”فوج الٰہی“

سلطنتوں کے لیے ا فواج کی اہمیت‘تاریخی حوالہ جات پرمبنی ایک فکر انگیز تحریر

Naseem Ul Haq Zahidi نسیم الحق زاہدی منگل اکتوبر

Fouj e Elahi
منگولوں کو پڑھنے لکھنے میں بالکل دلچسپی نہیں تھی ۔ان کے نزدیک مرد کے لیے جنگ وجندل ہی صرف ضروری کام تھا ۔ایک مسلمان مصنف ابن العاثر لکھتے ہیں کہ میرا کئی بار دل چاہا کہ میں منگولوں کی ظلم وبربریت کا تذکرہ لکھوں جو میں دیکھی اور سنی تھی ۔کاش میں زندہ نہ ہوتا ،کاش یہ سب کچھ میری زندگی میں نہ ہوا ہوتا۔مجھے جب بھی وہ دور یادآتا ،مجھے سخت خوف محسوس ہوتا اور میں وہ باتیں لکھ نہیں پاتا ،کہ کیسے سلطنتیں ہفتوں کے اندراندبالکل ختم ہوکررہ گئی تھیں۔

یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہوگا کہ قیامت کے نزدیک دجال اور یاجوج ماجوج بھی شاید اتنے ظالم نہیں ہونگے جتنے منگول تھے ۔تموجن (چنگیز خان )اور ہلاکو خان کو پڑھنے کے بعد انکی تاریخ نے ایک ایسا درس دیا کہ اگر کوئی معاشرہ ،قوم یا سلطنت زندہ وقائم رہ سکتی ہے تو اس کے پیچھے ایک مضبوط عسکری قوت کا وجود ہے۔

(جاری ہے)

یہ منگول ایک نہایت وحشی ،اجڈاور جاہل قوم تھی لیکن اس سب کے باوجود انہوں نے اپنی فوجی قوت کو انتہائی احسن طریقے پر تربیت دے رکھا تھا۔

خوف کا عالم یہ تھاکہ چنگیزی فوج جس طرف بڑھتی لاشوں کے انبار لگادیتی اورقومیں ان کی آمد کی خبر سن کر دم دبا کر وہاں سے بھاگ نکلتیں ۔شاہ خوارزم کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ اسے چھپنے کے لیے اس روئے روح زمین پرکوئی پناہ گاہ نہ مل سکی ۔اگر حاکم ِمصر بیبرس اپنی فوج کا خیال نہ رکھتا ان کے حوصلے بلند نہ کرتا تو وحشی منگول مصر کو تہس نہس کرکے رکھ دیتے ۔

بیبرس کی قیادت میں صدی کی بہترین اور طاقتور ترین فوج معرض وجود میں آئی اور منگولوں کا یہ عفریت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دم توڑ گیا ۔تاریخ کا یہ حصہ بیان کرنے کا مقصد فقط اتنا ہے کہ فوج کسی ملک یا سلطنت کا وہ اہم وجود ہے جو جس قدر مضبوط ہوگا ملک وملت اتنی ہی محفوظ اور سربلند ہوگی۔وہ وحشی جاہل قومیں اگر اس کی اہمیت وفوقیت کو جانتی ہیں تو پھر ہم آج کے اس جدید دور میں اس کی اہمیت سے چشم پوشی کیسے اختیار کرسکتے ہیں ۔

بدقسمت ہیں وہ حکمران اور وہ قومیں جو اپنی ہی فوج کے خلاف سینہ سپر ہوجائیں ۔جہاں ایسے غدارہوں وہاں پر کسی دشمن کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ۔مشرق وسطیٰ میںآ ج جو صورتحال دیکھنے میں آرہی ہے اسے تاریخ کی سب سے بڑی بدقسمتی وبدبختی کہا جاسکتا ہے ۔وہ ممالک یااقوام جنہیں دشمن کے ساتھ نبردآزما ہونا چاہیے تھا وہ آپس ہی میں لڑمر کرتباہ ہوتی جارہی ہیں ۔

