تبدیلی کے دعوے‘ حقیقت بنیں گے؟

عمران کے نعروں، وعدوں سے غرض نہیں لیکن بچوں کا نعرہ تبدیلی آئی حقیقت کی شکل اختیار کرتا نظر آیا۔ یہ تبدیلی کون سی شکل میں سامنے آتی ہے

پیر ستمبر

tabdeeli ke daaway haqeeqat bany gay
احمد کمال نظامی
قومی سطح پر پیپلزپارٹی متحدہ اپوزیشن کی تنقید کا نشانہ بن رہی ہے تو فیصل آباد میں تحریک انصاف کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی شہر اور ضلع سے کسی کو کلیدی وزارت اور بالخصوص وزارت ٹیکسٹائل نہ ملنے پر تشویش میں مبتلا ہیں۔ وفاقی وزارت ٹیکسٹائل 2002ء کے عام انتخابات کے بعد پرویزمشرف دور میں قائم کی گئی تھی جب مشتاق علی چیمہ کو وفاقی وزیر ٹیکسٹائل انڈسٹری بنایا گیا۔

اس کے بعد 2008ء کے عام انتخابات کے نتیجہ میں وفاق میں مخلوط حکومت قائم کرنے والی پیپلزپارٹی نے ٹیکسٹائل کی وزارت فیصل آباد ضلع کی تحصیل سمندری سے ہی اپنے رکن قومی اسمبلی رانا فاروق سعید کے سپرد کی۔ 2013ء کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ(ن) چار سالوں تک ٹیکسٹائل کی وزارت فیصل آباد کے حصے میں نہیں ڈال سکی لیکن آخری سال اپنے رکن قومی اسمبلی حاجی محمد اکرم انصاری کو وزیرمملکت برائے ٹیکسٹائل انڈسٹری بنا دیا گیا۔

(جاری ہے)

تحریک انصاف کے نومنتخب ارکان خیال کر رہے تھے کہ اکرم انصاری کو شکست دینے والے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شیخ خرم شہزاد کو وزارت ٹیکسٹائل کا قلمدان سونپا جائے گا کہ وہ خود بھی ایک صنعت کار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ بہرحال فیصل آباد ضلع میں این اے 103 تاندلیانوالہ میں ایک امیدوار کی طرف سے 25جولائی سے قبل خودکشی کے نتیجہ میں انتخابات ملتوی ہو گئے تھے۔

اس حلقے میں بھی 14اکتوبر کو ضمنی انتخاب ہو گا۔ تاندلیانوالہ کی اس نشست پر تحریک انصاف کی طرف سے سعداللہ بلوچ، مسلم لیگ(ن) کی طرف سے گوہر علی خان بلوچ اور پیپلزپارٹی کی طرف سے شہادت علی خان بلوچ یعنی بلوچ خاندان کے تینوں امیدوار مدمقابل ہوں گے۔ تحریک انصاف کی وفاق میں حکومت قائم ہونے کے بعد سب کی نظریں تبدیلی کے وعدوں اور دعوؤں پر جمی ہوئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے بھی سینٹ میں اپنے پہلے خطاب کے دوران ایک مرتبہ پھر اپنا یہ نعرہ دہرایا ہے کہ ہم لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے، کرپشن کا خاتمہ اور بیرون ملک سے پاکستانی رقم واپس لانے بڑے چیلنجز، ایف آئی اے اور نیب میں وسیع رابطے، ضروری سیکیورٹی بہتر بنائی جائے گی۔ یہ وہ نعرہ ہے جو عمران خان گزشتہ پانچ سالوں سے لگا رہے ہیں عمران کا نعرہ لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے کی اس قدر گونج ہوئی کہ آپ کسی بھی گلی محلے کوچے میں نکل جاتے تو بچے کھیل کود کے دوران ایک نعرہ بلند کرتے سنائی دیتے وہ بچوں کا مشترکہ نعرہ تبدیلی آئی اے تبدیلی آئی ہے۔

