Bahar Guzar Di Kabhi Andar Bhi Ayen Gay

باہر گزار دی کبھی اندر بھی آئیں گے

باہر گزار دی کبھی اندر بھی آئیں گے

ہم سے یہ پوچھنا کبھی ہم گھر بھی آئیں گے

خود آہنی نہیں ہو تو پوشش ہو آہنی

یوں شیشہ ہی رہو گے تو پتھر بھی آئیں گے

یہ دشت بے طرف ہے گمانوں کا موج خیز

اس میں سراب کیا کہ سمندر بھی آئیں گے

آشفتگی کی فصل کا آغاز ہے ابھی

آشفتگاں پلٹ کے ابھی گھر بھی آئیں گے

دیکھیں تو چل کے یار طلسمات سمت دل

مرنا بھی پڑ گیا تو چلو مر بھی آئیں گے

یہ شخص آج کچھ نہیں پر کل یہ دیکھیو

اس کی طرف قدم ہی نہیں سر بھی آئیں گے

جون ایلیا

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(4294) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Jaun Elia, Bahar Guzar Di Kabhi Andar Bhi Ayen Gay in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 195 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.5 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Jaun Elia.