حکمران جماعت میں اور اپوزیشن میں جنگ تیز

جو سال بیت گیا اس کی یادیں اور اس کے حوالے سے نئے سال میں مختلف ایام ہیں۔ عوام کے سامنے بطور سند پیش کئے جاتے رہیں گے لیکن بیتے سال کا موازنہ اگر ماضی کے سالوں سے کریں تو یوں محسوس ہوتا ہے بلکہ سچائی کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے کہ

بدھ اپریل

hukmaran jamaat mein aur oppostion mein jung taiz

فیصل آباد ۔۔ احمد کمال نظامی

جو سال بیت گیا اس کی یادیں اور اس کے حوالے سے نئے سال میں مختلف ایام ہیں۔ عوام کے سامنے بطور سند پیش کئے جاتے رہیں گے لیکن بیتے سال کا موازنہ اگر ماضی کے سالوں سے کریں تو یوں محسوس ہوتا ہے بلکہ سچائی کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے کہ 2018ء ہوابازوں کا سال تھا۔ ہواباز ہمارے معاشرہ میں وہ افراد کہلاتے ہیں جو اپنی باتوں سے ایسا سبزباغ دکھاتے ہیں کہ ان کی کراماتی شخصیت کے سامنے بڑے بڑوں کے چراغ گل ہو جاتے ہیں اور جمہور پاکستان کی بدنصیبی کا انداز اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ 2018ء کے الیکشن سے قبل بلاامتیاز سیاسی جماعت اور سیاسی وابستگی اور الیکشن کے بعد ہمارے مقدر میں سواباز قیادت ہی لکھی ہوئی تھی۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف ہوابازی کے جوہر دکھانے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی تگ و دو میں مصروف رہے اور اسی کشمکش زندگی میں سال بیت گیا اور عوام کی بلند آہنگ چیخوں کی آواز ان بہرے کانوں تک پہنچ نہ پائی جو دعوے رہنمائی رکھتے تھے۔

(جاری ہے)