(ایڈولف ہٹلر)کہتا ہے کہ کسی بھی قوم پر کاری ضرب کاری لگانے کا پہلا طریقہ یہ ہے کہ اس ملک کی فوج کو اس قوم کی نظروں میں اتنا مشکوک بنادوکہ وہ اپنے محافظوں کو اپنا دشمن سمجھنے لگے۔اور یہی صورت حال وطن عزیز میں سیاستدانوں نے پیدا کی ہے جنہوں نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطراپنے محسنوں کی قربانیوں کو یکسر فراموش کردیا ہے۔آج پاکستان کے اندر جس غدار سیاست دان کا دل چاہتا ہے وہ اٹھ کر افواج پاک پر دشنام طرازیاں شروع کردیتا ہے ،کردار اور گفتارپر انگلیاں اٹھاتا ہے ۔

آخر کیوں۔۔۔؟صرف اس لیے کہ افواج پاک اس ملک کی حمیت وغیرت ،بقااور سلامتی کی علامت اور ضمانت ہے ، دھرتی کے ان سپوتوں کی لازوال بے مثال قربانیوں کی بدولت وطن قائم ودائم ہے ۔آج ایک طرف وطن عزیز اندرونی سازشوں کا شکار ہے تو دوسری طرف بیرونی دشمن ممالک مل کر پاکستان کو مٹانے کے لیے سرگرم عمل ہیں بالخصوص بھارت،امریکہ ،اسرائیل افواج پاک اس وقت بیک وقت دو محاذوں میں لڑرہی اندرونی وبیرونی، پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے تمام واقعات بھارت نے ہی کروائے ہیں جس میں امریکہ ،اسرائیل سمیت دیگر دشمن ممالک شامل ہیں ۔

ہمارا ملک تقسیم ہندکے نتیجے میں معرض وجود میںآ یا تھا جہاں بھارت کو تو حکومت،ریاست ،انتظامیہ اور فوج پوری جنگی وسائل کے ساتھ بن بنائی ،سجی سجائی دوکان کی طرح حاصل ہوئی تھی ۔بیشتر جنگی سازوسامان اور کارخانے بھارت کے حصے میں آئے تھے اور وہ ان میں سے کچھ بھی پاکستان کے حوالے کرنے کو تیار نہ تھا اس طرح نہایت بے سروسانی کے عالم میں ہماری مسلح افواج کی تشکیل ہوئی ۔

اس لیے بھارت نے ہمیشہ پاکستان کوتر نوالہ سمجھ کر نگلنا چاہا اور وہ یہ سمجھتا تھا کہ جب چاہوں گا پاکستان پر قبضہ کرلوں گا یہی خوش فہمی 1965ء میں بھارت کو ہوئی تھی۔ بے شک بھارتی فوجی تعدادواستعدادمیں پاک فوج سے کہیں زیادہ تھی مگر قوت ایمانی سے یکسر محروم ،جام شہادت کی لذت سے نا آشنا،جذبہ جہاد سے بالکل بے بہرہ طاقت کے نشے میں چور کہ وہ پاکستان کو فتخ کرکے لاہور جم خانہ میں شراب پیئے گے۔

مگرانکو علم نہیں تھا کہ وہ ”فوج الٰہی “سے ٹکرانے کی سوچ رہے ہیں تھے۔ایک ہزار آدمیوں کا لشکر تھا سوسواروں کا دستہ تھا اس جنگ میں سب امراء قریش شریک تھے اور امراء قریش باری باری ہرروزدس دس اونٹ ذبح کرتے تھے۔عتبہ بن ربیعہ جو قریش کا سب سے بڑا معزز رئیس تھا اسے اپنی اس طاغوتی فوج کا سپہ سالار بنایا گیا ۔حالانکہ ابوسفیان نے ابوجہل کو یہ پیغام بجھوایا تھا کہ مکہ واپس چلے جاؤلیکن ابو جہل نے کہا ”جب تک ہم مقام بدر پر پہنچ کرتین دن تک کھا پی کراور گانا بجا کر خوب مزے نہ اڑالیں اس وقت تک ہرگز واپس نہ ہوں گے“
ابوجہل کا یہ تکبر اور غور جائزبھی تھا ایک ہزارکا لشکر،امراء قریش ،قریشی جوان جن میں اکثرسرسے پاؤں تک آہنی لباس میں ملبوس ،سرخ اونٹوں پر سوار چھ سو ،زرہ پوش ہرقسم کا سامان اور اسلحہ سے لیس خیموں کی بہتات اور سواونٹ ساتھ ۔