بچے یہ نعرہ عمران خان کے وزیراعظم منتخب ہونے سے کوئی ڈیڑھ دو ماہ قبل سے لگا رہے ہیں۔ جب میں بچوں کو یہ نعرہ بلند کرتے اور ان کے کھیل کود کا ایک جزو دیکھتا ہوں تو میری نگاہوں میں وہ تمام تاریخی صفحات رقص کر کے کسی فلمی سین کی طرح گزرتے ہیں۔ جب تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے دوران ’’بن کے رہے گا پاکستان، لے کے رہیں گے پاکستان‘‘ کا نعرہ پورے برصغیر پاک و ہند میں سنائی دیتا تھا اور اس نعرہ کی جیسے آپ خواب بھی کہہ سکتے ہیں تعبیر قیام پاکستان کی شکل میں اقوام عالم کے سامنے آئی اور دنیا کے نقشہ پر صدیوں بعد پاکستان کی شکل میں ایک نظریاتی ریاست دنیا کے نقشہ پر نمودار ہوئی۔

یہ الگ بات ہے کہ ہم اپنی نظریاتی ریاست کو اس کے اساسی نظریہ پر چلانے میں ناکام رہے اور پاکستان دولخت ہو گیا۔ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے کہ بھارت کی پاکستان دشمنی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں لیکن پاکستان کا اصل نظریاتی دشمن امریکہ ہے اور اس کے ایک نظریاتی اسلامی ریاست کے وجود میں آنے کے فوری بعد اسرائیل کی ریاست کے قیام میں جو کردار ادا کیا تاریخ کا وہ ورق ہے جس سے اسلام دشمنی عیاں ہوتی ہے اور اسلام دشمنی کے پودے کو تن آور درخت کی شکل دینے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔

عمران کے نعروں، وعدوں سے غرض نہیں لیکن بچوں کا نعرہ تبدیلی آئی حقیقت کی شکل اختیار کرتا نظر آیا۔ یہ تبدیلی کون سی شکل میں سامنے آتی ہے جبکہ نگاہوں کے سامنے وہی چہرے ہیں جو جنرل ضیاء الحق اور جنرل(ر) پرویزمشرف کے اقتدار کے ایوانوں میں نظر آتے تھے البتہ عمران ہی ایک ایسا چہرہ ہے جو ماضی کے ایوان اقتدار میں نظر نہیں آتا تھا۔ عمران کا یہ کہنا تھا کہ کوئی نیب زدہ یا جس پر کرپشن کے الزامات ہوں گے وہ وزیر نہیں لیا جائے گا جبکہ عملی شکل اس کے برعکس ہے۔

وفاقی وزراء میں آدھے چہرے وہی ہیں جو جنرل پرویزمشرف کے اقتدار کا حصہ تھے۔ پنجاب میں چوہدری پرویزالٰہی جو کہتے تھے کہ مشرف دس بار بھی باوردی آ جائے تو ہم اسے قبول کریں گے انہیں سپیکر کے منصب پر بٹھا دیا گیا ہے۔ نیب میں ان پر بھی مقدمہ چل رہا ہے۔ پنجاب کابینہ کے سینئر وزیر علیم خان بھی نیب زدہ ہیں۔ ایم کیو ایم جسے عمران خان قاتل پارٹی کہتے تھے وہ بھی ان کے اقتدار کا حصہ ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا منصب عثمان بزدار نے حاصل کیا ہے وہ بھی ق لیگ سے کچھ ہی ماہ پہلے تحریک انصاف میں آئے تھے۔ چوہدری ظہیرالدین جنہیں صوبائی وزیر بنایا گیا ہے وہ چوہدریوں کے ہمسفر جنرل پرویزمشرف کے گیت گاتے تھے۔ کہا جا رہا ہے کہ عمران خان نے کوڑاکرکٹ جمع کر لیا ہے اس سے کون سا انقلاب برپا ہو گا؟ جس امید کے چراغ عوام نے اپنے ذہنوں میں روشن کئے ہوئے ہیں کیا ان کی روشنی میں صحن گلشن میں تجلی کی کرنیں پھوٹیں گی یا چراغ تلے اندھیرے والا معاملہ ہو گا؟۔

