Live Updates

چیئرمین پاکستان علماء کونسل کی بلوچستان دہشت گردی کی شدید مذمت، انتہا پسندی کیخلاف مشترکہ جدوجہد کا عزم

بیگناہ شہریوں کا قتل انسانیت کیخلاف سنگین جرم ،اسلام میں گنجائش نہیں،پیغام پاکستان امت مسلمہ کا متفقہ فتویٰ ہے، حافظ طاہر محمود اشرفی

جمعرات 9 جولائی 2026 19:25

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 جولائی2026ء) چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے بلوچستان میں پیش آنے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہ شہریوں کا قتل انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں،ریاستی اداروں، علماء ، مشائخ اور پوری قوم کے باہمی تعاون سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

پشاور پریس کلب میں پیغام پاکستان علماء و مشائخ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو امن، استحکام، اتحاد اور رواداری کا گہوارہ بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ سیمینار میں مولانا سید یوسف شاہ، مولانا معراج الدین سرکانی، مولانا عارف اللہ، مولانا روح اللہ مدنی، مولانا طیب قریشی، مولانا محمد شعیب قادری، مولانا عبد الکریم، مولانا رئیس خان، مولانا جہانزیب، مولانا حسین احمد، مولانا عقل بادشاہ اور مولانا احمد خان نے بھی شرکت کی۔

(جاری ہے)

اس موقع پر محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پیغام پاکستان دراصل پیغام اسلام ہے جس پر تمام مکاتبِ فکر کے جید علماء و مشائخ نے اتفاق کیا ہے۔ اسلام کے نام پر جہاد اور فساد میں واضح فرق ہے۔ اسلام کے نام پر بے گناہ انسانوں کو قتل کرنا، دہشت گردی کرنا، ریاست اور معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانا ہرگز جہاد نہیں بلکہ فساد فی الارض ہے۔ پیغام پاکستان کا فتویٰ امتِ مسلمہ کا متفقہ فتویٰ ہے جس میں جہاد اور فساد کے درمیان واضح فرق بیان کیا گیا ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ دہشت گردی، خودکش حملے اور بے گناہ انسانوں کا قتل اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جراتمندانہ، مدبرانہ اور بروقت قیادت نے نہ صرف بھارت کو مؤثر، فیصلہ کن اور تاریخی جواب دے کر اس کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے بلکہ پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر ثابت کیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملکی سلامتی، خودمختاری اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دانشمندانہ قیادت میں پاکستان نے پہلے ہی دن سعودی عرب کی قیادت سے مشاورت کا آغاز کیا، بعد ازاں اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں کے ذریعے ایران اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال میں امت مسلمہ کو باہمی تصادم سے بچانے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے کلیدی کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اس ذمہ دارانہ سفارت کاری نے ممکنہ تیسری عالمی جنگ کے خطرات کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا اور دنیا کو یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان مسلمانوں کو آپس میں لڑنے نہیں دینا چاہتا۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہاکہ ایک وقت تھا جب اسلام آباد کو دہشت گردی کی سرزمین کہا جاتا تھا، لیکن آج پاکستان کی ذمہ دارانہ قیادت اور امن کے لیے سفارتی کردار کے باعث اسلام آباد کو امن کی سرزمین کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ پاکستان کے لیے اعزاز اور پوری قوم کی کامیابی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام صوبے، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان مل کر پاکستان بنتے ہیں۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب یا ملک کے کسی بھی حصے میں شہید ہونے والا ہر شہری ہمارا اپنا ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات سمیت ملک بھر میں بے گناہ شہریوں، علمائ ، سکیورٹی اہلکاروں اور عام لوگوں کی شہادت پوری قوم کا مشترکہ دکھ ہے۔

دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خلاف پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ صحابہ کرامؓ، اہل بیت اطہارؓ، امہات المؤمنینؓ اور خلفائے راشدینؓ ہمارے ایمان کا حصہ ہیں۔ اپنے مسلک پر قائم رہتے ہوئے دوسرے کے مقدسات کا احترام کرنا ہی اتحاد امت اور قومی یکجہتی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران دشمن نے فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی، مگر علماء، مشائخ، عوام اور ریاستی اداروں کے تعاون سے یہ سازش ناکام بنائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے علماء و مشائخ نے ہمیشہ وطن عزیز کے استحکام، دفاع اور اسلامی تشخص کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ مولانا سمیع الحق شہید سمیت وزیرستان سے کراچی تک سینکڑوں علمائ نے دہشت گردی کے خلاف اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، مگر دین، وطن اور امن کے پیغام سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ حقیقی علماء قرآن و سنت، اعتدال، اتحاد اور امن کا درس دیتے ہیں، جبکہ مذہب کے نام پر دہشت گردی اور انتہا پسندی پھیلانے والوں کا علماء اور مدارس سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مدارس دینیہ اسلام اور پاکستان کے مضبوط علمی و فکری مراکز ہیں اور قیامت تک دین کی خدمت کرتے رہیں گے۔ مدارس کیلئے آسانیاں پیدا کرنا ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کیونکہ یہی ادارے قرآن و سنت، اعتدال، رواداری اور محبت کا پیغام عام کر رہے ہیں۔چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے کہا کہ آنے والا ماہ ربیع الاول "پیغام رحمت للعالمین، پیغام امن و سلامتی اور پیغام اعتدال" کو عام کرنے کا بہترین موقع ہے۔

ملک بھر کی مساجد، مدارس، خانقاہوں اور مذہبی مراکز سے حضور نبی کریم ؐکی سیرت طیبہ، امن، رواداری، محبت، برداشت اور انسانیت کے احترام کا پیغام عام کیا جائے تاکہ نئی نسل کو اسلام کا حقیقی چہرہ دکھایا جا سکے۔انہوں نے بلوچستان سمیت ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم متحد ہو کر دہشت گردی، انتہا پسندی، نفرت اور فرقہ واریت کے ہر فتنے کا مقابلہ کرے گی اور پاکستان کو امن، استحکام، اتحاد اور اخوت کا گہوارہ بنائے گی۔
Live سعودی عرب سے متعلق تازہ ترین معلومات