JinheN MehfloN Se Gharaz Na Thi Woh Jo Qaed Apnay GharoN MeiN Thay

جنہیں محفلوں سے غرض نہ تھی وہ جو قید اپنے گھروں میں تھے

جنہیں محفلوں سے غرض نہ تھی وہ جو قید اپنے گھروں میں تھے

وہی اعتبار زمانہ تھے وہی لوگ دیدہ وروں میں تھے

ہوئے ہاتھ اب تو لہو لہو سر چشم اندھیرا ہے چار سو

کبھی ہم بھی آئنہ ساز تھے کبھی ہم بھی شیشہ گروں میں تھے

چلی شہر میں وہ ہوائے زر کہ غبار بن کے گئے بکھر

وہ جو خواب آنکھوں میں تھے مکیں وہ جنوں جو اپنے سروں میں تھے

مرے محسنوں میں ہیں شہر کے یہ طویل و آشنا راستے

کہیں اور جائے اماں نہ تھی کہ غنیم جاں تو گھروں میں تھے

وہی جن کی تیغ سے بن گیا مرا شہر مقتل خوں فشاں

سر عام دیدۂ نم لیے وہی لوگ نوحہ گروں میں تھے

اک اداس بستی میں وقت شب میں گیا تو ایسے مکاں تھے سب

نہ تو کھڑکیوں میں تھے ماہ رو نہ چراغ ان کے دروں میں تھے

سر شام دور فضاؤں میں یہ جو آئنے سے چمک اٹھے

یہی ڈھلتی دھوپ کے رنگ تھے کہ جو طائروں کے پروں میں تھے

فراست رضوی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(503) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ شاعری

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Frasat Rizvi, JinheN MehfloN Se Gharaz Na Thi Woh Jo Qaed Apnay GharoN MeiN Thay in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad, Social Urdu Poetry. Also there are 27 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.5 out of 5 stars. Read the Sad, Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Frasat Rizvi.