بھارت کی فوجی طاقت زوال کا شکار

عالمی میڈیا نے کمزور و ناقص دفاعی نظام کی قلعی کھول دی

جمعرات فروری

India Ki Fouji Taqak Zawal Ka Shikar
رابعہ عظمت
بھارت کا اصل نشانہ صرف پاکستان ہے جسے زیر کرنے کے لئے بھارت ہر سال اربوں کھربوں ڈالر کا جدید اسلحہ خرید کر ان کے انبار لگا رہا ہے۔یہ امر توجہ طلب ہے کہ دہلی کے حکمرانوں نے گزشتہ دس برس میں سو ارب سے زیادہ نئے ہتھیاروں اور دفاعی نظام کی خرید پر صرف کیے۔ اس مدت میں نئے جنگی جہازوں،میزائل،آبدوزوں،ٹینکوں،ہاویٹزر توپوں،سپیشل طیاروں اور دوسرے ہتھیاروں کی خرید کے لئے سودے کیے گئے۔

دوسری جانب بھارت کے ناقص و کمزور دفاعی نظام کی گونج دنیا بھر میں سنائی دے رہی ہے،اس کی ایئر فورس کی خستہ حالی،ناکارہ طیارے مودے حکومت کی ہزیمت کا باعث بن گئے ہیں یہ پاکستان کو 96 گھنٹوں میں تباہ کرنے والے بھارتی سور ماؤں کیلئے ندامت کا مقام ہے کہ عالمی میڈیا نے بھی بھارت کو کاغذی شیر قرار دے دیا۔

(جاری ہے)

گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کی فوجی طاقت زوال کا شکار ہے۔

بھارتی فضائیہ اس وقت 42 سکواڈرن کے ساتھ کام کر رہی ہے جن میں سے صرف 31 میدان میں آسکتے ہیں۔مگ 21 جیسے جہاز جو 1964ء کے دوران بھارتی فضائیہ میں شامل ہوئے،انہیں سالوں پہلے گراؤنڈ ہو جانا چاہیے تھا۔
آزاد کشمیر پر حملے کے دوران پاکستانی ایف سولہ کے ہاتھوں مگ 21 کی تباہی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے کیونکہ جنگیں اسلحے کے زور پر نہیں حوصلے سے بھی لڑی جاتی ہیں،ابھی نندن کو بھارت یاد رکھیں،پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بھارتی گیدڑوں کے طیارے کس طرح مار بھگائے۔

یہ حملہ 26 فروری 2019ء میں ہوا جو نریندر مودی کی سرکار کی کرتب بازی کے سوا کچھ نہیں تھا۔بھارتی ایئر فورس کی طرف سے بالا کوٹ پر حملے کے نتیجے میں 2 بلین ڈالر صرف آدھے گھنٹے میں ضائع کر دیئے۔امریکہ کے ایک 15 روزہ اخبار کی ایک رپورٹ Why Dying Indian Air Force Is کے مطابق بھارت میں جنگی جہازوں کی خریداری غیر موثر،نا اہلی اور افسر شاہی کا شکار ہے۔ بھارتی فضائیہ کے روسی ساخت کے MIG طیاروں کو Flying Coffin اڑتے تابوت اور بیوہ بنانے کا نام دیا جاتا ہے۔

ہمارے دشمن کی جنگی تیاریوں کا عالم یہ ہے کہ اس کے کئی جنگی طیارے حادثے کا شکار ہو چکے ہیں۔2015ء میں بھی بھارتی میڈیا کی جانب سے ایک رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں اعتراف کیا گیا تھا کہ بھارتی ایئر فورس ناقص مرمت اور پرانے جہاز ہونے کے سبب پاکستان اور چین کی ایئر فورسز کے ساتھ لڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے اور آج بھی بھارتی فضائیہ مگ 21 اور مگ 27 جیسے کئی سال قبل ریٹائر ہو جانے والے طیاروں پر انحصار کر رہی ہے۔