مد مقابل تین سو تیرہ مسلمان بے سروسامانی کا عالم 60مہاجرین253انصارپورے لشکر کے پاس صرف 70اونٹ2گھوڑے اور لڑنے لیے ہتھیار بھی پورے نہ تھے ۔
قریش اس خیال سے بدمست تھے کہ وہ صبح ہوتے ہی ان مٹھی بھرفاقہ کشوں(مسلمانوں)کا خاتمہ کردیں گے ۔لیکن قدرت کاملہ کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔اللہ تعالیٰ نے 313کو ایک ہزار پر فتح دیکر یہ واضح پیغام دیا کہ حق وباطل کی جنگ میں فتح ہمیشہ حق والوں ہی کی ہوتی ہے۔

اور جنگیں ہتھیاروں سے نہیں بلکہ جذبوں سے لڑی اور جیتیں جاتی ہیں۔تاریخ کے اوراق کی اگر ورق گردانی کی جائے تو ناقابل یقین حالات واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں کہ جن کو کبھی کبھی انسانی عقل تسلیم کرنے سے قاصر ہوجاتی ہے۔کہ کس طرح اسلام کا سترہ سالہ کم سن سالار عمادالدین محمد بن قاسم ہزاروں میل کا سفرکرکے آتاہے کا راجہ داہر کی عظیم سلطنت اور ظلم وجبر کو اپنے گھوڑوں کے پاؤں کے نیچے روند کر ربرصغیر میں اسلام کاچراغ روشن کردیتا ہے۔

کس طرح 21سالہ عثمانی سلطان محمد ثانی (سلطان محمدفاتح)ناقابل تسخیر شہر قسطنطنیہ پر اسلام کا جھنڈا لہردیتا ہے ۔ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہمارے بکاؤ سیاست دان اپنے ذاتی مفادات ،ترجیحات کی خاطر اپنے قومی ہیروز کی بہادری اور شجاعت کی داستانوں کو پس پردہ ڈال کر اغیار کے ڈکیتوں اور ظالموں کے مجسمے بناکر انکو نوجوان نسل کے سامنے ہیروز بنا کر پیش کرتے ہیں ۔

نسل درنسل موروثی سیاست کے نام پر غریبوں اور مظلوموں کا استحصال کرنے والے یہ قوم کے خادمین اور انکی بگڑیں اولادیں دیار غیر سے آکر آج افواج پاک کے خلاف بولتے ہیں الزامات لگاتے ہیں ۔یقین جانیے ان سیاست دانوں کا وجود ان شہیدوں کے مقدس لہوکی بدولت ہے ۔آج چند سیاسی جماعتوں نے باقاعدہ طور پر اپنے سوشل و دیگر میڈیا سلز قائم کیے ہوئے ہیں ۔

جن کا مقصد افواج پاک کی کردار کشی کرکے قوم کی نظروں میں غلط ثابت کرنا ہے۔ایسے متعدد کیسزز سامنے آچکے ہیں ۔یہ سیاسی مداری عوام کے ہجوم میں صرف عوام کوبے قوف بناسکتے ہیں ،اپنی فنکاریاں دکھا سکتے ہیں،مگر ان میں سے کون ہے جو اپنا جوان سالہ بیٹے دفاع اسلام وپاکستان کے لیے سرحدوں پر بھیجنے کے لیے تیار ہیں؟؟؟۔کوئی ایک بھی نہیں پھر افواج پاک کے بجٹ پر بات کرتے ہیں ۔

