لندن فلیٹس کے اصل مالک کون؟ پراسیکیوٹر نے حتمی دلائل دے دئیے

شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے حتمی دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف ہی لندن فلیٹس کے اصل مالک ہیں

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات جون 11:21

لندن فلیٹس کے اصل مالک کون؟ پراسیکیوٹر نے حتمی دلائل دے دئیے
اسلام آباد (اردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار۔07جون 2018ء) شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے حتمی دلائل کے دوران کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف ہی لندن فلیٹس کے اصل مالک ہیں۔تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں آج ایوان فیلڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی۔شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کر رہے ہیں۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر آج بھی عدالت کے رو برو پیش ہو ئے۔ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے احتساب عدالت میں آج مسلسل تیسرے روز حتمی دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ نواز شریف ہی لندن فلیٹس کے اصل مالک ہیں جب کہ آف شور کمپنی کے ذریعے اصل ملکیت چھپائی گئی۔

(جاری ہے)

سردار مظفر عباسی نے عدالت میں کہا ہے کہ قطری شہزادے کا بیان غیر متعلقہ ہے۔

لیکن پھر بھی جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ کرنے کی کوشش کی۔ بیان ریکارڈ کرنے کے لیے 24 مئی 2017 کو قطری شہزادے کو بلایا گیا تھا۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ جے آئی ٹی کے نوٹس قطری شہزادے کو موصول ہوئے مگر وہ پیش نہ ہوئے جب کہ 11 جولائی 2017 کو قطری شہزادے کا دوسرا جواب آیا لیکن پھر اس نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے سے اجتناب کیا۔

سردار مظفر عباسی نے احتساب عدالت میں اپنے دلائل کے دوران کہا کہ 22 جون 2017 کو قطری شہزادے کو پھر بلایا گیا اور جے آئی ٹی نے کہا آپ نہیں آتے تو ہم دوحا کے پاکستانی سفارخانے میں آجاتے ہیں۔ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ قطری نے شرائط رکھیں کہ وہ نہ تو پاکستانی سفارت خانے میں آئیں گے اور نہ عدالت میں پیش ہوں گے جب کہ جرح میں کہا گیا کہ قطری شہزادے کو دھمکی لگائی گئی، یہ درست نہیں ہے۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں۔