2016ء میں ایک جدید ترین نگراں طیارہ انتونیوف اپنے ساتھ 29 انجینئرز و ٹیکنیشنز اور تین پائلٹوں کے ساتھ ریڈار سے ایسا غائب ہوا کہ اب تک اس کا سراغ تک نہیں ملا۔بھارت کے مقابلے میں چینی فضائیہ میں لڑاکا طیاروں کی تعداد تین گنا زیادہ ہے،پاک فضائیہ کے پاس اس وقت 21 سے زائد لڑاکا اسکواڈرن ہیں جن میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔پاکستان اور بھارت نے مجموعی طور پر تین جنگیں لڑیں ہیں اور ہر مرتبہ پاکستانی ایئر فورس نے بھارتی فضائیہ کو ناکوں چنے چبوائے۔

بھارتی فضائیہ 1970ء سے 2015ء تک 1001 جہاز محض تکنیکی خرابیوں اور باقاعدہ مرمت نا ہونے کے سبب گنوا چکی ہے جو کہ ازخود ایک ریکارڈ ہے۔بھارت گزشتہ 33 برس سے ”تیجا“ نامی ہلکے طیاروں کر رہا ہے،یہ منصوبہ سال 1980ء میں شروع کیا تھا لیکن اب تک جو طیارے بھارتی فضائیہ کو دیے گئے وہ خرابی کے سبب بار بار گراؤنڈ کیے گئے ہیں۔طیارہ ساز بھارتی کمپنی ہندوستان ایروناٹکس کا دعویٰ ہے کہ وہ ہر برس انڈین ایئر فورس کو 18 تیجا لائٹ ون طیارے بنا کر دے سکتی ہے،لیکن خود بھارتی فضائیہ کا کہنا ہے کہ وہ بھارتی ساختہ تیجا لڑاکا طیاروں پر بھروسا نہیں کر سکتی۔


بھارتی فوج میں کرپشن عروج پر ہے راجیو گاندھی کا بو فورس گن رشوت سکینڈل اور تیجا نے بھارتی فضائی برتری کا پول کھول دیا ہے۔نریندر مودی نے اپنی ایئر فورس کو ساڑھے 400 ارب کا چونا لگا دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق بی جے پی کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کو 6.25 بلین ڈالر کے ٹھیکے سے نوازا اور تیجا جہاز لینے پر مجبور کیا جبکہ ہندوستانی فضائیہ پہلے دن ہی ان جہازوں کو ان کی تکنیکی مسائل کی وجہ سے مسترد کر چکی تھی۔

تیجا جہاز ہندوستانی 21-MIG جہازوں کے نعیم البدل کے طور پر متعارف کرائے جا رہے ہیں،کیونکہ 1970ء کے بعد سے 21-MIG کے حادثات میں 170 سے زیادہ پائلٹ اور 40 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ بھارتی ایوی ایشن سسٹم انڈسٹری اپنی غیر معیاری پیداوار اور دہائیوں پر محیط اپنی مسلسل ناکامیوں اور نا اہلیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں بدنام ہے۔دنیا میں خود کو چین کا متبادل اور مقابل متعارف کروانے والا ملک 26 سال میں اپنے تیار کردہ جہاز کی کینوپی کا فالٹ تک درست نہ کر پایا۔

مگ 21- کے فرسودہ بیڑے کی جگہ تیجا جہازوں کو متعارف کرایا گیا لیکن اب تک 60 فیصد تیجا گراؤنڈ ہو چکے ہیں۔مودی حکومت اور بھارتی ایئر فورس کا 27 جنوری کو تیجا جہاز استعمال نہ کرنا اس پروجیکٹ کی ناکامی کا عکاس ہے۔
اس کے مقابلے میں پاکستان کے شاہینوں نے پاکستان میں بنائے جانے والے 17-JF تھنڈر سے بھارتی سورماؤں کا خواب چکنا چور کیا اور ایک ایک 30-SU اور 21-MIG کو نشانہ بنایا۔