صوبہ خیبر پی کے اور پنجاب کی حکومتیں عمران خان کی نامزد کردہ ہیں۔ گویا عمران خان اور سابقہ فوجی ڈکٹیٹروں میں اگر کوئی فرق ہے تو وہ وردی کا ہے۔ اس ملک میں ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے پہلے سول ڈکٹیٹر بنے تھے۔ اختیارات، احکامات اور نامزدگیوں پر ایک نظر ڈالیں تو عمران خان بھی وہی کردار ادا کر رہے ہیں جو ڈکٹیٹروں کا ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض ڈکٹیٹر اپنی قوم کو پستی سے نکال کر بلندیوں سے ہمکنار کر دیتے ہیں اور قوم کی کایا پلٹ جاتی ہے۔

ترکی کے کمال اتاترک اس کی روشن مثال ہیں۔ عمران خان نے مسند اقتدار پر جلوہ افروز ہوتے ہی ایک تبدیلی جو ہر ایک کو نظر آتی ہے وی آئی پی پروٹوکول ختم کر دیا ہے اور وزیراعظم سمیت تمام اعلیٰ ریاستی حکومتی شخصیات کو عام سفری سہولتیں حاصل کرنے کا کہا ہے۔ گورنر ہاؤسز، ایوان وزیراعظم کو تعلیم و تدریس اور عوامی مفاد کے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا اعلان کیا ہے یہ بلاشبہ اچھے فیصلے ہیں لیکن اصل تبدیلی جس کی آس پوری قوم لگائے بیٹھی ہے اور وہ ہے لوٹی ہوئی دولت وطن واپس لائی جائے اور اس تناظر میں عوام میں تبدیلی دیکھنے کی امید ہے۔

جن لوگوں نے سترسالوں سے قرضے معاف کرائے ان سے بھی دولت واپس لینے کی عوام میں امید بندھی ہوئی ہے۔ عام آدمی کہہ رہا ہے کہ اصل تبدیلی لوٹی ہوئی دولت کی واپسی ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کے نظریاتی محافظ اور سپہ سالار بزرگ محترم جناب مجید نظامی مرحوم کا وہ تاریخی فقرہ آپ کو یاد ہو گا کہ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں جب میاں محمد نوازشریف دھماکہ کرنے میں دیر کر رہے تھے تو انہوں نے کہا تھا کہ جناب وزیراعظم آپ نے ایٹمی دھماکہ نہ کیا تو قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی بین ہی عمران خان اس وقت ویسی صورت حال سے دوچار ہیں اگر عمران خان نے جو منی لانڈرنگ، بینکوں سے معاف کرائے گئے قرضوں، ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس نہ لائے اور جو انہوں نے اپنے ورکروں اور قوم کو سہانے خواب دکھائے ہیں ان کو عملی جامہ نہ پہنایا تو قوم عمران خان کا دھماکہ کر دے گی اور قوم زیادہ سے زیادہ ایک سال کا عرصہ دے گی۔

لہٰذا عمران خان اگر واقعی وعدہ تبدیلی کو ایفا کرنا چاہتے ہیں تو اپنے نعرے کو عملی جامہ پہنائیں۔ وقت کم ہے اور مقابلہ سخت، اس کے باوجود کہیں گے کہ بچے سچے ہوتے ہیں اور گلی گلی میں بلند کرنے والا ’’تبدیلی آئی ، تبدیلی آئی ہے‘‘ واقعی تبدیلی کی بلندی عمارت کی شکل میں حقیقت کا روپ دھارے گا، ذرا انتظار کریں، صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

tabdeeli ke daaway haqeeqat bany gay is a political article, and listed in the articles section of the site. It was published on 03 September 2018 and is famous in political category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.