مائنس 3 فارمولا آخری مراحل میں؟

نواز کی گرفتاری ‘زرداری کی طلبی پاناما سے ملنے وال” کڑی “ہتھکڑی تک جا پہنچی

ہفتہ جولائی

minus 3 formula aakhri marahil mei
محبوب احمد
کرپشن سکینڈل کی بات ہو یا پاناما لیکس کے سنسنی خیز انکشافات ان دنوں اقتدار پر براجمان رہنے والی نامور شخصیات اور سیاسی وسماجی رہنماؤں کے کالے دھن کے چرچے زبان زد عام ہیں۔ کرپشن سمگلنگ دہشت گردی اور دیگر منظم مجرمانہ سرگرمیاں بشمول منشیات، نشہ آور ادویات کی غیر قانونی خرید وفروخت فحش کاری ،غبن، بھتہ خوری، اندرون خانہ ٹریڈنگ اور سرکاری خزانہ پر شب خون مار کر حاصل کی گئی دولت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا کام کوئی نیا نہیں۔

بد عنوانی، اقربا پروری اور اختیارات سے فائدہ اٹھانے کا کلچر قیام پاکستان کے ساتھ ہی شروع ہوا تھاجب متروکہ جائیدادوں کی بندر بانٹ کی شرمناک کہانیاں تاریخ پاکستان کا المناک باب کا حصہ بنیں۔

(جاری ہے)

نظام انصاف سے لے کر ترقیاتی منصوبوں میں آج کرپشن مکمل طور پر سرایت کر چکی ہے۔
قومی سرمائے کو بیرونی مما لک کر کے کس کس نے غیر قانونی اثاثے بنائے اور یہ دولت کن کن ممالک میں منتقل کی گئی؟ پاناماسکینڈل سے کسی حد تک حقائق کھل کر سامنے آئے ہیں اور ابھی بہت سوں کے چہروں سے پردہ اٹھنا باقی ہے۔

یاد رہے کہ 90ء کی دہائی میں بے نظیر حکومت کرپشن کے الزامات پرہی برخاست ہوئی تھی جبکہ 1993ء میں نواز شریف حکومت بھی اسی طوفان کی نذر ہوگئی،” اب ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ ن کی قیادت پاناما لیکس کے انکشافات کے بعد میگا کرپشن سکینڈل کے بے شمار الزامات کی زد میں ہے۔ ایو ن فیلڈ ریفرنس میں تو نیب عدالت نے سابق نا اہل وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو 11 برس، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7برس، کیپٹن (ر) صفدر کو2 برس کی سزا سنانے کے ساتھ ان کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم بھی جاری کردیا ہے اور ابھی مزید ریفرنسز کافیصلہ آناباقی ہے، حقیقت میں پاناماسکینڈل سے ملنے والی کڑی نے شریف خاندان کو ہتھکڑی تک پہنچادیا ہے۔

انتخابات 2018ء کی تیاریاں جس زور و شور کے ساتھ جاری ہیں بالکل ویسے ہی احتساب کا عمل بھی بڑی تیزی کے ساتھ رواں دواں ہے۔ نوازشریف کی گرفتاری اور اربوں روپے منی لانڈرنگ کیس میں ملوث زرداری کی طلبی سے بظاہر یہی دکھائی دے رہا ہے کہ متحدہ قائد سے شروع ہونے والا، مانس 3، فارمولا اپنے تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ اس بات کا کوئی دورائے نہیں ہیں کہ بدعنوانی معاشرتی ناہمواری کو جنم دیتی ہے جو بالآخر دہشت گردی سمیت متعدد جرائم کا سبب بنتی ہے اور جس ملک میں اربوں روپے کی خورد برد کی جارہی ہو اس میں گڈ گورننس کا وجود تلاش کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جاتا ہے۔

