الیکٹرانک ووٹنگ نظام‘دھاندلی کے خاتمہ کی طرف اہم پیشرفت

پارلیمنٹ کی میعاد 4 سال اور الیکشن کمیشن کے ممبران کا چناؤ ووٹنگ کے ذریعے کیا جائے

جمعرات جون

Electronic Voting Nizam
خالد حسین رضا
1973ء کا آئین صاف شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات یقینی بنانے کیلئے تمام ضروری اقدامات بروئے کار لانے کی ہدایت کرتا ہے ریاستی انتخابات جمہوری ممالک کے قانون ساز نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں جو اپنے شہریوں کو اپنے آئینی اور انتظامی ڈھانچے کے اندر منصفانہ اور آزادانہ طریقہ کار کے ذریعے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرنے کا قانونی موقع فراہم کرتے ہیں آزادانہ انتخابی عمل عام طور پر انتخابی نظام پر اعوام کے اعتماد میں اضافہ کرتا ہے،لیکن پاکستان میں الیکشن کے طریقہ کار پر اختلافات کا جھگڑا آج تک ختم نہ ہو سکا ہے ہر الیکشن کے بعد بلکہ کچھ تو الیکشن سے پہلے ہی دھاندلی دھاندلی کا راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں جیسے حالیہ سینیٹ کے الیکشن ہوں یا پنجاب میں ڈسکہ اور سندھ میں کراچی کے الیکشن ان تمام میں بلکہ یہ کہنا بہت مناسب ہو گا کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک جتنے بھی الیکشن ہوئے ہیں چاہے وہ عام انتخابات ہوں یا ضمنی انتخابات،تمام میں یہ ہی راگ سنتے آئے ہیں کہ الیکشن دھاندلی زدہ ہیں تمام الیکشن گزرنے کے بعد ہر سیاسی پارٹی یہ نعرہ لگاتی ہے کہ ملک کا موجودہ انتخابی نظام بہتر اور کارآمدنہ ہے لہٰذا اس کو تبدیل ہونا چاہیے،کسی بھی ملک کے نظام کو بہتر بنانے اور اسے عوامی امنگوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے اصلاحات کی ہمیشہ گنجائش ہوتی ہے اور اس کی جتنی ضرورت اس وقت ملک کو ہے شاید وہ پہلے نہ تھی کیونکہ پہلے عوام میں وہ شعور نہ تھا جو اب الیکٹرک میڈیا اور سوشل میڈیا نے عوام کو دیا ہے۔

(جاری ہے)


 پاکستانی حکومت عوام کے ذریعہ متفقہ طور پر قبول رائے دہی کے عمل کے ذریعے ایک بھی منصفانہ انتخابات کرانے میں ناکام رہی در حقیقت، بوگس پرانے زمانے کے ووٹنگ سسٹم کی وجہ سے انتخابی دھاندلی کی ان کی شکایات کی بنیاد پر پارٹیوں نے ہار کر انتخابات کے آخری نتائج کو کئی بار چیلنج کیا یہ صورتحال 2013ء میں ہونے والے پچھلے انتخابات کے دوران زیادہ خراب ہوئی تھی،جب تمام سیاسی جماعتوں نے بیلٹ چوری کا الزام عائد کیا تھا اور پارٹی کے ووٹر اپنے سیاسی احتجاج کے لئے سڑکوں پر تھے،اس عرصے میں دھاندلی کے الزامات پاکستان میں ایک عام رجحان رہا ہے ہر سیاسی جماعت الیکشن سے پہلے اپنی تقاریر میں یہ اعلان کرنا ضروری سمجھتی تھی کہ ہم حکومت میں آکر اس سسٹم کو تبدیل کریں گے لیکن جیسے ہی وہ اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوتے ہیں تو عوام کے ساتھ کئے ہوئے دوسرے وعدوں کی طرح یہ بات بھی بھول جاتے ہیں۔

