نیا بھارتی آرمی چیف اور پرانا راگ

پیر جنوری

Salman Ahmad Qureshi

سلمان احمد قریشی

بھارتی فوج کے نئے سربراہ جنرل منوج مکندنرونے دہلی میں اپنی پہلی میڈیا کانفرنس میں کہا بھارتی پارلیمان پورے کشمیر کو اپناحصہ قرار دیتی ہے۔ اور جب انہیں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو واپس لینے کا حکم ملے گا تو فوج اس ضمن میں کاروائی کرے گی۔ آزاد جموں و کشمیر میں کاروائی کی اس دھمکی کو پاکستانی فوج نے محض شعلہ بیانی قرار دیا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے رد عمل میں سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر کہا ''بھارت فوج کے سربراہ کا لائن آف کنٹرول کے اس پار کاروائی کرنے کا بیان محض اندرونی بحران سے نکلنے کیلئے معمول کی بیان بازی ہے۔ بھارتی چیف اپنی عوام کو خوش کرنے کیلئے بیان بازی کر رہے ہیں۔ ان کی ہر زہ سرائی کا مقصد عوام کی توجہ بھارت میں جاری المیے سے ہٹانا ہے ''۔

(جاری ہے)


سابق آرمی چیف بپن راوت جنکی کی مدت ملازمت 31دسمبر 2019کو ختم ہوئی وہ بھی اس طرح کی بیان بازی کرتے رہے ہیں ان کو جواب دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا ''بھارتی آرمی چیف اپنے سیاسی آقاؤں کی انتخابی مہم کو فروغ دینے کیلئے مسلسل بیانات کے ذریعے جنگ کو ہوا دیتے رہے ہیں''۔بھارت میں انتخابات بھی مکمل ہوئے اور آرمی چیف بھی تبدیل ہو گیا مگر فوجی سربراہ کی جانب سے وہی پرانا راگ الا پا جا رہا ہے۔

انتخابات سے قبل بھارت میں پاکستان دشمنی کا ماحول بنانا بی جی پی کی سیاسی حکمت عملی تھی مگر نریندرا مودی نے کامیابی کے بعد پاک بھارت کشیدگی کو کم کرنے کی بجائے بڑھاوا دیا۔ دوسری طرف پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان پر امید تھے کہ نریندرا مودی کی جیت کی صورت میں تعلقات معمول پر آ جائیں گے۔ وزیر اعظم کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے۔ یہ پاکستان کی سیاسی قیادت کی خوش فہمی تھی یا امن کی خواہش۔

۔۔؟ نریندرا مودی کے بھارت کی سرجیکل سٹرائیک کے افسانے، اشتعال انگیز کاروائیاں اور مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے جیسی پالیسیوں سے حالات کو مزید خراب کیا گیا۔ اندرونی طور پر مودی سرکار نے سیکولر ازم کی پالیسی ترک کر کے ہندو بالا دستی کے فروغ کے لیے اقدامات اٹھائے۔ ان حالات میں بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت کی بیان بازی غیر متوقع نہیں۔

بھارتی ریاست اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی کا یہ کہنا ہے نفرت بی جے پی کی سیاست کا ایجنڈہ ہے۔ایسی سیاسی قیادت کی موجودگی میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی حالات میں بہتری خواہش کی تکمیل ممکن نہیں۔
 قارئین کرام! اس سے قبل سابق چیف جنرل پبن راوت نے بھی ایک ایسا ہی بیان دیا تھا انہوں نے کہا تھا'' اگر حکومت نے حکم دیا تو بھارتی فوج سرحد پار کر کے پاکستان میں آپریشن کرنے سے نہیں ہچکچائے گی''۔

میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے اس وقت بھی جواب آیا تھا کہ بھارت ہمارا عزم آزمانا چاہتا ہے تو آزما لے اس کا نتیجہ وہ خود دیکھے گا۔ ان کا کہنا تھا بھارت کو جو چیز روکے ہوئے ہے وہ ہماری قابل بھروسہ جوہری صلاحیت ہے۔ انہوں نے بھارتی آرمی چیف کے بارے کہا ایک فور سٹار جنرل کی طرف سے اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کسی پروفیشنل سولجر کو زیب نہیں دیتی۔


موجودہ بھارتی آرمی چیف بھی اسی روش پر کاربند ہیں حالانکہ آرمی چیف منوج مکندنرو کو کشمیر اور شمال مشرقی بھارت میں مہم جوئی کا تجربہ ہے۔ اور وہ جموں و کشمیر میں نیشنل رائفلز بٹالین کی کمان سنبھالنے کی ذمہ داری بھی ادا کر چکے ہیں۔ اس کے باوجود اس طرح کے بے سروپا بیانات نہ قابل افسوس بلکہ زہنی دیوالیہ پن کو ظاہر کرتے ہیں۔ بھارت پاکستان کے ساتھ کسی بھی طرح کی مہم جوئی نہیں کر سکتا کیونکہ خطے کے دونوں ممالک ہی نہیں دنیا بھی پاک بھارت جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

