بند کریں
شاعری شرر جیغزل
غزل
شاعر : شرر جی
میرے معیار کا چرچا بہت ہے
جسے چاہا اسے چاہا بہت ہے

اسی باعث ہے شائد وہ مثالی
اسے پایا ہے کم ، سوچا بہت ہے

وہ انساں ہے فرشتہ تو نہیں
بُرا کم کم ہے وہ اچھا بہت ہے

ہوس کے سامنے دریا ہے شبنم
قناعت کے لئے تھوڑا بہت ہے

بڑا دلکش سفر ہے عشق کا بھی
مگر اس راہ میں دھوکہ بہت ہے

میں اس کو بھول پاتا ہی نہیں ہوں
مرا دل مجھ کو سمجھاتا بہت ہے

نظر ہوتی ہے سب کی اپنی اپنی
مرے نزدیک وہ اچھا بہت ہے

نشیبِ غم وہیں سمٹے ہوئے ہیں
جہاں پھیلا ہوا دریا بہت ہے

کسی طوفاں کی آمد تو نہیں ہے
فضا بوجھل ہے سناٹا بہت ہے

پرندے آج جلدی سو گئے ہیں
مرا گھر شام سےُ سونا بہت ہے

شرر بھرتا نہیں نہیں یہ وقت سے بھی
مرا زخمِ نظر گہرا بہت ہے
شرر جی © جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

(0) ووٹ وصول ہوئے