ووٹ ایک قومی امانت ہے جسے صحیح طریقے سے استعمال کرکے ہم اپنی تقدیر کو سنوار سکتے ہیں،اچھی اور ایماندار قیادت کے ذریعے ملک کو ترقی کی جانب گامزن کر سکتے ہیں،لیکن ہمارے ملک میں سب کچھ ہوتے ہوئے بھی سب رائیگاں کر رہے ہیں یہاں تک کہ اپنی توانائیاں،صلاحتیں اور دانش سب کچھ غلط استعمال کرکے ضائع کر رہے ہیں ہماری منفی سوچ نے سب کچھ صرف رائیگاں ہی نہیں کیا بلکہ ہمارے لئے مصائب کا موجب بنا دیا ہے ہم نے اپنی ان صلاحیتوں،توانائیوں اور دانش کو پوری طرح سے استعمال کرتے ہوئے اپنا سب کچھ تباہ کرکے اپنی نسلوں کو صدیوں کے لئے غلام بنا دیا ہے۔

پاکستان میں صرف انتخابی نہیں بلکہ آئینی،انتظامی، قانونی،عدالتی اور معاشی اصلاحات کی جاتی رہی ہیں یہ سب کچھ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جاری رکھنے کی ضرورت پیش آتی رہی ہے تاکہ وقت کے ساتھ تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں انہیں مزید بہتر بنایا جا سکے۔
2018ء کے انتخابات میں ووٹرز نے بڑی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی سیاسی اور انتخابی نظام میں مکمل تبدیلی کی توقع کی لیکن یہ بلا تعطل بدعنوانی طریقوں اور احتساب کی عدم دستیابی اور شفافیت کی عدم موجودگی کی وجہ سے ناکام رہی،منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کی ناکامی نے دوبارہ رائے دہندگان میں شدید مایوسی کا باعث بنا اور تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے اضافی بیلٹ پیپرز کی چھپائی،انتخابی دھاندلی،گمشدہ کاغذات اور جعلی ووٹوں کے لئے شکایت کی اور احتجاج کیا جس نے پاکستان کی سیاسی حالت کو مزید خراب کر دیا۔

انتخابی اصلاحات کی وزیراعظم عمران خان کا بھی آجکل پھر سے یہ ماننا ہے کہ انتخابی اصلاحات کے بغیر پاکستان کا انتخابی نظام متنازع رہے گا۔مگر آج موجودہ حکومت کو تین سال ہونے کو ہے ان تین سالوں میں انہیں یہ بات اب یاد آئی ہے کہ وہ اس سلسلے میں بہت تقریریں کر چکے ہیں کہ ملک میں موجود انتخابی نظام کو تبدیل کرنا ہے جس کے لئے وہ انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن کو مل بیٹھ کر بات کرنے کی پیشکش بھی کر چکے ہیں اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے تحت ووٹ کے ٹریل کا سسٹم بنانا چاہتے ہیں اور 2020ء کے امریکی الیکشن کا حوالہ دیتے نہیں تھکتے اور دلیل دیتے ہیں کہ ٹرمپ نے الیکشن متنازع بنانے کی ہر ممکن کوشش کی،لیکن ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے کوئی انتخابی بے ضابطگی ثابت نہ ہو سکی جس کے جواب میں ہمارے ملک کی اپوزیشن جماعتیں 2018ء میں عام انتخابات میں آر ٹی ایس سسٹم متعارف کروانے اور اس کے دھاندلی کرنے کا سوال اٹھاتی ہیں کہتی ہیں اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے ووٹ چوری کئے گئے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) 1956ء میں تشکیل دیا گیا تھا جو اپنے کام کے تحت ایک آزاد اور خود مختار وفاقی ادارہ ہونا چاہئے جو پارلیمنٹ اور بلدیاتی انتخابات کے انعقاد اور انعقاد کا ذمہ دار ہے۔ای سی پی کے پاس 5 رکنی پینل (ریٹائرڈ جج) ہیں،جن میں سے 4 ممبران چاروں صوبوں میں سے ہیں (کسی بھی انتظامی اور آئینی تنازعہ سے بچنے کیلئے آبادی سے قطع نظر مساوی نمائندگی)۔


پاکستان میں سسٹم کی ناکامی کے لئے بیوروکریسی،ایگزیکٹو اور مقننہ ہیں سب برابر کے ذمہ دار ہیں اور یہی بنیادی وجہ ہے کہ ای سی پی اب تک فرسودہ اور لاعلاج کیوں رہا ہے مزید یہ کہ سیاسی جماعتوں کے ذریعہ چیف الیکشن کمشنر اور ای سی پی کے 4 ارکان کی تقرری بھی مقررہ انتخابات کی ایک بڑی حقیقت ہے۔اقتدار میں رہنے والے افراد میں اصلاحات اور اصلاحی اقدامات کرنا ہمیشہ غیر فطری ہی رہا ہے جو انتخابی منصفانہ اور عوامی شرکت کے ذریعے اپنے سیاسی اور مالی امکانات کو ختم کر دے گا۔

