکستان اور سعودی عرب دوستی کے گہرے رشتوں میں منسلک ہیں دونوں ملکوں کے درمیان ’’لازوال‘‘ دوستی کی داستان7عشروں پر محیط ہے

ہفتہ فروری

21 billion dollar ke muashi iqtsadi taraqqi ke 8 m o use par dastakht

نواز رضا اسلام آباد

پاکستان اور سعودی عرب دوستی کے گہرے رشتوں میں منسلک ہیں دونوں ملکوں کے درمیان ’’لازوال‘‘ دوستی کی داستان7عشروں پر محیط ہے ہر آنے والے دن میں یہ دوستی مزید مستحکم ہوئی ہے ۔ پچھلے 70سال میں مختلف اوقات میں سعودی حکمران اور ولی عہد پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں ۔فروری 2006ء میں شاہ عبداللہ پاکستان کا دورہ کرنے آخری سعودی حکمران ہیں جب کہ انہوں نے ہی ولی عہد کی حیثیت سے 2003ء میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ اسی طرح شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیر دفاع کی حیثیت سے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے دور میں 2017ء میں پاکستان کا دورہ کیا تھا ۔ سعودی عرب کے ولی عہد کی حیثیت سے شہزادہ محمد بن سلمان کا یہ پہلا دورہ ہے انہوں نے نے ایشیا کے دورے روانگی کے وقت سب سے پہلے پاکستان کا انتخاب کیا ہے ۔

(جاری ہے)