کر پٹ سیاستدانوں، بیورو کریٹس، سرکاری عہدوں پر فائر موجودہ اور سابق اہم ذمہ داروں نے دبئی، یورپ، امریکہ اور برطانیہ میں جائیدادیں اور اثاثہ جات کیسے بنائے اور یہ رقم بیرونی ممالک کیسے منتقل ہوئی یہ لمحہ فکر یہ سے کم نہیں ہے ۔ایک وزیر سے لے کر چپڑاسی تک کر پشن چھوڑ نے پرآمادہ نہیں اورہر سر کار ی افسر بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لئے بے تاب نظر آتاہے ،یہی نہیں سر کردہ لیڈرز بھی بد عنوانی کو اپنا حق قرار دیتے ہیں ۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباََ 13ہزار ارب جبکہ روزانہ 12ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے اور ہر سال 65فیصد بجٹ حکو متی کر پشن اور انتظامی نا اہلی کی نذر ہو تاہے ،اگر بغور جائزہ لیاجائے تو 2011ء سے 2015ء تک 2کھرب 91ارب 37کروڑ ڈالر سے زائد زرمبادلہ غیر طریقے سے پاکستان سے بیرون ممالک منتقل ہوا۔2011ء میں 49ارب20کروڑ30لاکھ امر یکی ڈالر 2012ء میں 54ارب73کروڑ 90لاکھ امر یکی ڈالر 2013ء میں 59ارب 19کروڑ60لاکھ امر یکی ڈالر 2014ء میں 63ارب81کروڑ90 لاکھ امریکی دالر جبکہ سب سے زیادہ زرمبادلہ 2015ء میں 64ارب22کروڑ دالر بیرون ملک منتقل کیاگیا ۔

کرپشن کی دولت بیرونی ممالک منتقل کر نیوالے مافیاکیخلاف شکنجہ تو تیار ہے لیکن آج تک اس شکنجے میں کتنے کرپٹ لوگ جکڑے گئے یہ ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ پاکستان سمیت دنیابھر میں منی لانڈرنگ ایک وباء کی صورت اختیار کر چکی ہے، یہی وجہ ہے کہ اب اسے دہشت گردی سے منسلک کرتے ہوئے اس سے چھٹکارے کیلئے سخت لائحہ عمل طے کیا جارہا ہے۔ وزارت داخلہ نے مختلف ادوار میں منی لانڈرنگ قوانین میں تبدیلی کے فیصلے کئے لیکن کوئی ٹھوس اقدامات نہ کئے جانے سے نہ ہی یہ سلسلہ تھم سکا اور نہ ہی اس سنگین جرائم میں ملوث عناصر کی گرفتاریاں عمل میں آ سکیں، ایان علی اس کی ایک تازہ مثال ہے کہ کس طرح اس ماڈل نے ان قوانین کا تمسخر اڑاتے ہوئے دبئی کو اپنا مسکن بنایا ۔

قطع نظراس کے کہ ماضی میں کیا ہوا اور یہ کس نے اورکس کے کہنے پر کیا اگر موجودہ حالات پرنظر دوڑائیں تو ایک ٹھوس منصوبہ بندی کے ساتھ نئے سرے سے ان کرپٹ عناصر کیخلاف کاروائیاں شروع ہوچکی ہیں جس کا ثبوت منی لانڈرنگ سکینڈل میں ملوث پا کستان سٹاک ایکسچینج کے چئیر مین اورممتاز بینکارحسین لوائی کی گرفتاری ہے اور اب اگلی باری کیلئے نیب متحرک ہو چکی ہے، لہٰذا یہاں پر یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں بڑی شخصیات کی گرفتاریاں متوقع ہیں۔

یادر ہے کہ حسین لوائی کے خلاف درج مقدے میں سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی کمپنی کا ذکر بھی شامل ہے اور قابل غو رامریہ بھی ہے کہ اب رقم کی منتقلی سے ایف آئی اے کو رسائی کیلئے قانونی جواز مل گیا ہے۔حسین لوائی و دیگر کے خلاف ایف آئی آر میں بڑی سیاسی اور کاروباری شخصیات کے نام شامل ہیں جبکہ منی لانڈرنگ سے فائدہ اٹھانے والی آصف علی زرداری ، فریال تالپو رکی کمپنی کا تذ کرہ بھی ہے ۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق جہاں زرداری گروپ نے ڈیڑھ کروڑ کی منی لانڈ رنگ کی رقم وصول کی وہیں انور مجید کی کمپنیوں کا بھی تذکرہ شامل ہے ۔سپریم کورٹ نے سمٹ بینک ،سندھ بینک اور یوبی ایل کے سر براہان سمیت منی لانڈرنگ کیس میں ملوث تمام ملزمان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کاحکم دیتے ہو ئے کہاتھا کہ جعلی بینک اکاوٴنٹس کی تحقیقات کے لئے پاناما طرز پر جے آئی ٹی بنائی جائے گی ،واضح رہے کہ اب سابق صدر آصف علی زرداری اوران کی بہن فریال تالپور سمیت دیگر 7ملزمان کے نام ای سی ایل میں ڈال کرایک ایسا شکنجہ تیار کرلیاگیاہے کہ جس سے بچنا ناممکن دکھائی دے رہاہے ۔

