8 October 2005

8 اکتوبر 2005

ہر اک کی زباں پر یہی داستاں ہے

یہاں پر جو گھر تھا مرا، وہ کہاں ہے

سِرکنے لگی ہے، ہوا بھی زمیں بھی

نہ گھر ہے نہ سر پر کوئی سائباں ہے

جنہیں بوجھ بھی بوجھ لگتا نہیں تھا

ہوا کا انہیں وزن بھی اب گراں ہے

کہیں آنکھ میں وقت رُک سا گیا ہے

کہیں ہاتھ پر بے بسی کا نشاں ہے

کہیں جسم کی راکھ اُڑنے لگی ہے

کہیں روح سے خالی دل کا مکاں ہے

کہیں بچہ رو رو بُلاتا ہے ماں کو

کہیں سسکیوں میں گِھری اُس کی ماں ہے

کہیں موت کے منہ میں بیٹی پڑی ہے

کہیں گھر کے ملبے میں بیٹا جواں ہے

جسے پیار سے ماں سجاتی رہی تھی

اُسی گھر کے ملبے پہ آہ و فغاں ہے

اب آنکھوں کے دریا اُترتے نہیں ہیں

اب آںکھوں میں غم کا سمندر نہاں ہے

جہاں زندگی کی ہنسی گونجتی تھی

وہاں ہر طرف سسکیوں کا دھواں ہے

خداوندا تُو نے یہ کیا کر دیا ہے

کہ حیران اب تک زمیں آسماں ہے

ناہید ورک

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1684) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Naheed Virk, 8 October 2005 in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 74 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Naheed Virk.