Circus

سرکس

کرتب کا بس شوق ہوا تھا

میرے بس کا کام نہیں ہے کب سوچا تھا

بن سوچے سمجھے میں یوں ہی چل نکلا تھا

چلتے چلتے مجھ کو یہ احساس نہیں تھا

چلنا یوں دشوار بھی ہو سکتا ہے اک دن

خوف کوئی تلوار بھی ہو سکتا ہے اک دن

میرے پاؤں کسی لمحے شل ہو سکتے ہیں

آج نہیں ہوں گے شاید

کل ہو سکتے ہیں

کب تک اپنی سانس کی طرح میں لٹکوں گا

اپنے اندر کی تاریکی میں بھٹکوں گا

دل ہے ایک سرے پر

جاں ہے ایک سرے پر

نہ ہے ایک کنارے ہاں ہے ایک سرے پر

کب تک کرتب اور چلے گا کب میں نیچے آؤں گا

یا میں یوں ہی لٹکے لٹکے

سانس کو روکے مر جاؤں گا

میرا مالک لاؤڈ اسپیکر منہ میں لیے چلاتا ہے

گرنا نہیں ہے گرنا نہیں ہے

مجھ کو یاد دلاتا ہے

میرے پیر جو پہلے شل تھے

خوف نے پتھر کر ڈالے ہیں

میری آنکھ سے خوں رستا ہے

اور سانسوں میں چھالے ہیں

نیچے سیٹی مارتے لوگوں سے تالی بجوانی ہے

آنکھیں بھی بند رکھنی ہیں گر اپنی جان بچانی ہے

ایک سرے پر میں ہوں دوجا دور دکھائی دیتا ہے

میرے پاؤں تلے شعلوں کا

شور سنائی دیتا ہے

نیچے گرا تو عین یقیں ہے

دہکی آگ میں جلنا ہوگا

خوف میں گم ہوں جانے کب سے سوچ رہا ہوں

مچھلی کی اس ڈور پہ آخر

کب تک مجھ کو چلنا ہوگا

علی عمران

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(753) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Ali Imran, Circus in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 17 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.1 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Ali Imran.