قیام پاکستان کے بعد ناکافی وسائل ،نا مساعد اقتصا دی حالات اور قومی خزانے کی لوٹ مار کے باعث غیر ملکی قرضوں کے حصول کاجو سلسلہ شروع ہوا وہ بڑھتے بڑھتے سنگین صورت اختیار کرتاجارہاہے ۔آزادی کے 71برس بعد بھی بیو رو کر یسی کو یہ احساس تک نہیں ہواکہ وہ اس عوام کے ’ ’ نوکر ہیں، ان پڑھ انگو ٹھا چھاپ سیاستدانوں نے عوام کے لوٹے کھر بوں روپے انہی کی رہنمائی میں بیرون ملک منتقل کئے اور آج جب ان کے احتساب کی باری آئی تو ان کے ہاتھ پاوٴں پھولے ہوئے ہیں جس کاواضح نظارہ احد چیمہ اور فواد کی گر فتاری کے بعد دیکھنے کو ملا ہے ۔

پاکستان میں جہاں احتساب کے نظام کو دانستہ قائم ہی نہیں ہونے دیاگیا وہاں احتسابی اداروں کی کر پٹ عناصر کیخلاف کارروائیاں کسی بڑے معر کے سے کم نہیں ہیں ۔اس بات میں بھی کوئی دورائے نہیں ہیں کہ پاکستان کا کوئی بھی ادارہ کر پشن کے پاک نہیں لیکن جب بھی ان کرپٹ مافیا کے احتساب کی آواز بلند ہوئی تواحتساب کے خوف کاشکار نام نہاد عوامی نمائندوں نے دوسروں پر انگلیاں اٹھانے سے گریز نہ کیا حتیٰ کہ سرحدوں کی محا فظ پاک فوج پر بھی الزامات کی بو چھاڑ کی گئی اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ۔

فوج پر کرپشن کے الزامات کی بات کوئی نئی نہیں لیکن اس امر سے بھی ہر کوئی بخو بی آگاہ ہے کہ فوج کے اندر خود احتسابی کا ایک ٹھوس نظام موجود ہے اوراسی نظام کے تحت متعدد افسران اور اہلکاروں کو سزا ئیں بھی دی جاچکی ہیں ۔نیشنل لاجسٹک سیل یعنی” این ایل سی “ کاکیس ان چند کرپشن کیسز میں سے ایک ہے ، حال ہی میں فوج ایک ہی بار بڑی تعداد میں کرپشن کے الزامات پر افسران کو بر طرف کرکے اس خبر کو عام کیاگیا جسے عوامی و سیاسی حلقوں میں زبر دست پذیر ائی بھی ملی تھی ۔

اربوں روپے کی بد عنوانی میں ملوث کچھ بڑی مچھلیوں کے خلاف نیب کو کارروائی کاآغاز ابھی کرنا ہے جن میں بعض کاروباری شخصیات، سٹاف ایکسچینج بروکرز اور دیگر اعلیٰ عہد یدار بھی شامل ہیں،ضرورت اب اس ام کی ہے کہ پی آئی اے، سٹیل ملز،ایفی ڈرین ،بینک آف پنجاب، اوگر ا، این آئی سی،ریلوے اور رینٹل پاو ر ونندی پور پاور پراجیکٹس اوردیگر میگا کرپشن سکینڈ لز کے کیسز ایسے ہیں کہ جن کی غیر جانبدارانہ انکو ائری وقت کا تقاضا ہے ورنہ کر پٹ عناصر کو سزا دئیے بغیر اچھی حکمران ،میرٹ ،عوامی مفادات اور خزانے کا تحفظ ایک خواب ہی رہے گا ۔

Your Thoughts and Comments

minus 3 formula aakhri marahil mei is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 21 July 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.