یہ جذبہ ایمانی اور لذت شہادت ہے ورنہ کون ماں وباپ تیس،چالیس کی خاطر اپنے جوان لخت جگر کو ایسے سفر پرروانہ کرتا ہے جس سے کبھی کبھی زندہ واپسی ممکن نہیں ہوتی اور کون شخص پیسوں کی خاطرجون وجولائی کی جسم کو جھلسادینے والی گرمی ،آگ اگلتا سورج ،تپتے صحرا اور رگوں میں خون کو منجمند کردینے والی سردی برف پوش پہاڑیوں میں جاکر اپنی جان دینا چاہے گا ؟؟؟۔

وطن سے محبت یہ کیا جانیں،خلیفہ مستعصم باللہ کو بیڑوں میں جکڑ کر ہلاکو خان کے سامنے پیش کیا گیا ۔ہلاکو کے دن رات خلیفہ کے محل میں گزرنے لگے ،جس طرح بلی اپنے شکار کے ساتھ کھیلتی ہے اسی طرح ہلاکو خلیفہ کے ساتھ کھیلتا ،کئی دن بھوکا رکھ کر خلیفہ کو جب ہلاکو نے خلیفہ کی میز پر کھانا کھاتے ہوئے دعوت دی تو وہ دوڑا چلا آیا اسکے لیے ایک طشت ڈھانپ کر اس کے سامنے رکھی گئی ۔

کھاؤ۔۔۔ کھاتے کیوں نہیں؟ندیدے پنے طشت دیکھتے خلیفہ کو ہلاکو نے حکم دیا ۔خلیفہ نے طشت سے کپڑا اٹھایا تو دیکھا کہ وہ ہیرے جواہرات سے بھر پڑا تھا ۔خلیفہ کا ہاتھ رک گیا ۔کھاؤ مستعصم باللہ کھاؤ پیٹ بھر نے کے لیے ایک روٹی ہی کافی ہوتی ہے تم تو دولتوں کے انبار اکھٹے کرتے رہے ،کھاؤ اپنا یہ اکٹھا کیا ہوامال،ہلاکو نے سپاہی کواشارہ کیا تواس نے جواہرات کی مٹھی بھری اور خلیفہ کے منہ میں انڈیل دی ،ہلاکو کے تاریخی الفاظ ،جتنی دولت تم نے اپنی شان وشوکت پر لگائی اتنی اپنی فوج بنانے میں لگاتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ سلطنتیں شان وشوکت یا آرائشوں سے نہیں بچا کرتیں ہلاکو روکا قالین کی نرمی محسوس کی اور بولا ۔

اے نرم قالینوں کے عادی انسان کاش تم نے جنگوں کی گرمی کا مزہ چکھا ہوتا کنیزوں کے رقص پر داد دیتے ہاتھوں نے تلوار کی گرفت محسوس کی ہوتی ۔اس انسان کو اسی نرم قالینوں میں لپیٹ دو اور اسے گھوڑوں کے سموں تلے روند دو اور نشان عبرت بنادو ۔جن کو اپنے دفاع سے زیادہ اپنی عیاشیوں کی فکر ہو ان کو بقاء کا کوئی حق نہیں ۔اپنی ہی فوج کے بجٹ کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے والے مسلمانوں کو مستعصم باللہ کی تاریخ پڑھنے کی سخت ضرورت ہے۔

یاد کروتاریخ کو کہ کائنات کی سب سے عظیم ہستی قائدانسانیت وقائد انقلاب جناب حضرت رسول کے گھر میں فاقے ہوتے تھے پر آپ کی دیواریں تلواروں سے سجی ہوتی تھیں ۔وہ یہودی خاتون جس نے حضور اکرم کی زندگی سے سبق حاصل کرکے عربوں کو شکست دی گولڈ ہ مائر کا جواب مسلمانوں کے لیے ہمیشہ باعث شرمندگی بنا رہے گا ۔گولڈ ہ مائر کہتی ہے کہ میں نے امریکی اسلحہ کی خریداری کا فیصلہ کا استدلال اپنے دشمنوں (مسلمانوں) کے نبی حضرت محمدعربیسے لیا تھا دور طالب علمی میں مذاہب کا موازنہ میرا پسندیدہ موضوع تھا ۔

