خادم رضوی کون تھے؟

موت کے بعد زندہ ہونے کی افواہ کس نے پھیلائی

Mian Muhammad Nadeem میاں محمد ندیم اتوار نومبر

Khadim Rizvi Kon Thay
مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک کے بانی خادم حسین رضوی کے بارے میں کچھ سال پہلے تک کوئی نہیں جانتا تھا 2011میں پنجاب پولیس کی جانب تعینات سیکورٹی ممتازقادری نے گورنرپنجاب سلمان تاثیر کواسلام آباد میں اندھادھندفائرنگ کرکے قتل کردیا تو علامہ خادم رضوی کا نام پہلی مرتبہ منظرعام پر آیا۔ حتی کہ لاہور میں مذہبی جماعتوں کی بیٹ کرنے والے صحافیوں کو بھی ان کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا ہم نے کوئی بیس سال سے زیادہ مذہبی جماعتوں کی بیٹ کی علامہ خادم حسین رضوی کا نام پہلی مرتبہ ممتازقادری کی رہائی کے لیے چلائی جانے والی تحریک کے دوران ہی سامنے آیا اس تحریک کے آغازمیں بھی وہ تیسرے درجے کی لیڈرشپ میں شمار ہوتے تھے۔

جنرل پرویزمشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے ایم کیوایم کے سرپرستی شروع کردی جس کی وجہ سے کراچی میں سنی تحریک کے لیے مسائل پیدا ہونے لگے جس کے بعد سنی تحریک نے لاہور میں قدم جمانے شروع کردیئے۔

(جاری ہے)

بنیادی طور پر اس تحریک کا آغاز ایس ٹی(سنی تحریک) نے لاہور کے بریلوی مکتبہ فکر کے مدارس اور جماعتوں کے ساتھ مل کر کیا تھا ‘ یہ وہ وقت تھا جب بریلوی مکتبہ فکر میں مذہبی اور سیاسی قیادت کا فقدان تھا مولانا شاہ احمد نورانی 2003میں وفات پاچکے تھے ان کے بعد 2009جامعہ نعیمیہ کے متہم ڈاکٹرسرفرازنعیمی کی شہادت ہوگئی اسی طرح یکے بعد دیگر جمعیت علماء پاکستان (نیازی)کے انجنیئرسلیم اللہ خان سمیت بریلوی مکتبہ فکر کی قیادت کرنے والی لیڈرشپ اس دنیا سے رخصت ہوچکی تھی ۔

علامہ خادم حسین رضوی کے قریبی ساتھی پیر افضل قادری نے اپنی جماعت تنظیم اہلسنت کے ذریعے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کی اور صاحبزادہ فضل کریم‘سید محفوظ شاہ مشہدی کے ساتھ مل کر سنی اتحاد کونسل کے نام سے بریلوی مکتبہ فکر کے مذہبی اور سیاسی خلاء کو پر کرنے کی کوشش کی مگر ناکام ہوکر دوبارہ لاہور سے اپنی خانقاہ نقیب آباد موموہڑہ گجرات واپس چلے گئے ۔

اصل میں بریلوی مکتبہ فکر میں قیادت کا بحران رہا 1948میں شیخ القران مولانا محمدعبدالغفور ہزاروی ‘ علامہ ابوالحسنات اورسید محمد احمد قادری نے ”آل انڈیا سنی کانفرنس“ کی جگہ جمعیت علمائے پاکستان کی بنیاد رکھی مگر 1970 میں مولانا عبدالغفورہزاروی کی وفات کے بعد مولانا عبدالستار خان نیازی اور مولانا شاہ احمد نوارانی کے مابین اختلافات کی بنیاد پر جمعیت علمائے پاکستان (جے یوپی)دودھڑوں میں تقسیم ہوگئی ان دونوں راہنماؤں کی زندگیوں تک بریلوی مکتبہ فکر کومظبوط مذہبی اورسیاسی قیادت میسر رہی ۔

قیادت میں جو خلاء آیا تھا اس کی وجہ سے پرامن بریلوی مکتبہ فکر میں کسی حد تک شدت کا عنصر آگیا سنی تحریک چونکہ کراچی سے شروع ہوکر لاہور آئی تھی اور اس وقت کی مین سٹریم بریلوی قیادت کی جانب سے انہیں پذیرائی نہیں ملی تھی لہذا انہوں نے متبادل قیادت پر کام شروع کردیا جس کا نتیجہ پہلی مرتبہ لاہور میں اس وقت دیکھنے میں آیا جب14فروری2006کو ڈنمارک کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف بریلوی مکتبہ فکر کی داتا دربار سے گورنر ہاؤس جانے والی ایک ریلی نکالی گئی جس نے مال روڈ پر آکر ایک پرتشددہجوم کا روپ اختیار کرلیا۔

