اسلام و فوبیا کی حقیقت

اسلام و فوبیا دراصل دو کمپونینٹس پر مشتمل ہے اسلام ایک مذہب ہے جو کہ اپنا مذہبی نظریہ رکھتا ہے جس کے پیروکار مسلمان کہلائے جاتے ہیں اسلام صرف ایک ہے

نازش ملک پیر فروری

islamophobia ki haqeqat
اسلام و فوبیا دراصل دو کمپونینٹس پر مشتمل ہے اسلام ایک مذہب ہے جو کہ اپنا مذہبی نظریہ رکھتا ہے جس کے پیروکار مسلمان کہلائے جاتے ہیں اسلام صرف ایک ہے جو کہ صرف ہمارے نبی حضرت محمدؐ کا ہے جن کو امتِ مسلمہ فالو کرتے ہیں
جبکہ فوبیا ایک میڈیکل سائکلوجیکل ٹرم ہے جو شدید نفرت خوف ناپسندی اور قبل ازوقت فیصلہ ہے  
دقیانوسی اور معقول اہداف جو مسلمانوں پر کئے حملے کی صورت میں کیے جاتے ہیں دراصل یہی اسلام فوبیا ہے
ایک بات ذہن نشین کرلی جائے کہ اسلام فوبیا نہیں بلکہ امن کا درس دیتا ہے حقیقت میں اسلام فوبیا کی رٹ وہی لگاتے ہیں جو اس مذہب سے اسے ماننے والوں سے ان کے کلچر سے ڈرتے ہیں جنہیں مسلمانوں کی طاقت سے خوف ہے
مختلف سکالرز اسلام فوبیا کوXenophobia اور Racism سے تشبیح دیتے ہیں
دہشت گردی کو اسلام سے جوڑ کر پوری دنیا میں مسلمانوں اور اسلام سے کھلم کھلا نفرت کا اظہار کیاجاتاہے
اسلام فوبیا کا شدید رجحان گیارہ ستمبر 2001 کو امریکہ کے شہر نیویارک میں ایک بلڈنگ ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ ہوا جو کہ امریکہ کے اپنے پالے گئے گروہ القاعدہ نے بمباری کی اور اس حملےکو بعد ازاں قبول بھی کرلیا
جبکہ امریکہ نے خود سوویت یونین کو شکست دینے کے لئے انتہا پسند جماعتوں کی مالی مدد کی اور ان کو ٹریننگ دی۔

(جاری ہے)


حملہ آوروں نے حملہ اسلام کی آڑ میں کیا جبکہ اس کے محرکات کچھ اور تھے اسی کے بعد امریکہ نے افغانستان پر یلغار کردی اور مغرب نے ان واقعات کو اسلام سے جوڑنے کی بھرپور کوشش کی
مجاہدین اور طالبان حقیقتاً امریکہ کے اپنے ہی پالے ہوئے تھے جو اسلام کا نام لے کر اپنا سیاسی ایجنڈا پورا کرنا چاہتے تھے
انتہاپسندی کو ہمارے پیارے مذہب اسلام سے جوڑا گیا جبکہ انتہا پسندی کی وجہ کسی بھی معاشرے میں انصاف کی عدم فراہمی ہے جب کسی معاشرے میں انصاف کا بول بالا ختم ہوتا ہے تو لوگ انتہا پسندی کی طرف راغب ہوتے ہیں
دہشتگرد اور انتہاپسند صرف مسلمان نہیں بلکہ ہر مذہب میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں
نفرت اور ظلم کی انتہا اس حد تک پہنچی کہ امریکہ نے برسرِ خود القاعدہ کے ہاتھوں حملہ کروا کر سارا الزام مذہب اسلام پر لگا دیا۔