دونوں ملکوں کے درمیان گہری ’’دوستی ‘‘ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے سعودی عرب دنیا کا واحد ملک ہے جس کے وزیر دفاع شہزادہ سلطان کو پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرایا گیا اسی طرح جب کبھی پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا یہ سعودی عرب ہے جس نے سیاسی استحکام میں’’ دوستانہ‘‘ انداز میں پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی۔ پاکستان نے بھی اندرونی معاملات میں سعودی عرب کی ’’دوستانہ مداخلت ‘‘ کے حق کو تسلیم کیا ہے ۔ جب کبھی پاکستان میں غیر یقینی سیاسی صورت حال پیدا ہوئی یا مالی بحران شکار ہوا تو سعودی عرب ہی پاکستان کی مدد کو آیا پاکستان نے1998ء میں ایٹمی دھماکے کئے تو یہ سعودی عرب ہی تھا جس نے پاکستان کو کئی سال تک 8ئ1بلین ڈالر کا مفت تیل فراہم کیا۔ میاں نواز شریف کے دور اقتدار میں پاکستان اور سعودی عرب کے مثالی تعلقات رہے انہوں نے صرف یمن کی جنگ میں جہاں پاکستان کی افواج کو نہ بھجوانے کے پارلیمنٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کیا وہاں ان کی سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض میں منعقد ہونے والی اسلامی ممالک کے سربراہان کی کانفرنس میں ایران پر تنقید نہ کرنے پر تقریر نہیں کرائی گئی۔ جس سے اس تاثر کو تقویت ملی کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ’’گرمجوشی‘‘ نے ’’سردمہری‘‘ نے اختیار کر لی ہے لیکن سعودی عرب کے ولی عہد کے دورہ ء پاکستان نے اس تاثر کی نفی کر دی ہے ۔ دونوں ملکوں کی شخصیات کی سطح پر تعلقات کا اندازہ لگایا جائے توذوالفقار علی بھٹو اور شاہ فیصل شہید کے دور میں باہمی تعلقات میں اضافہ ہوا لیکن شاہ فہد اور شاہ عبداللہ کے ادوار میں میاں نواز شریف کے ساتھ ان کے ذاتی سطح پر تعلقات عروج پر تھے۔ باہمی تعلقات کے عروج کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا تھا جب میاں نواز شریف وزیر اعظم کی حیثیت سے سعودی عرب کے دورہ کے بعد افریقی ممالک جانے لگے تو شاہ فہد نے ان سے پاکستان واپسی کا پروگرام پوچھا تو میاں نواز شریف نے کہا کہ وہ ترکی میں ’’سٹاپ اوور‘‘ کے بعد اسلام آباد واپس چلے جائیں گے جس پر شاہ فہد نے کہا کہ ’’ہم اپنا جہاز بھجوا کر آپ کو سعودی عرب لے آئیں گے آپ مجھے ملے بغیر پاکستان واپس نہ جائیں ۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے چیئرمین سینیٹ محمد سنجرانی کی قیادت میں سینیٹ کے وفد میں سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز اور قائد حزب اختلاف راجہ محمد ظفر الحق اور مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر مشاہد اللہ کو شامل کیا۔ پیپلز پارٹی کی پارلیمانی لیڈر شیری رحمنٰ کو بھی ملاقات کی دعوت دی گئی لیکن انہیں پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے سعودی ولی عہد سے ملاقات سے روک دیا گیا ۔ قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے اپنے وفد میں اپوزیشن کے کسی رکن کو دانستہ شامل نہیں کیا ان کی قیادت میں پورا وفد پی ٹی آئی پر مشتمل تھا۔اگر اپوزیشن کو شامل کیا جاتا تو اس میں میاں شہباز شریف کی نمایاں پوزیشن ہوتی جن کے سعودی حکمران خاندان سے ذاتی سطح پر تعلقات ہیں اور وہ عربی زبان پر عبور رکھتے ہیں۔ اگر انہیں ملاقات کا موقع ملتا وہ یقینا سعودی ولی عہد سے عربی میں گفتگو کر کے سب کو سرپرائز دیتے۔ لیکن راجہ محمد ظفر الحق اور مشاہد اللہ خان نے سعودی ولی عہد کو میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کا ’’ پیغام محبت‘‘ پہنچا دیا تو سعودی ولی عہد نے دونوں رہنمائوں کے ’’پیغام محبت ‘‘کے جواب میں اپنے دل پر ہاتھ رکھ کرکہا ’’میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے لئے میرے دل میں بہت عزت ہے اور وہ ان کے دل میں بستے ہیں ‘‘ مشاہد اللہ نے سعودی ولی عہد کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے مظالم کی طرف توجہ مبذول کرائی اور ان سے کشمیریوں کا مسئلہ حل کرنے میں کردار ادا کرنے کی استدعا کی جس کے جواب میں سعودی ولی عہد نے کہا کہ وہ اس بارے میں حکومتی سطح پر مشاورت کریں گے۔ تمام مذاکرات وزیر اعظم ہائوس میں ہوئے اور دونوں ممالک کے مابین مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط اسی شاندار عمارت میں کئے گئے ۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 21بلین ڈالر کے معاشی و اقتصادی ترقی کے 8ایم او یوز پر دستخظ کئے گئے۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی آمد سے قبل پاکستان میں اپوزیشن کو آزادانہ ماحول میں ’’سانس‘‘ لینے کا موقع دیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کی ضمانت پر رہائی عمل میں آگئی ہے جب کہ میاں نواز شریف کی بھی ضمانت ہونے کی افواہ گردش کر رہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعظم ہائوس میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلطان کے اعزاز میں ایک پروقار عشائیہ دیا اس موقع پر دونوں رہنمائوں نے انگریزی زبان میں فی البدیہہ تقاریر کیں ۔ دورے کے آخری روز سعودی ولی عہد کو وزیر اعظم ہائوس سے ایوان صدر روایتی بگھی میں لایا گیا جہاں ایوان صدر کے مرکزی دروازے پر صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ان کا استقبال کیا بعد ازاں ایوان صدر میں شہزادہ محمد بن سلمان کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا اس موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سعودی ولی عہد کو پاکستان کا سب سے بڑا سول ایوارڈ ’’ نشان پاکستان‘‘ دیا ۔

Your Thoughts and Comments

21 billion dollar ke muashi iqtsadi taraqqi ke 8 m o use par dastakht is a national article, and listed in the articles section of the site. It was published on 23 February 2019 and is famous in national category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.