Kaam Wali

کام والی

جنگلی پھول کی طرح

قدرتی حسن لیے

جیسے ادھ پکے پھل کو کھانے

بے چین ہو جائے کوئی

صرف ایک سوتی ساری کا لباس

سندر سڈول بدن

جیون کی گھر گرہستی میں

رکھا تھا قدم

ایک دوشیزہ نے جب

وقت کی سلوٹوں نے

بنا دیا بد رنگ نشان

ایک صحت مند جسم کو

کر دیا کمزور

سالانہ پیداوار کی طرح

بچوں کی پیدائش نے

ایک دو تین چار

ارے بس بھی کر

اپنا حال تو دیکھ

کیوں اپنی جان

گنوانے پہ تلی ہے

بات آ گئی سمجھ

نس بندی کرا لی

اس پہ نکما شرابی شوہر

گھر گھر کام نہ کرے

تو پیٹ کیسے بھرے

گاؤں میں کیا دھرا ہے

بنجر زمین

نا کھاد نا پانی

شہر میں دو پیسے کا

جگاڑ تو ہے

اپنا کماتی ہوں

پریوار پالتی ہوں

کام والی ہوں میں

اونھ دیکھا ہے بہت سی

گھر مالکنوں کو

غلامی کا جیون جیتے

ان سے بہتر حال ہے میرا

اس کچے گھر میں

اپنا راج چلاتی ہوں

خدیجہ خان

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(716) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Khadija Khan, Kaam Wali in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 26 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.1 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Khadija Khan.