ای سی پی کا موجودہ سیٹ اپ جزوی طور پر غیر فعال ہے اس کے پاس کسی بھی قسم کا فیصلہ کرنے کی سکت نہیں ہے۔ریاستی انتخابات جمہوری ممالک کے قانون ساز نظاموں کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں جو اپنے شہریوں کو اپنے آئینی اور انتظامی ڈھانچے کے اندر منصفانہ اور آزادانہ طریقہ کار کے ذریعے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرنے کا قانونی موقع فراہم کرتے ہیں یہ تنظیمی فریم ورک جدید انتظامی اور انتظامی اقدامات کے تحت مستقل جائزوں اور ضروری ترمیم کے ذریعہ خود مختار،غیر جانبدار،موٴثر ہونا ضروری ہے،یہ نا صرف بین الاقوامی معیار اور ذمہ داریوں کی تعمیل کو یقینی بنانا ہے بلکہ ایک وسیع تر سیاسی نظام کی عکاسی کرنا،عوام میں شامل ہونا اور بہتر جمہوری نظام کی کارکردگی پر اپنے اعتماد کو برقرار رکھنا ہے۔


پاکستانی حکومت عوام کے ذریعہ متفقہ طور پر قبول رائے دہی کے عمل کے ذریعے ایک بھی منصفانہ انتخابات کرانے میں ناکام رہی۔بوگس پرانے زمانے کے ووٹنگ سسٹم کی وجہ سے انتخابی دھاندلی کی شکایات کی بنیاد پر پارٹیوں نے ہار کر انتخابات کے آخری نتائج کو کئی بار چیلنج کیا یہاں میں یہ بات کہنا بہت ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمارے سیاستدان ہوں یا وہ تمام سیاسی پارٹیاں جو کئی مرتبہ اقتدار میں آئے ہیں اور وہ حکمران اتنی سکت بھی رکھتے تھے کہ اس حساس مسئلے پر جو بھی ضروری ترامیم کرنا چاہتی وہ کر سکتی تھیں لیکن افسوس سے لکھنا پڑ رہا ہے کہ انہوں نے بھی اپنی طاقت کو استعمال نہیں کیا اور اس مسئلے کو پس پشت ڈالنے کی روایت کو برقرار رکھا اگر وہ چاہتے تو بہت آسانی سے اس پریشانی کو ختم کر لیتے اور دھاندلی دھاندلی کھیلنے والوں کا کھیل ختم کر دیتے۔

الیکشن کمیشن اپنا نیٹ ورک تیار کرے اور پورے پاکستان میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے ذریعے آئندہ تمام الیکشن کروائے،اس کے علاوہ کچھ مندرجہ ذیل اصلاحات پر بھی عمل کیا جا سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ممبران کا انتخاب پارلیمانی ووٹنگ کے ذریعے ہو۔الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو مکمل آزادی،اتھارٹی اور وسائل مہیا کئے جائیں۔

الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے ذریعے الیکشن کروائے جائیں،پارلیمنٹ کی میعاد 4 سال کر دی جائے، انتخابی مہم کے دوران امیدواروں کے اخراجات پر جانچ پڑتال کریں اور کم بجٹ والے افراد کو برابر مواقع فراہم کریں،امیدوار صرف ایک ہی نشست پر انتخاب لڑے، امیدوار ایک پارٹی کی ٹکٹ پر جیتنے کے بعد وہ کسی اور پارٹی کی طرف نہ دیکھے۔آخر میں میں یہ ہی کہوں گا کہ جو سیاستدان جھوٹ بول کر نوکریوں کا جھانسہ دیکر ووٹ حاصل کرتا ہے اس کے بعد وہ اگر اگلے 5 سال بعد دوبارہ حلقے میں تشریف لائے گا تو اس پر عوام کا ردعمل کیا ہونا چاہیے اس کا فیصلہ کرنا بھی پھر عوام کا ہی حق ہے۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Electronic Voting Nizam is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 10 June 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.