سندھ حکومت ‘چیف جسٹس سے ”ہاتھ“کرگئی؟

”سب اچھا ہے“کا ما حول پیدا کرنے کی کامیاب ہُنر کاری پھولدار گملوں ‘دھلی چادروں اور صفائی سے مٹھی ہسپتال کی کایا تبدیل

جمعہ دسمبر

Sindh hukoomat cheif justice say hath kar gai
 اسرار بخاری
پندرہ سو سال قبل ریاست مدینہ کا حکمران اس خوف سے لرزاں وتر ساں ہوتا تھا کہ دریائے نبل کے کنارے کوئی کتابھی بھوک سے مرگیا تو روزِ حساب اس سے جواب دہی ہو گی۔پندرہ سوسال بعد جدید ”ریاست مدینہ“میں اگر تھر کے صحرا میں انسان بھوک سے مرجائیں تو حکمران (موجودہ اور سابقہ)یہ سوچ کر پریشان نہیں ہوتے کہ ان کا مقدر ہی یہ تھا یعنی ان کے مقدر میں رزق ہی اتنا تھا لہٰذا اس حساب سے انہیں مرنا ہی تھا تھر کے مرکزی شہر مٹھی کی ڈیٹ لائین سے ہر روز کسی نہ کسی بچے کی مرنے کی خبر آتی ہے اور جب کوئی عمل معمولی اختیار کرلے تو پھر وہ توجہ کھو بیٹھتا ہے بلکہ اگر اس معمول سے ہٹ کر خبر آئے تو وہ لائق توجہ بنتی ہے ۔


چیف جسٹس ثاقب نثار نے پہلے لاہور میں یونائیٹڈ کر سچن ہسپتال (یوسی ایچ)کی حالت زار کا جائزہ لیا۔

(جاری ہے)

یہ ہسپتال متعلقہ اور ذمہ دار افراد سے یہ سوال کرتا نظر آیا ۔کوئی حیا ہوتی ہے کوئی شرم ہوتی ہے ۔تھر سے خشک سالی ‘خوراک اور پانی کی قلت کے باعث کم عمر بچوں کی اموات کی خبریں تو تواتر سے آرہی تھیں، ان کے ساتھ ساتھ یہ شرمناک خبریں بھی آرہی تھیں کہ یہاں کے لوگوں کو فراہم کی جانے والی گندم خردبرد کر لی گئی یا مجرمانہ غفلت کے باعث بوریوں میں پڑی خراب ہو گئی ۔


چیف جسٹس نے تھر میں جو کچھ دیکھا اس نے انہیں پریشان کردیا۔اپنے جیسے انسانوں سے غیر انسانی سلوک نے ان کے حساس دل کو تڑپا دیا۔کہا جاتا ہے انہیں تین شہروں مٹھی‘اسلام کوٹ اور ڈیپلو تک محدود کر کے حقیقی صورتحال دیکھنے سے محروم رکھا گیا اس پر بھی پریشان ہونے والے چیف جسٹس اگر باقی پچاسی نوے فیصد صورتحال کا مشاہدہ کرلیتے تو ان پر کیا گزرتی ۔

چیف جسٹس مٹھی میں واقع سر کاری ہسپتال میں چلے گئے جہاں ابتر صورتحال نے ان کا ”استقبال “کیا حالانکہ انتظامہ نے اس ”ابتری “پرپردہ ڈالنے کیلئے یہاں نرسری سے کرایہ پر حاصل کردہ گملے رکھے ۔
بیڈوں کی صاف ستھری چادریں تبدیل کیں ۔کئی مرتبہ جھاڑودی گئی اور پوچا پھیرا گیا لیکن چیف جسٹس اس صاف ستھرے منظر نامے سے نگاہوں کو شاد کام کرنے کی بجائے ادویات اور طبی آلات کی دستیابی کے چکر میں پڑگئے جن کی عدم دستیابی کے باعث انہیں برہم ہونا پڑا ۔

ابھی وہ اس حوالے سے برہمی کی کیفیت میں ہی تھے کہ یہاں نصب آراو پلانٹ سے پانی پی بیٹھے جس نے انہیں پریشان کردیا کہ یہ پانی انسانوں کو پینے کیلئے فراہم کیا جارہا ہے جس سے صحت پر مضر ترین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی ہمراہ تھے ۔
چیف جسٹس نے ان سے کہا ”آپ بھی یہ پانی پی کر دیکھیں “لیکن وزیراعلیٰ نے ایک گھونٹ بھی نہیں بھرا کیونکہ اگر چیف جسٹس کی طرح وہ بھی ایک گھونٹ پانی پی کر پریشان ہو جاتے تو اس کا پورے صوبے کے انتظامی معاملات پر بُرا اثر پڑ سکتا تھا اور ظاہر ہے پریشان انسان صحیح فیصلے کیسے کر سکتا ہے ۔