’’قفس میں کیا نظر آئے کسی دمساز کی صورت

فقط پر کھولنے سے کیا بنے پرواز کی صورت‘‘

قارئین محترم۔ نیا سال مبارک ہو۔ نیا طرز سیاست اور حکومت مبارک ہو۔ نیا پاکستان مبارک ہو( جمہور کہتی ہے کہ میرا پرانا پاکستان واپس کرو) اور قوم شکرگزار ہے کہ وطن عزیز میں جمہوریت قائم ہے۔ ریاستی ادارے قائم ہیں آزاد اور فعال ہیں اور احتساب کا عمل بلاتشخیص جاری ہے جس پر انتقامی سیاست کی مہر بھی ثبت کی جا رہی ہے جبکہ نئے سال کی مبارک باد یوں بنتی ہے کہ اس ہواباز قیادت کے غبارے سے احتساب کی تلوار کے وار سے ہوا نکلنے والی ہے کیونکہ نیا سال احتساب کا سال ہو گا اور نئے سال میں ہم لوٹی دولت کو اس کے حق داروں کے حوالے کرنے میں ناکام رہے تو یقین جانیے کہ نہ پھر کبھی احتساب ہو گا اور نہ لوٹی دولت واپس آئے گی۔ حال بدلے تو بات ہے ورنہ سال جاتا ہے سال آتا ہے اور علائے حق روایت بے عطائے زخم کرتی ہے، سجا لیتے ہیں سینے پر اعزاز کی صورت والی تصویر ہی دکھائی دیتی رہے گی۔ بیتے سال کے آخری مہینے دسمبرمیں شدید ترین اور لہو کی جما دینے والی سردی کے باوجود سیاست کی گرم بازاری کا یہ حال تھا کہ حکمران جماعت کے دعوؤں سے سیاسی فیکٹری کی چمنی اس قدر دھواں اگل رہی تھی کہ اس کا پیداواری حجم ہمیں حیران کر رہا تھا۔ اس وقت پاکستانی سیاست میں احتساب کے بڑے چرچے ہیں۔ لوٹ مار کی نت نئی کہانیاں اور سکینڈل سامنے آ رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ملک میں سب سے زیادہ کرپشن گزشتہ دس برسوں میں ہوئی اور بیتے ان دس برسوں میں تخت نشینوں نے ملکی خزانے کو بڑی بے دردی سے لوٹ۔ لوٹ مار کی ان کہانیوں میں ڈرائیوروں، مالشیوں ، ماڈلوں اور فالودہ و شربت فروشوں کا تذکرہ جمہور کی دلچسپی کا باعث بنا۔ اس لوٹ مار نے ملکی معیشت کو برے حالات میں پہنچا دیا۔ موجودہ حکومت کے سامنے سب سے بڑا ٹاسک یہی ہے کہ وہ کس طرح بدترین معاشی صورت حال کو بہتر بناتی ہے۔ پوری دنیا میں جس قدر جمہوری ممالک ہیں کرپشن ان میں بھی ہوتی ہے لیکن کسی جمہوری ملک میں کبھی ایسا ہوا ہے کہ جن کا چولہا بھی نہیں جلتا ان کے اکاؤنٹ میں اربوں اور کروڑوں روپے موجود ہوں اور وہ اپنی اس دولت سے بھی بے خبر ہوں۔ یہ پاکستان کا ہی اعزاز ہے۔ اگر سچائی اور صداقت کی کوئی روشن کرن عوام کو نظر آتی ہے تو بلاشبہ وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور دیگر جسٹس کے ان ریمارکس میں نظر آتی ہے جو مختلف مقدمات کی سماعت کے دوران اخبارات کی شہ سرخی بنتے ہیں۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ آتے ہی جس سونامی سیاست نے جنم لیا اور حکومت نے 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈال دیئے۔ اس طوفان کے اٹھنے کے نتیجہ میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ تحقیقات کے لئے کہا تھا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لئے نہیں حکومت کی بنیاد پر حکومت گرانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ حکومت نے 172 کے نام کیسے ای سی ایل میں ڈال دیئے۔ لہٰذا حکومت فیصلے پر نظرثانی کرے اور چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے انتباہ کیا کہ کوئی آئین سے ماورا قدم اٹھانے کی جرات نہ کرے۔ گورنر راج لگا تو ایک منٹ میں اڑا دیں گے۔ جے آئی ٹی کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی جے آئی ٹی پر بیان بازی پر پابندی عائد کر دی۔ جب تک عدالت عظمیٰ جے آئی ٹی رپورٹ پر کوئی فیصلہ نہیں کرتے اس وقت تک اپوزیشن اور حکومت دباؤ کا شکار ہیں۔ اگر ہم مرحوم ایئرمارشل اصغر خاں کے کیس کی بات نہ کریں جس پر عدالتی فیصلہ آ چکا ہے اور حکومت اس فیصلہ پر گزشتہ پچیس برسوں سے عمل نہیں کرا سکی۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کے ارکان بڑے وثوق کے ساتھ کہتے ہیں کہ کوئی این آر او نہیں ہو گا جبکہ ایف آئی اے نے ایئرمارشل اصـغر خاں کیس کو داخل دفتر کرنے کی حکومت سے سفارش کی ہے۔ یہ سفارش نہیں بلکہ این آر او ہے جو پاکستان کے 21کروڑ عوام کے لہو سے ہولی کھیلنے کے مترادف ہے ۔ وزیراعظم عمران خان اپنی پوری سیاسی زندگی میں کرپشن کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے قوم کو یقین دلاتے رہے کہ ایئرمارشل اصغر خاں کے کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے اور اب ایف آٖئی اے کے کاندھے پر بندوق رکھ کر این آر او کا فائر کر دیا گیا اور پوری قوم کی بے کفن لاش کو گور میں ڈالنے کی تیار ی کی جا رہی ہے۔ گویاکل تک بام ثریا پر بیٹھے لوگوں  کے چہروں پر آج بے بسی کی بولتی تصویر  دکھائی دے رہی ہے۔ حالانکہ اقتدار شہرت دولت اور عروج میں ہمیشہ آزمائش ہے جسے ہم اپنی ملکیت اور گھر کی لونڈی سمجھنے لگتے ہیں۔ بابا بلھے شاہ نے اس راز کو یوں بے نقاب کیا ہے۔ نہ کر بُلیا میری میری توں مٹی دی ٹیری(ڈھیری)۔ انسان بام عروج کے تخت پر بیٹھا اور جوانی کے نشہ میں بدمست ہو کر زمین پر زور زور سے پاؤں مارتا ہے اور بھول جاتا ہے کہ وہ محض ایک مٹی کی ڈھیری ہے۔ جب ٹھوکر لگتی ہے تو یاس اور ناامیدی کی تصویر بنا فضاؤں میں گھورتا رہتا ہے۔ ایئرمارشل اصغر خان کا کیس کرپشن، لوٹ مار اور قومی خزانہ پر ڈاکہ زنی کا دیباچہ ہے جسے این آر او کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے اوریہ مستقبل میں ہونے والے این آر او کی ایک جھلک بھی ہے۔

 اب آتے ہیں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہوابازی کی طرف، جنہوں نے کہا ہے کہ اگر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتہ میں حکومت گرا کر حکمرانوں کو جیل بھجوا سکتے ہیں۔ جے آئی ٹی رپورٹ جعلی ہے، جھوٹی اور فرضی ہے، ہر سازش کا مقابلہ کریں گے۔ سندھ حکومت گرانے کا خواب ہی رہے گا۔ لہٰذا اس وقت تو سیاست کی گرم بازاری نظر آتی ہے۔ اپوزیشن اور حکمران اپنے بیانات میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہوابازی کے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ شیخ رشید حسب معمول مارچ کے مہینے تک کی پیش گوئی کر رہے ہیں ۔ اومنی گروپ اور ان کا خاندان اور ملازمین ایک ہی کشتی کے سوار ہیںیقینا نئے برس میںجب حساب ہو گا اور بڑے پیمانہ پر کارروائی ہو گی تو گزشتہ برسوں کے کھاتے بھی کھلیں گے اور اس کی زد میں عام لوگ تو نہیں بڑی شخصیات ہی آئیں گی۔ 

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

hukmaran jamaat mein aur oppostion mein jung taiz is a political article, and listed in the articles section of the site. It was published on 03 April 2019 and is famous in political category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.