روشنیوں کے شہر کراچی میں کچرے کی سیاست؟

قبضہ مافیا قیمتی اراضی پر شب خون مارنے کیلئے سر گرم سیاسی جماعتوں کا گندگی کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے پر کیچڑا چھالنا سوالیہ نشان ہے

جمعہ اگست

Roshniyon k sheher Karachi main kachre ki siasat
 راؤ محمد شاہد اقبال
ذرا شہر کراچی کی بد قسمتی ملا حظہ ہو کہ کل تک جہاں گلی گلی سیاسی جماعتیں قیمتی زمینوں پر قبضہ کے لئے باہم دست وگر یبان تھیں ،آج وہیں قریہ قریہ سیاسی جماعتوں کے رہنما کچرا اٹھانے اور نہ اٹھانے پر ایک دوسرے سے لڑ جھگڑ رہے ہیں۔خدا خدا کرکے کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بر وقت مداخلت اور کامیاب کارروائیوں نے برسوں سے جاری بھتہ خوری ،اغوا ،چوری چکاری،ٹارگٹ کلنگ اور ہڑتالوں سے تو شہریوں کی جان خلاصی تو کروادی لیکن اب سیاسی جماعتوں نے شہر کراچی کے باسیوں کو کچرا اٹھانے اور نہ اٹھانے کے ایک نئے عذاب میں مبتلا کر دیا ہے۔


کچرے کا یہ عذاب، قتل وغارت گری اور لوٹ مار کے عذاب سے کسی صورت کم نہیں کہا جا سکتا، ماضی میں دہشت گردی کا عفریب کراچی کے جس شہری کو بھی اپنا شکار بناتا تھا اس کا فوراً معلوم بھی ہو جاتا تھا مگرکچرا تو ایک ایسا خاموش قاتل ہے جو ہر روز سینکڑوں شہریوں کو راہی ملک عدم بھی بناتا ہے اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہونے دیتا،شاید یہ ہی وجہ آج کراچی میں جس جگہ پر سب سے زیادہ لوگوں کا اژدھام نظر آتا ہے،وہ ہسپتال ہیں،پرانے ہسپتالوں کی رونق اور نئے ہسپتالوں کی تعمیر درتعمیر کے پیچھے بھی کراچی کے دل و عرض میں پھیلے ہوئے لاکھوں ٹن کچرے کا اہم ترین کردار ہے ،اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کراچی میں روز بروز پھیلتا ہوا یہ کچرا آخر تلف کس نے کرنا ہے؟کیااس کی ذمہ داری بلد یہ عظمیٰ کراچی پر عائد ہوتی ہے یا اس کی ذمہ دار سندھ حکومت ہے یا کچرے کا یہ ملبہ بھی وفاقی حکومت کے سر ڈال کر ہم سب اپنے اپنے ہاتھ جھاڑ کر ایک طرف اطمینان سے بیٹھ سکتے ہیں۔

(جاری ہے)


روشنیوں کے شہر کراچی کو اگر کچرے سے نجات دلانی ہے تو ہمیں اس بنیادی سوال کا جواب بہر صورت تلاش کرنا ہو گا کہ کراچی کا کچرا اٹھانے کی بنیادی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟یہ وہ لاینحل تنازع ہے جو آج کل کراچی کی سیاست کا مرکز ومحور بنا ہواہے اور پچھلے دنوں اس تنازع نے ایک شدید ترین عوامی وانتظامی تصادم کی شکل بھی اختیار کرلی تھی ،وہ تو اچھی بات یہ ہوئی کہ کچرا کے نام پر بپا کئے جانے والے اس تصادم میں کسی بھی قسم کا جانی ومالی نقصان نہیں ہوا مگر آئندہ بھی ایسا ہی ہو گا شاید اس بات کا یقین کوئی بھی نہیں دلا سکتا نہ تو سندھ حکومت اور نہ ہی فکس اِٹ کے بانی وتحریک انصاف کے منتخب رکن سندھ اسمبلی عالمگیر خان ۔


