Tamanain Aziyat Ka Nazara Hum Na Kehte Thay

تمنائیں اذیت کا نظارہ ہم نہ کہتے تھے

تمنائیں اذیت کا نظارہ ہم نہ کہتے تھے

خسارا ہے خسارا ہی خسارا ہم نہ کہتے تھے

تمہاری انتہائیں انت پر بے سود نکلی ہیں

سمندر جتنا گہرا اتنا کھارا ہم نہ کہتے تھے

نہ تو بندوں سے ہے راضی نہ بندے تجھ سے راضی ہیں

خدائی روگ ہے پروردگارا ہم نہ کہتے تھے

یہ میدان تگ و دو ہے مشقت ہی مشقت ہے

وہی جیتے گا جو سو بار ہارا ہم نہ کہتے تھے

غلامی کو تو آزادی سمجھتے ہیں یہاں انساں

یہ ہتھکڑیوں میں کر لیں گے گزارا ہم نہ کہتے تھے

چنا تھا تو نے جو رستہ اسے ہم ترک کر آئے

سیانوں کو ہے کافی اک اشارا ہم نہ کہتے تھے

سبھی نے اپنے تنکے بھی بالآخر خود اٹھائے ہیں

نہیں ہوگا یہاں کوئی سہارا ہم نہ کہتے تھے

نہ ذیشانؔ آگہی پوری ہوئی عمریں ہوئیں پوری

نہ ہوگا علم کا کوئی کنارا ہم نہ کہتے تھے

ذیشان ساجد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(471) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Zeeshan Sajid, Tamanain Aziyat Ka Nazara Hum Na Kehte Thay in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 15 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.9 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Zeeshan Sajid.