Dar Khol Ke DekhoN Tujhay Adrak Se Baahar

در کھول کے دیکھوں ذرا ادراک سے باہر

در کھول کے دیکھوں ذرا ادراک سے باہر

یہ شور سا کیسا ہے مری خاک سے باہر

روداد گزشتہ تو سنی کوزہ گری کی

فردا کا بھی کر ذکر جو ہے چاک سے باہر

خوش آیا عجب عشق کو یہ جامۂ زیبا

نکلا نہیں پھر ہجر کی پوشاک سے باہر

چاہا تھا مفر دل نے مگر زلف گرہ گیر

پیچاک بناتی رہی پیچاک سے باہر

آتا نہیں کچھ یاد کہ اے ساعت نسیاں

کیا رکھا ترے طاق پہ کیا طاق سے باہر

سنتا ہوں کہیں دور سے نقارا صبا کا

اتری ہے بہار اب کے بھی خاشاک سے باہر

کچھ دیر ٹھہر اور ذرا دیکھ تماشا

ناپید ہیں یہ رونقیں اس خاک سے باہر

موجود خلا میں ہیں اگر اور زمینیں

افلاک بھی ہوں گے کہیں افلاک سے باہر

اعجاز گل

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1121) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ شاعری

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Ejaz Gull, Dar Khol Ke DekhoN Tujhay Adrak Se Baahar in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social, Funny Urdu Poetry. Also there are 43 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.6 out of 5 stars. Read the Social, Funny poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Ejaz Gull.