سنیئرصحافی شہبازانورخان‘برادرم سلمان غنی‘عاصم حسین‘قذافی بٹ اور مزمل سہروردی کے ساتھ ہم لوگ داتا دربار سے جلوس کے ساتھ آرہے تھے ٹاؤن ہال کے سامنے پہنچنے پر جلوس کے شرکاء میں ہلچل مچل گئی جس پر ہم ساتھی فوٹوگرافروں سے لفٹ لے کر ہائی کورٹ سے آگے پہنچے تو ایک طرف شیزان ریسٹورنٹ جل رہا تھانقاب پوش نوجوان ”بوتل بم“انتہائی مہارت سے ریسٹورنٹ کے اندر پھینک رہے تھے جلانے سے پہلے ریسٹورنٹ کو لوٹا گیا تھا یہی حال شیزان کے قریب واقع گاڑیوں کے ایک شوروم کا ہوا۔

لاہور میں اس دن ہزاروں موٹرسائیکلیں جل کر راکھ ہوگئیں ‘درجنوں گاڑیوں کو جلادیا گیا کئی بنکوں کے اے ٹی ایم توڑ کر پیسے چرالیے گئے وہ دن لاہور کی تباہی کا دن تھا ایجرٹن روڈ پر ایک عمارت کی پارکنگ میں کھڑی درجنوں موٹرسائیکلیں مکمل طور پر جلی ہوئی تھیں وہ واقعی ہی ایک خوفناک دن تھا۔ اصل مسئلہ وہی تھا قیادت کا فقدان 14فروری2006کو پیش آنے واقعات کے بعد ڈاکٹرسرفرازنعیمی شہید نے خود کو ان معاملات سے الگ کرلیا تھا کیونکہ وہ انتہائی پرامن اور نفیس انسان تھے لاہور میں جو کچھ ہوا اس پر وہ خود صدمے میں تھے جس کا اظہار انہوں نے میرے ساتھ اسی رات فون پر بات کرتے ہوئے کیا۔

علامہ خادم حسین رضوی حافظ قرآن ہونے کے علاوہ شیخ الحدیث بھی تھے اور عربی کے ساتھ فارسی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے ان کے دو بیٹے بھی مختلف احتجاج میں شریک رہے ہیں خادم حسین ٹریفک کے ایک حادثے میں معذور ہو گئے تھے اور سہارے کے بغیر نہیں چل سکتے تھے یہ ان کے کریڈٹ ہے کہ انہوں نے ویل چیئرپر بیٹھ کر اتنی بڑی تحریک کھڑی کی وہ بھی محض چند سالوں میں۔

مصدقہ اطلاع ہے کہ علامہ خادم حسین رضوی کی موت کورونا وائرس کے باعث ہوئی ان کے قریبی ذرائع نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے ان کے خاندان اور قریبی رفقاء کا کہنا ہے کہ وہ کئی دنوں سے بخار اور زکام میں مبتلا تھے اور انہیں کچھ دنوں سے وہ سانس میں دشواری کی شکایت تھی۔ شیخ زید ہسپتال کے ایک سنیئرعہدیدار نے تصدیق کی کہ ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کے کورونا ٹیسٹ کے لیے سیمپل لیے تھے جن کے نتائج مثبت آئے تھے جب علامہ خادم رضوی کو جب ہسپتال لے جایا گیا تو وہ انتقال کرچکے ہیں کیونکہ ہسپتال پہنچنے کے فوری بعد ان کی ای سی جی کی گئی جس کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے دل کی دھڑکن مکمل طور پر بند ہوچکی تھی۔

اسی دوران تحریک لبیک پاکستان کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک پیغام جاری کیا گیا کہ وہ ”علامہ خادم رضوی زندہ ہوگئے ہیں“اس پیغام کے بعد نہ صرف سوشل میڈیا پر ہلچل مچل گئی بلکہ کئی بڑے چینلزکے نیوزروموں میں خبرتیار کرکے فیلڈ میں موجود رپورٹر زپر دباؤ ڈالا جارہا تھا کہ وہ اس کی جلد تصدیق کریں کیونکہ اس خبر سے ریٹنگ آسمانوں کو چھونے لگتی میرے ایک انتہائی قریبی دوست جو بڑے ٹیلی ویژن چینل کے لیے کام کرتے ہیں وہ 19نومبر کوشام9بجے سے علامہ خادم رضوی کی رہائش گاہ کے باہر موجود تھے۔

ان پر بھی نیوزروم کی جانب سے شدید دباؤ تھاوہ کہتے ہیں کہ ”میں اس صورتحال میں تصدیق کیسے کرسکتے تھے کیونکہ اس وقت رضوی صاحب کا جسد خاکی میرے سامنے تھامگر اس وقت سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہوچکا تھااور اب تک اایسی افواہوں کا سلسلہ جاری ہے یہ طرزعمل انتہائی افسوسناک ہے کہ محض چند ویوزیا شہرت کے لیے ایسی بے بنیاد خبریں پھیلائی جارہی ہیں۔

اس سے بھی زیادہ افسوسناک عمل یہ ہے کہ یہ سلسلہ ”ٹی ایل پی“کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے شروع ہوا انڈوپاک میں یہ روایت بڑی پرانی ہے ڈاکٹر غلام جیلانی برق(مرحوم)نے کمال کا جملہ کہا کہ ”ہم عقیدت میں اتنا آگے نکل جاتے ہیں کہ عقیدہ کہیں بہت پیچھے رہ جاتاہے“ یہ ”ٹی ایل پی“کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے پیغام پر صادق آتا ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Khadim Rizvi Kon Thay is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 22 November 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.