لہٰذا اگر وزیر اعلیٰ نے ایک گھونٹ پانی نہیں پیا تو ان کا یہ قدم صوبہ سند ھ کے عین مفاد کا تقاضا تھا ۔
انتظامیہ نے چیف جسٹس کو سب اچھا دکھانے کے لئے نہ صرف مریضوں کو چار پائیوں پر لٹا دیابلکہ انہیں صاف ستھرے بستر بھی فراہم کر دئیے گئے اور ان کے جاتے ہی دیکھتے ہی دیکھتے سابق یا معمول کی حالت زار بحال کردی گئی ،نہ صرف کیمپ اکھاڑ دیا گیا بلکہ گملے وغیرہ سامان ٹرک میں لاد کر یہ جا اور وہ جا کا مظاہرہ کر دیا گیا ۔

ہسپتال کی حالت یہ ہے کہ ایکسر ے مشین آٹھ سال سے خراب ہے ۔ہسپتال میں آپریشن تھیٹر تو موجود ہے مگر کوئی سرجن ڈاکٹر نہیں ہے ۔
چیف جسٹس کی آمد پر دو ڈاکٹروں اور چار پانچ نرسوں کو تین دن کے لئے لایا گیا ان ڈاکٹروں اور نرسوں نے یہ تین دن کس دل گردے سے گزارے ہوں گے یہ ان کے دل ہی جانتے ہیں ۔انتظامیہ نے کمال ہنر مندی سے چیف جسٹس کو اس تالاب کی جانب جانے ہی نہیں دیا جہاں انسان اورجانور ہنسی خوشی مل جل کر پانی پیتے ہیں ۔

اچانک نظر وں میں آجانے کے باعث چیف جسٹس ایک سکول میں چلے گئے جہاں نہ تو سٹاف نہ تھا نہ پانی تھا۔
چیف جسٹس نے بلاشبہ شرمندگی محسوس کی تو کچھ غلط نہیں تھا کہ لڑکیوں کے سکول میں پانی کے ساتھ ساتھ واش روم بھی نہیں ہیں اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ زیر تعلیم لڑکیوں کو کیسی وقت کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا ۔یہاں مریضوں کے لئے ایمبولینس بھی نہیں آتی پورے دن میں صرف ایک گاڑی آتی ہے ۔

دور دور سے لوگ بچوں خواتین سمیت پیدل چل کر آتے ہیں اور اس میں سوار ہوتے ہیں ۔اس دورے میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی ہمراہ تھے ۔
اس صورتحال پر انہوں نے بھی چیف جسٹس کی طرح شر مندگی محسوس کی ہو یا نہ کی ہویہ سب ان کے علم میں تو آیا ہے ،ویسے وہ بلاول زرداری کے ساتھ ہولی کے موقع پر بھی آئے تھے ہندو مردو خواتین سے مل کر رنگوں کے ساتھ ہو لی کھیلتا نوجوان بلاول کو بہت اچھا لگا تھا۔

مراد علی شاہ بھی بہت لطف اندوز ہوئے ہوں گے ،تاہم اس رنگا رنگ خوش رنگ تقریب کے موقع پر تھرکا مسائل سے لتھڑا ہوا چہرہ دیکھنے کی فرصت کب ملی ہو گی البتہ اب چیف جسٹس کی ہمرا ہی میں وزیراعلیٰ سندھ نے بچشم خود جو کچھ ملا حظہ کیا ہے امید کی جانی چاہیے خشک سالی ‘خوراک کی قلت ‘صحت کی سہولتوں کے فقدان اور دیگر امراض جن کے باعث زچہ بچہ کی اموات کی شرح بہت زیادہ ہے ۔

سندھ کے اس پسماندہ ترین علاقے میں اصلاحِ احوال کے لئے عملی قدم اٹھائے جائیں گے۔
سندھ میں پیپلز پارٹی کا اقتدار جن ووٹوں کا مرہون منت ہے ان میں تھر کے ان لوگوں کے ووٹ بھی شامل ہیں جن کے ووٹوں کی جادو اثر تاثیر یہ ہے کہ ان کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے پر اڈو‘لینڈ کروزروں اور محلات نمارہائش گاہوں کے مالک بن گئے ان کا اور ان کے بچوں کا علاج کراچی اور حیدر آباد کے بھاری فیس لینے والے پرائیوٹ ہسپتالوں اور کلینکوں میں ہوتا ہے ۔


چیف جسٹس ثاقب نثار نے تھر کا دورہ کرکے اور وزیر اعلیٰ سندھ کو ساتھ لے کر سندھ حکومت کو آئینہ دکھا دیا ہے مگر شایدوزیراعلیٰ اس میں جھانک نہ پائیں کیونکہ ان دنوں ان کا ذہن سندھ کے مختلف شہروں آصف زرداری کے جلسوں کے انتظامات میں الجھا ہوا ہے ۔ابھی چیف جسٹس ثاقب نثا رکے دورہ تھر کی باز گشت فضا میں ہی ہے کہ مٹھی سے افسوسناک خبر آئی کہ”دو پھول بن کھلے مرجھا گئے “دو ماہ کا دائم ولد کبیر اور بدھو نامی شخص کا نومولود بچے موت کے منہ میں چلے گئے ۔


