سہیل وڑائچ آئیندہ انتخابات میں کس کو ووٹ دیں گے ؟َ خود ہی بتا دیا

ن لیگ،تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی تینوں میرے ووٹ کی اہل ہیں،اسی پارٹی کو ووٹ دوں گا جو مجھے جمہوریت کے قریب نظر آئے گی،معروف کالم نگار اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کی گفتگو

پیر جون 16:12

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر جون ء)ملک بھر میں عام انتخابات کا اعلان 25جولائی کو کیا گیا ہے۔اس بار پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ ن میں سخت مقابلہ دیکھنے کو ملے گا جب کہ پیپلز پارٹی بھی اس بار الیکشن میں جیت کے لیے متحرک نظر آتی ہے۔اسی متعلق جب معروف صحافی و کالم نگار سہیل وڑائچ سے نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں ا ینکر فرخ شہباز وڑائچ نے سوال کیا کہ آپ کس کو ووٹ یں گے؟۔

تو سہیل وڑائچ کا کہنا تھا یہ ایک پرائیویٹ سوال ہے۔لیکن میرا ا س متعلق واضح موقف ہے۔میں جمہوریت کو ووٹ دیتا ہوں۔میں ہمیشہ یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ا س وقت جمہوریت کے سب سے قریب کو ن سی سیاسی جماعت ہے۔میں ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے حق میں ووٹ دیتا رہا ہوں۔

(جاری ہے)

اور اس بار بھی میں یہ فیصلہ کروں گا کہ سب سے زیادہ جمہوری پارٹی کون سی ہے۔سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ساری جمہوری پارٹیوں میں سے کوئی بھی پارٹی میرا ووٹ لے سکتی ہے۔

پی ٹی آئی بھی لے سکتی ہے ن لیگ بھی لے سکتی ہے۔اور پیپلز پارٹی بھی لے سکتی ہے کیونکہ تینوں پارٹیاں میرے ووٹ کی اہل ہیں۔سہیل وڑائچ کا مزید کہنا تھا کہ مجھے صاف شفاف انتخابات ہوتے نظر نہیں آ رہے کیونکہ الیکشن کے اندر مداخلت کی جا رہی ہے۔یاد رہے کہ 25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات ملکی تاریخ کے سب سے مہنگے اور سب سے بڑے انتخابات ہوں گے۔

2018کے انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ 2018کے انتخابی اخراجات کا تخمینہ21ارب ہے۔ ۔25 جولائی 2018کو ہونے والے انتخابات ملکی تاریخ کے سب سے مہنگے اور سب سے بڑے انتخابات ہوں گے۔2018کے انتخابات کے اخراجات کا ابتدائی تخمینہ 21 ارب روپے لگایا گیا ہے۔خصوصی فیچرز والے بیلٹ پیپر ز کی خریداری اور چھپائی پر اڑھائی ارب روپے خرچ آئے گا۔ سیکیورٹی، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ۔پولنگ عملے کی خصوصی تربیت اور حساس پولنگ اسٹیشن پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے باعث 25 جولائی کے انتخابات ملکی تاریخ کے مہنگے انتخابات ہوں گے ۔

Your Thoughts and Comments