Chalna Or Sochna

چلنا اور سوچنا

شاید ایک ساتھ سیکھتا ہے آدمی

چلنا اور سوچنا

ایک صحن میں

ایک دن

میں سیکھ گیا

چلنا

اور سوچنا

چڑیوں،

پودوں

اور رنگ برنگے کیڑوں کے درمیان

ماں کہتی

تم اتنا چلتے ہو

ایک سیدھ میں چلو

تو شام تک پہنچ جائو

کسی اور شہر میں

میں نے آوارگی کی

دوپہروں میں

اکیلے

تاروں بھری راتوں میں

اداس شاعروں

اور جُگنوئوں کے ساتھ

میں چلتا رہا

گلیوں میں

شاہراہوں پر

جلوسوں میں

جنازوں کے ساتھ

سوچتے ہوئے

ناانصافی، انقلاب،

موت، خدا اور جہنّم

اور بہت سی فضولیات

میں چلتا رہا

بارشوں میں

برف باریوں میں

دُھند میں

دہوپ اور آندھیوں میں

سوچتے ہوئے

جو میں بتا سکتا ہوں فخر سے

اور وہ بھی

جو میں خود سے بھی چُھپاتا ہوں

میں اجنبی ملکوں میں گیا

تنہا چلنے کے لیے

تنہا سوچنے کے لیے

اب میں لوٹ آیا ہوں

ڈھلتی عمر میں

بغیر کہیں پہنچے ہوئے

اب میں کہیں نہیں جاتا

پر اب بھی چلتا ہوں

ہر روز

کم از کم

ایک گھنٹہ

تیز تیز

پائوں چکّی پر

یہ سوچتے ہوئے

کہ میں کب تک چلوں گا

میں کب تک سوچوں گا

افتخار بخاری

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(434) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Iftikhar Bukhari, Chalna Or Sochna in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad Urdu Poetry. Also there are 18 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.9 out of 5 stars. Read the Love, Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Iftikhar Bukhari.