انہی دنوں میں حضرت محمدعربیکی سوانح حیات (سیرت النبی) پڑھی اس کتاب کے مصنف نے ایک جگہ لکھا تھا کہ جب حضرت محمدعربیکا وصال ہوا تو آپ کے گھر اتنی رقم نہ تھی کہ چراغ جلانے کے لیے تیل خریدا جاسکے ،لہذا انکی اہلیہ (حضرت عائشہ) نے آپ کی زرہ بکتر رہن رکھ کرتیل خریدا لیکن اس وقت بھی حضرت محمدکے حجرے کی دیواروں پر نو تلواریں لٹک رہی تھیں ۔

میں نے جب یہ واقعہ پڑھا تو میں نے سوچا کہ دنیا میں کتنے لوگ ہوں گے جو مسلمانوں کی پہلی ریاست کی کمزور اقتصادی حالت کے بارے میں جانتے ہوں گے ،لیکن مسلمان آدھی دنیا کے فاتح ہیں یہ پوری دنیا جانتی ہے۔لہذا میں نے فیصلہ کیا کہ اگر مجھے اور میری قوم کو برسوں بھوکا رہنا پڑے ،پختہ مکانوں کی بجائے خیموں میں زندگی بسر کرنا پڑے ،تو بھی اسلحہ خریدیں گے،خود کو مضبوط ثابت کریں گے اور فاتح کا عزاز پائیں گے ۔

گولڈہ مائر کو اسرائیلی آئرن لیڈی کے نام سے جانتے ہیں ۔سہولتوں اور عیاشیوں میں بقاء ڈھونڈنے والوں بقاء صرف طاقت سے ملتی ہے ورنہ کیا لیبیا وعراق کے لوگ سہولتوں کے عادی نہ تھے ؟افواج پاک پر باتیں کرنے والوامریکہ اور برطانیہ تک جن کی خوشحالیوں پر تمہاری آنکھیں چکا چوند ہیں انکی تاریخیں تو پڑھو کہ انکی سہولتیں بھی سب طاقتور افواج رکھنے کی وجہ سے ممکن ہوسکیں ۔

آج وطن عزیز میں منظور پشتین اور اس جیسے دیگر غدار جن کی حیثیت حشرات العرض سے زیادہ کی نہ ہے کافی تعداد میں پائے جارہے ہیں ۔جن کا کام صرف افواج پاک کو عوام کی نظروں میں دشمن ثابت کرنا ہے ۔مگر یقین جانیے اگر پوری دنیا کے تمام طاغوتی ممالک ملکر بھی افواج پاک کو ختم کرنے پر تل جائیں تو پھر بھی افواج پاک کے ایک مجاہد ایک جانباز ،کے جوتا کا تسمہ بھی نہیں توڑ سکتے (انشاء اللہ)کیونکہ یہ بدروحنین کے جانشیں ہیں ۔

حضرت خالد بن ولید کی اولادیں،محمد بن قاسم کے ہمرکاب ،طارق کی للکاراور سلطان محمد فاتح کی یلغار ہیں افواج پاک ناقابل تسخیر ہے ۔یہ فوج ”فوج الٰہی“ ہے ۔اور فوج الٰہی کے ہوتے ہوئے دشمن پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنا تو دور کی بات آنکھ اٹھا کر دیکھ بھی نہیں سکتا (انشاء اللہ)آج اس مقدس دھرتی کا چپہ چپہ ان شہیدوں کے پاک لہو کا مقروض ہے کیونکہ لہو جو شہید کا ہے وہ قوم کی حیات ہے۔ہماری حکومت کو چاہیے کہ تعلیمی نصاب کے اندر ان عظیم المرتبت مجاہدان اسلام ،سرفروشان وطن کی شجاعت اور بہادری کے واقعات کو شامل کیا جائے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں محب وطن اور سرفروش جنم لیں ۔افواج پاک ”فوج الٰہی“ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Fouj e Elahi is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 15 October 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.