اسلام فوبیا کا تصور ایک سو پچیس سال پہلے وجود میں آیا مگر نائن الیون کے واقعے کے بعد اسلام فوبیا کی شدت میں اضافہ ہوا اور سارا ملبہ مسلمانوں پر ڈال دیا گیا اس واقعے کے بعد مسلمانوں پر دہشت گرد اور انتہا پسندی کا لیبل لگایا گیا۔
کیا اس سے پہلے والے دہشت گردانہ واقعات مغرب اور دنیا کو نظر نہیں آئے؟
دہشت گردی کو ہمیشہ صرف اسلام سے کیوں جوڑا جاتا ہے بیشک اس کا جواب تو وہی مغرب ممالک ہی دے سکتے ہیں اگر کوئی مسلمان لیڈر ان سے پوچھنے کی ہمت کرے تومسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ بہت تکلیف دہ عمل ہے جس سے مسلمانوں کو روندا جارہا ہے ہمارے مسلمان لیڈر دنیا پر یہ واضح کیوں نہیں کرتے کے اسلام امن کا درس دیتا ہے دہشتگردی کا نہیں ہمارے مسلمان لیڈر کیوں واضح نہیں کرتے کہ نائن الیون سے پہلے بھی ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں انہیں تو کسی مذہب سے نہیں جوڑا گیا
75% حملے تامل ٹائیگرز کرتے تھے جو کہ ہندو تھے مگر کسی نے حتیٰ کے مغرب نے بھی اسی انتہاپسندی کو ہندو مذہب سے نہیں جوڑا
اسرائیل کئی دہائیوں سے فلسطین کے مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھا رہا ہے مگر کسی نے بھی اس انتہا پسندی کو یہودی مذہب سے نہیں جوڑا  
1968 سے 1998 تک برطانیہ اور آئرلینڈ کے درمیان سرحدی تنازعہ چلتا رہا جس کے نتیجے میں 3600 جانیں ضائع ہوئی مگر کسی نے اس کو عیسائیت مذہب سے نہیں جوڑا ۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اسلام فوبیا میں 2002 میں گجرات کے مسلمانوں کا قتل کیا بھارت جو کہ کافی عرصہ سے اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھ رہا ہے 70 سالوں سے مظلوم اور نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کی انتہا ڈھا رہا ہے 15 اگست 2019 سے وادیِ کشمیر کوبنیادی حقوق بھی میسر نہیں ہیں مگر ابھی تک کوئی بھی ان مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لئے قدم نہیں اٹھا رہا یہاں مغرب کو ہندو فوبیانظر نہیں آرہا ۔

مگر اس تمام انتہا پسندی کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔
اسلام فوبیا کی بنیادی وجوہات دہشتگردی اور نسلی تعصب ہے تمام مغربی ممالک اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں مسلمانوں کو کمزور اور ختم کرنے کے لیے دہشت گردی جیسے لیبل لگا دیے جاتے ہیں جو کہ مسلمانوں سے خوف کی واضح مثال ہے ۔وزیراعظم پاکستان عمران خان نے عالمی رہنماؤں کے سامنے اقوام متحدہ میں جرات مندانہ اقدام اٹھا کر واضح پیغام دیا کہ مسلمان ہتھیار کیوں اٹھاتے ہیں جب یہودی ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے ان کے توہین آمیز خاکے بنائے جاتے ہیں  ۔


1989 میں ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے کے لیے باقاعدہ کتاب شائع کی گئی جس سے مسلم دنیا میں ردِ عمل آیا اور انہی وجوہات کی بناء پر مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہوتا ہے
اسلام فوبیا جیسے لیبل کو ختم کرنے کے لئے امت مسلمہ اور لیڈران مسلم کو جرات مندانہ طور پر دنیا کے سامنے اسلام اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خوبصورت اور پُر امن پہلو پیش کرنا ہوگا
مسلمان اپنی طاقت کو پہچانیں مغرب کے خوف سے چھٹکارا حاصل کریں قرآن اور نبی پاکؐ کی سنت پر پیروی کرکے مذہب اسلام کو مغربی دنیا میں قابل فخر بنائے
As long as Muslims have the QURAN in their hands,
Europe will never prevail against the East.
 "Sir Gladstone"
انشاءاللہ قریب میں ہی مسلمانوں اور اسلام کا بول بالا ہو گا اور تمام انتہاپسندوں کے اصلی چہرے دنیا کے سامنے آئیں گے۔


"ہمیشہ ہی نہیں رہتے کبھی چہرے نقابوں میں
سبھی کردار کھلتے ہیں کہانی ختم ہونے پر"

Your Thoughts and Comments

islamophobia ki haqeqat is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 17 February 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.