بھارت چین کے ساتھ بھی ٹکراؤ کے راستے پر رہا اور پاکستان کے ساتھ بھی جنگیں لڑنے کے بعد بھارت خطے میں اپنا اثر و رسوخ قائم نہ کر سکا۔اس کی واحد وجہ پاکستان کی پروفیشنل آرمی ہے۔ سفارتی سطح پر بھارت نے پاکستان کے خلاف مسلسل پراپیگنڈہ کیا اور وہ آج بھی عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے۔ پاکستان کی فوج کی صلاحیت اور مہارت کا مظاہرہ تو عالمی دنیا نے بھارتی طیاروں کے گرائے جانے اور ابھی نندن کی گرفتاری اور رہائی کی صورت میں دیکھ لیا۔

پاکستانی فوج جنگ کیلئے ہمہ وقت تیار ہے لیکن پاکستان کی پالیسی ہے کہ امن کو راستہ دیا جائے۔ بھارتی رویہ منفی اور متکبرانہ ہے۔ پاکستان نے گزشتہ 2دہائیوں میں امن قائم کیا اور امن کی قیمت پاکستان جانتا ہے۔دوسری طرف تیزی سے تباہی کی طرف بڑھتا ہوا بھارت بیان بازی کے ذریعے کشیدگی کو ہوا دینا چاہتا ہے۔ بھارت اندرونی طور پر کمزور ہو چکا ہے۔

جنگ تعداد سے نہیں صلاحیت سے جیتی جاتی ہے۔ اور فوج تنہا نہیں لڑتی میدان جنگ میں کامیابی اسی فوج کی ہوتی ہے جس کے پیچھے عوام ہو۔ پاکستان میں ہر جگہ سیاسی اختلاف ہو سکتا ہے مگر دفاع وطن کیلئے قوم پاک فوج پر مکمل بھروسہ کرتی ہے اور ہر پاکستانی فوج کے ساتھ ہے۔
پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے، جوہری صلاحیت کے ساتھ پروفیشنل فوج ہی پاکستان کی سلامتی کی ضمانت ہے۔

پاکستانی سیاسی قیادت کی امن کی خواہش ہماری کمزوری نہیں خارجہ پالیسی ہے جو خطے کیلئے بہتر ہے۔ جنگیں کسی بھی مسئلے کا حل نہیں کیونکہ جنگ خود ایک مسئلہ ہے۔ بھارت کی سیاسی قیادت خوابوں کی دنیا سے نکل کر اگر حقیقت کی دنیا میں فیصلہ سازی کرے تو کوئی وجہ نہیں تمام حل طلب مسائل کا خاتمہ ممکن ہے۔ ایتھوپیا اور ایریٹیریا کی مثال ہمارے سامنے ہے، ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد کو نوبل امن انعام کیلئے نامزد کیا گیا۔

ایتھوپین وزیر اعظم نے ہمسایہ ملک اریٹیریا کے ساتھ سرحدی تنازعہ حل کر کے فیصلہ کن قدم اٹھایا، دونوں ملکوں نے 1998ء سے 2000ء کے دوران ایک تلخ سرحدی جنگ لڑی جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔ اگرچہ 2000ء میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا لیکن دونوں پڑوسی جولائی2018ء تک بر سر جنگ رہے اور بلا آخر ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد اور اریٹیریا کے صدراسیاس ایفو یرکی کے درمیان امن معادہ ہوا۔

2دہائیوں تک طویل سرحد بند رہی جس کی وجہ سے دونوں اطراف خاندان تقسیم ہوئے اور تجارت نا ممکن رہی۔ اب اس امن معاہدے سے دونوں ممالک کی عوام پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ بھارتی فوجی سربراہ سرحد پار کرنے کی فضول بیان بازی کی بجائے اپنی سیاسی قیادت اور عوام کا مفاد مد نظر رکھیں تو کوئی وجہ نہیں سرحد پار کرنا مقصد ہی نہ ہوگا، بلکہ ایک ہی مقصد ہو گا سرحد کو کھولنا۔

اگر امن کو موقع دیا جائے پاکستان بھی ترقی کرے گا اور بھارت بھی بلکہ خطہ بھی ترقی کرے گا۔ کسی کی امن کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہئے۔ عالمی طاقت امریکہ بھی ایران سے براہ راست تصادم سے پیچھے ہٹ گیا۔ ایران کے خلاف کاروائی پر امریکہ کے اتحادی اسکے ساتھ نہیں تھے۔یہاں تک کہ امریکہ میں بھی سلیمانی پر حملہ کے خلاف عوام سڑکوں پر نکلے۔ ایسے میں بھارت کی امن برباد کرنے کی خواہش کسی کو بھی قابل قبول نہ ہوگی۔ بھارتی فوج مقبوصہ کشمیر میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ ایل او سی کو عبور کرنا بھارتی فوج کے لیے آسان نہیں۔ یہ بیان بازی مخص راگ ہے جسکا مقصد بھارتی عوام کو مسحور کرنا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Naya Baharti Army Chief Column By Salman Ahmad Qureshi, the column was published on 13 January 2020. Salman Ahmad Qureshi has written 27 columns on Urdu Point. Read all columns written by Salman Ahmad Qureshi on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.