پاکستان کی یہ کامیابی پاکستان ایوی ایشن انڈسٹری کی مہارت اور پیشہ وارانہ صلاحیت کا ثبوت ہے۔پاکستان کے 2400 ٹینکوں کے مقابلے میں بھارت کے پاس 3500 ٹینک ہیں جن میں سے ایک ہزار روسی ساختہ ٹی نائنٹیز ہیں۔بھارت نے دیسی ساختہ ٹینک ارجن بنانے میں تین دہائیاں ضائع کر دیں،بھارت کا یہ ٹینک زیادہ لاگت،وزن اور مکینیکل ناکامی کا شکار ہو گیا۔

انڈیا کے مقابلے میں پاکستان ڈرونز پر کام کر رہا ہے جس کے پارٹس مقامی طور پر تیار کئے جائیں گے۔ پاکستان اسلحہ کی خریداری کے بجائے اس اسلحہ سازی کی طرف گامزن ہے۔پاکستان کو جس عیار‘مکار اور ففتھ جنریشن وار فیئر میں مہارت رکھنے والے دشمن کا سامنا ہے‘اس کے پیش نظر ہمہ وقت تیار رہنے اور اسے منہ توڑ جواب دینے کیلئے پر کمر بستہ رہنے کی ضرورت ہے۔

اس حوالے سے پاکستان کی طرف سے ہر طرح کے وسائل میں اپنے سے کئی گنا بڑے ملک کے مقابلے کیلئے کبھی غفلت کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ ففتھ جنریشن وار فیئر کے حوالے سے بھارت نے ہمیشہ جھوٹ مکاری اور جعل سازی کو اپنا مطمح نظر بنایا ہے۔
اس حوالے سے بھارت کو ڈس انفولیب کے انکشافات نے بے نقاب کیا ہے۔بھارت کے جھوٹے پراپیگنڈے سے اقوام متحدہ جیسے دنیا کے اعلیٰ ترین ادارے کو بھی گمراہ کرنے کی سازشیں کی جاتی رہیں مگر بھارت کا سیاہ چہرہ سامنے آنے کے باوجود کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔

اقوام متحدہ کی طرف سے اپنے اختیارات سے صرف نظر کے باعث ہی بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کی تضحیک اور توہین کرتا آرہا ہے۔ پاکستان اپنے دشمن ملک کی طرح ہی ایٹمی قوت ہے۔اس معاملے میں بھی بھارت نے پہل کی اور پاکستان کو بھی ایٹمی قوت کے حصول کی ناگزیریت کا ادراک ہوا۔پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں کہیں زیادہ معیار کا ایٹم بم بنا لیا جس سے پاکستان کا دفاعی حصار ناقابل تسخیر ہو گیا۔

بھارت کے مالی وسائل بھی پاکستان سے کئی گنا زیادہ ہیں جن کو وہ پاکستان کیخلاف اسلحہ کی خریداری میں اپنی جنتا کی بنیادی انسانی ضروریات کی قیمت پر جھونک رہا ہے۔بھارت کے دفاعی بجٹ میں ہر سال بلا ضرورت متعدبہ اضافہ کر دیا جاتا ہے۔بھارت کا دفاعی بجٹ پاکستان کے مجموعی بجٹ کے کم و بیش برابر ہے۔پاکستان اسلحہ کی دوڑ میں کبھی شامل رہا نہ اپنے دفاع سے غافل رہا ہے۔

بھارت کو دنیا سے جدید اور مہلک اسلحہ جمع کرنے کا خبط ہے۔پاکستان نے دنیا سے اسلحہ خرید کر بھارت کے مقابل آنے کے بجائے‘اسلحہ کے معیار‘اس میں خود کفالت اور افواج کی مہارت کو اپنے دفاع کا اصول بنایا ہے۔افواج کی مہارت کے حوالے سے بات کی جائے تو پاکستان کا شمار دنیا کی صف اول کی دو تین افواج میں ہوتا ہے۔
گوکہ ایک عالمی رپورٹ میں پاکستان کا دسواں جبکہ بھارت کا چوتھا نمبر بتایا گیا ہے مگر یہ درجہ بندی کئی عوامل کو شمار کرکے کی گئی ہے جس میں آبادی‘رقبہ‘عالمی‘وسائل‘فوج کی تعداد اور اسلحہ کی مقدار وغیرہ کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔

اگر مقابلے اور کارکردگی کی بات کی جائے تو پاکستان کا ہر محاذ پر پلڑا بھاری رہا ہے۔اس میں ایل او سی پر آئے روز دشمن کی توپوں کو خاموش کرانا شامل ہے۔پاک فوج کی طرف سے بھارت کے کتنے ہی ڈرون مار گرائے گئے۔پاک فضائیہ کی بات کی جائے تو 27 فروری 2019ء کا دن تاریخ میں امر ہو چکا ہے جب بھارت کے دو فائبر جہاز گرائے گئے تھے۔اس کے چند ہی دن بعد اسٹیلتھ آبدوز پاکستان کے پانیوں کا رخ کرتے ہوئے نشانہ پر لے لیا اور پھر اسے جانے دیا۔

پاکستان کی تینوں افواج بہترین کوار ڈی نیشن کے ذریعے دشمن کو اس کی جارحیت کا بارڈر کے اندر ہو یا باہر‘بھرپور جواب دے رہی ہیں اور قوم اس فوج کے شانہ بشانہ ہے۔بلاشبہ قوم اپنی افواج کے ساتھ ہو تو اسے اس صورت میں شکست نہیں دی جا سکتی جب دفاع کے لوازمات پورے ہوں اور وہ اسلحہ کے معیار اور افواج کی مہارت کی بھی حامل ہو۔پاک افواج دنیا کی بہترین افواج میں اس لئے بھی شامل ہے کہ اس کو دیگر افواج کے مقابلے میں نہ صرف دہشت گردی سے نمٹنے کا تجربہ ہے بلکہ وہ زلزلوں‘سیلابوں اور کرونا جیسی بیماریوں کے تدارک کیلئے بھی اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔


پاک افواج جہاں فعال رہنے اور آپس کے بہترین رابطوں کیلئے مقامی سطح پر مشقیں کرتی ہیں‘وہیں دوسرے ممالک کے ساتھ بھی یہ پریکٹس دہرائی جاتی رہتی ہے۔گزشتہ روز ہی 45 ممالک کی سمندری افواج نے پاکستان میں مشقیں کیں۔پاک فضائیہ اور بری فوج بھی اندرون اور بیرون ممالک مشقوں کے ذریعے اپنی مہارت کو آہنی بناتی ہیں۔ پاکستان اپنے دفاعی امور سے سرمو صرف نظر نہیں کرتا۔

ایٹمی قوت بننے سے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہو چکا ہے۔جدید تقاضوں کے مطابق ایٹمی سمیت ہر ٹیکنالوجی کو اپ ڈیٹ رکھا جاتا ہے۔اس حوالے سے راکٹ اور میزائل تجربات ہوتے رہتے ہیں۔ٹینکوں مشاق اور جے ایف تھنڈر 17 فائٹر طیاروں کو اپ گریڈ کیا جاتا ہے۔حالیہ دنوں جے ایف تھنڈر کا ڈبل سیٹر جہاز کا ورجن سامنے لایا گیا جسے اگلے مرحلے میں مزید اپ گریڈ کرکے اسٹیلتھ بنانے کے ساتھ ساتھ ففتھ جنریشن کے قریب تر لایا جائے گا۔بلاشبہ پاک افواج بھارتی جارحانہ عزائم کیخلاف ہر محاذ پر ڈٹی ہوئی ہیں اور دشمن کے ہر وار کا جواب دینے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

India Ki Fouji Taqak Zawal Ka Shikar is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 25 February 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.