Isi Baeis Zamana Ho Gaya Hai Is Ko Ghar Baithay

اسی باعث زمانہ ہو گیا ہے اس کو گھر بیٹھے

اسی باعث زمانہ ہو گیا ہے اس کو گھر بیٹھے

وہ ڈرتی ہے کہیں کوئی محبت ہی نہ کر بیٹھے

ہمارا جرم یہ ہے ہم نے کیوں انصاف چاہا تھا

ہمارا فیصلہ کرنے کئی بیداد گر بیٹھے

کہاں تک خانۂ دل اب میں تیری خیر مانوں گا

ذرا سیلاب آیا اور ترے دیوار و در بیٹھے

میسر پھر نہ ہوگا چلچلاتی دھوپ میں چلنا

یہیں کے ہو رہوگے سائے میں اک پل اگر بیٹھے

بہت گھوما پھرا تو پھر بھی خالی ہے ترا کاسہ

ادھر تو دولت دل ہاتھ آئی ہم کو گھر بیٹھے

اڑا کر لے گئی دنیا ہمیں کن کن جھمیلوں میں

نہ پھر فرصت ملی ہم کو نہ پھر ہم عمر بھر بیٹھے

فضا میں گرد کے ذروں کی صورت ہم معلق ہیں

نہ اڑنے کی تمنا کی نہ فرش خاک پر بیٹھے

اڑی ہے خاک یادوں کی امیدوں کی ارادوں کی

یہ مٹی تھی کہ بجھتی راکھ پر ہم پاؤں دھر بیٹھے

پلٹ کر جب بھی دیکھا خاک کی چادر نظر آئی

نہ گرد راہ بیٹھی ہے نہ میرے ہم سفر بیٹھے

شہزاد احمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(471) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Shahzad Ahmed, Isi Baeis Zamana Ho Gaya Hai Is Ko Ghar Baithay in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 101 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Shahzad Ahmed.