Nah To Zamee Ke Liye Hai Nah Asmaa Ke Liye

نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے

نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے

جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے

یہ عقل و دل ہیں شرر شعلۂ محبت کے

وہ خار و خس کے لیے ہے یہ نیستاں کے لیے

مقام پرورش آہ و نالہ ہے یہ چمن

نہ سیر گل کے لیے ہے نہ آشیاں کے لیے

رہے گا راوی و نیل و فرات میں کب تک

ترا سفینہ کہ ہے بحر بیکراں کے لیے

نشان راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو

ترس گئے ہیں کسی مرد راہ داں کے لیے

نگہ بلند سخن دل نواز جاں پرسوز

یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے

ذرا سی بات تھی اندیشۂ عجم نے اسے

بڑھا دیا ہے فقط زیب داستاں کے لیے

مرے گلو میں ہے اک نغمہ جبرائیل آشوب

سنبھال کر جسے رکھا ہے لا مکاں کے لیے

علامہ اقبال

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(5392) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Allama Iqbal, Nah To Zamee Ke Liye Hai Nah Asmaa Ke Liye in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 83 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.1 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Allama Iqbal.