یاد رہے کہ عالمگیر خان نے فکس اِٹ نامی غیر سر کاری تنظیم بنائی ہی اس لئے تھی کہ کراچی کو کچرے سے صاف کرکے اسے اس کی خوب صورتی واپس لوٹائی جا سکے اور اس حوالے سے فکس اِٹ نے اپنے قیام کی ابتدائی دنوں میں اپنی مدد آپ کے تحت شہر کراچی سے کچرا اٹھانے کیلئے کئی مستحسن منصوبے شروع بھی کئے تھے لیکن پھر وہ تمام منصوبے ادھورے چھوڑ دیئے گئے کیونکہ ان صاف ستھرے منصوبوں سے شہر کا کچرا تو کسی نہ کسی حد تک صاف ہورہا تھا مگر فکس اٹ بطور ایک این جی او کے اس طرح سے مشہور معروف نہیں ہو پار ہی تھی جس طرح کہ اسے ہونا چاہئے تھا پس کافی سوچ بچار کے بعد فکس اٹ نے کراچی کے کچرے کو اٹھانے پر مجبورکرنے کے لئے سندھ حکومت کے خلاف سوشل میڈیا ،الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا اور کراچی کے گلی کوچوں میں بھر پور تشہیری مہم چلانے کا آغاز کر دیایہ مہم سندھ حکومت کو تو کراچی کا کچرا اٹھانے پر مجبور نہیں کر سکی لیکن اس منفرد تشہیری مہم نے فکس اٹ کو ضرور زمین سے اٹھا کر شہرت کے ساتویں آسمان پر پہنچادیا جس کا پہلا بڑ ا فائدہ یہ سامنے آیا کہ فکس اٹ کے بانی عالمگیر خان کراچی کے عوامی حلقہ سے نکل کر سندھ اسمبلی کے ساتھ اسمبلی کے خاص حلقہ تک جا پہنچے لیکن کراچی کا کچر ا بد ستور اپنی جگہ پر موجود رہا ۔


سندھ حکومت جو ماضی میں کبھی کبھار فکس اٹ کی ایک آدھ بات پر اپنے کان دھر لیا کرتی تھی ،اب عالمگیر خان اور ان کی فکس اٹ کو اپنے ایک سیاسی حریف کے طور پر ہی لے رہی ہے ۔پاکستان پیپلز پارٹی کا موٴقف ہے کہ عالمگیر خان کے تحریک انصاف کے انتخابی نشان پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد فکس اٹ اپنی غیر جانبدار انہ ساکھ برباد کر چکی ہے اس لئے اب ان کے نزدیک فکس اٹ کی آگہی مہم اور تحریک انصاف کی سیاسی سر گرمیوں میں ذرہ برابر فرق نہیں ہے یعنی اگر فکس اٹ کر اچی کا کچرا اٹھانے کے لئے کوئی بھی مہم چلائے گی تو سندھ حکومت اسے اپنی سر کار کے خلاف ایک سیاسی احتجاج تصور کرے گی اور سیاسی احتجاج کے ساتھ جورویہ کسی حکومت کی طرف سے اختیار کیا جاتا ہے وہ سیاسی رویہ فکس اٹ کے ساتھ بھی اختیار کیا جائے گا جبکہ فکس اٹ کے بانی عالمگیر خان کا موٴقف ہے کہ فکس اٹ اور تحریک انصاف یکسر الگ الگ ہیں مگر کیسے؟صاف اور واضح لفظوں میں یہ بات فی الحال وہ بھی کسی کو نہیں سمجھا پارہے ہیں دو سری طرف وزیر بلد یات سعید غنی دہائی دے رہے ہیں کہ ایم کیو ایم تحریک انصاف اور فکس اٹ تینوں مل کر انہیں اور ان کی حکومت کو سیاسی طور پر کراچی کے کچرے پر بلیک میل کر رہے ہیں،رواں ہفتہ کراچی میں برسوں بعد آسمان سے چند گھنٹے ابر رحمت کیابرساکہ شہر کا کچر ہ زدہ چہرہ کچھ اور ابھر کر سامنے آگیا ہے جس کے بعد کراچی میں کچرے کی سیاست مزید شدت اختیار کر چکی ہے اور سیاسی جماعتیں کچرے کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کررہی ہیں آنے والے دنوں میں کچرے کی یہ سیاست کیا رنگ روپ دکھائے گی فی الحال ہم کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن ایک بات ضرور پورے یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ کراچی کا کچرا شاید اب بہت زیادہ عرصے تک شہر کے گلی کوچوں میں یونہی بکھرا نہیں رہ سکتا اس لئے کراچی شہر پر راج کرنے والی سیاسی جماعتوں اور مستقبل میں راج کرنے کا خواب دیکھنے والے عوامی رہنماؤں کو سوچنا ہو گاکہ اگر انہیں اپنی سیاسی بقاء عزیز ہے تو پھر فوری طور پر شہر کراچی کو کچرے سے پاک کرنا ہو گا کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شہر اور اس کے باسی کچرے پر سیاست کرنے والے سیاست دانوں کو ہی کچرے کی طرح اٹھا کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے باہر پھینک دیں۔


Your Thoughts and Comments

Roshniyon k sheher Karachi main kachre ki siasat is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 09 August 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.