اس طرح رواں سالی میں غذائی قلت اور امراض سے مرنے والوں کی تعداد 558ہو گئی ہے ۔ان دنوں سندھ کے عوام پر بُراوقت آیا ہوا ہے یوں تو سردیوں کے موسم میں گیس کی فراہمی متاثر ہوتی ہے لیکن اس مرتبہ اس نے بحران کی شکل اختیار کرلی ہے عین ممکن ہے جب یہ سطور شائع ہوں یہ بحران ٹل چکا ہو کیونکہ وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات میں یقین دہانی کرائی ہے کہ گیس کی فراہمی کی موجودہ صورتحال دو تین روز میں بہتر ہو جائیگی جمعہ ہی کے روز گورنرہاؤس سندھ میں گورنر سندھ عمران اسماعیل‘وفاقی وزیر پٹرولیم چودھری غلام سرور اور تحریک انصاف کے مقامی لیڈروں کا اجلاس ہوا جس میں گیس کی حالیہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا اگر چودھری غلام سرور کے بقول یہ مسئلہ دو تین روز میں حل ہو جاتا ہے تو سندھ میں معمول کی زندگی بحال ہو جائے گی۔


ویسے لمحہ موجود کی صورت یہ ہے کہ کراچی ‘حیدر آباد ‘سکھر ‘خیر پور ‘میر پور خاص ‘ٹنڈو محمد خان ‘شہداد کوٹ ‘کوٹری ‘ٹنڈ و آدم اور دیگر شہروں میں قدرتی گیس کی کمی سے گھریلو صارفین کیلئے مشکلات بڑھ گئیں اکثر گھریلو کے چولہے ٹھنڈے ہو گئے ۔سی این جی سٹیشن بند ہونے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ کردیا گیا اور عام لوگوں سے من مانا کرایہ وصول کیا جارہا ہے ۔

مثلاً حیدر آباد سے کراچی ٹیکسی کار میں فی سواری پانچ سو سے بڑھا کر سات سو‘بسوں میں 180سے بڑھا کر 225روپے جبکہ شہر میں چلنے والے رکشے جس جگہ کا کرایہ سوروپے لیتے تھے اب ایک سوتیس سے ایک سوپچاس روپے تک وصول کر رہے ہیں ا س طرح ان کی آمدنی کی سطح تو کسی نہ کسی حد تک پہلے کی طرح ہی ہے لیکن سارا نزلہ تو عام آدمی پر گرا ہے یہ صورتحال صرف سندھ کے سب سے بڑے شہر کراچی اور دوسرے بڑے شہر حیدر آباد کی ہی نہیں ہے بلکہ لاڑکا نہ ‘نواب شاہ ‘ٹنڈو محمد خان ‘سجاول ‘دادو‘محراب پور‘ماتلی ‘ٹنڈوآدم ‘شہداد کوٹ ‘خیر پور ‘میر پور خاص ‘قاضی احمد ‘سکھر اور کوٹری میں بھی ہے گیس کیقلت پر شدید ر دعمل اس لئے بھی ہے کہ سندھ ملک کی گیس کی مجموعی پیداوار میں 70فیصد پیدا کرتا ہے مگر اسے محروم رکھا جارہا ہے ۔


باخبر ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال پیداوار میں کمی بیشی کا نتیجہ نہیں بلکہ کسی حد تک نا اہلی کا مظاہرہ بھی ہے ۔(ن)لیگ کی حکومت میں یہ پالیسی بنائی گئی تھی کہ گیس کے بڑے فیلڈ کی اور ہالنگ سردیوں میں نہیں کی جائے گی نہ جانے اس طے شدہ پالیسی کے برعکس کس وجہ سے گیس فیلڈ کو اور ہالنگ کے لئے بند کردیا گیا دوسرے قطر سے ایل این جی لے کر جو جہاز آیا تھا اسے کس کے حکم پر واپس کیا گیا اور اس کے بعد وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر قطر سے گیس لینے گئے ہیں اگر یہ جہاز واپس نہ کیا جاتا تو یہ شدید بحران پیدا نہ ہوتا ۔


سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے جو پٹرولیم کے وفاقی وزیر بھی رہے ہیں حکومت کو اس بحران سے نبٹنے کیلئے اپنی خدمت کی پیشکش کی ہے یہ قابل تعریف ہے مگر حکومت اس پیشکش کو قبول نہیں کرے گی کیونکہ اس طرح اس پر نا اہلی کا نہ مٹنے والا داغ لگ جائے گا۔

Your Thoughts and Comments

Sindh hukoomat cheif justice say hath kar gai is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 28 December 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.