واشنگٹن ماسکو تناؤ،تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ

صدارتی انتخابات میں مداخلت کے الزام پر روس کو سنگین نتائج کی دھمکیاں خطرے سے خالی نہیں

جمعہ 28 مئی 2021

محبوب احمد
واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان کشیدگی کی یوں تو کئی ٹھوس وجوہات ہیں مگر اب چند برس سے ایک بڑا جواز یہ بھی پیدا ہو چکا ہے کہ اس نے امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کرکے ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب کرانے کی کوشش کی۔2016ء میں بھی انتخابی عمل میں ہیکنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے 35 روسی سفارتکاروں کو جبکہ 2020ء میں متعدد روسی کمپنیوں اور افراد پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے 10 سفارتکاروں اور انٹیلی جنس سروسز کے نمائندوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

امریکہ نے ایک ایسے نازک حالات میں کہ جب عراق کے بعد افغانستان میں وہ شدید مسائل کی لپیٹ میں ہے روس اور چین کے خلاف ایک ساتھ دو محاذ کھول رکھے ہیں۔جوبائیڈن کا اپنے روسی ہم منصب کو قاتل قرار دے کر سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا یقینا کسی بڑے خطرے سے خالی نہیں لیکن پیوٹن نے درپردہ اسٹریٹجی کیسی بھی ہو جواب میں دھیما لہجہ اختیار کرکے ایک بڑے لیڈر ہونے کا ثبوت دیا ہے۔

(جاری ہے)

روس نے امریکہ کو کئی محاذوں پر اس انداز سے چیلنج کیا ہوا ہے کہ اس کو گاہے بگاہے اپنی پالیسیاں تبدیل کرنا پڑ رہی ہیں۔شام اس کی سب سے بڑی مثال ہے کہ بشارالاسد کی حکومت کے خاتمہ کی تمام کوششیں ناکام بنا دی گئیں اور روسی قیادت نے افغانستان کے محاذ پر بھی سیاسی طاقت کا زور دکھانا شروع کر دیا ہے۔2 عشروں میں چین کا بڑی طاقت بن کر ابھرنا بھی امریکہ کیلئے درد سر بنا ہوا ہے۔


ٹرمپ کے دور اقتدار میں دنیا بھر کے ساتھ ساتھ واشنگٹن کے تعلقات میں واضح تبدیلی دیکھنے کو ملی۔بھارت ایک طویل عرصے سے امریکہ کا اہم پارٹنر رہا ہے مجموعی طور پر ان تعلقات میں تبدیلی کا امکان نہیں کیونکہ چین کے اثر و رسوخ کو روکنے اور عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی ”انڈو پیسیفک حکمت عملی“ کے لحاظ سے جنوبی ایشیاء کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہی اہم اتحادی رہے گا لیکن اس کے باوجود نریندر مودی کو جوبائیڈن سے زیادہ سرد مہری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں اقلیتوں خاص کر مسلمانوں سے امتیازی سلوک روا رکھتے ہوئے انسانی حقوق کی پامالی اور نیشنل رجسٹر آف سٹینرنز (این آر سی)،شہریت کے متنازعہ قانون (سی اے اے) اور مودی کی دیگر متنازعہ اندرونی پالیسیوں پر سابق امریکی صدر نے کبھی بھی تنقید کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی لہٰذا اب آنے والے دنوں میں ذاتی تعلقات میں کچھ مشکلات بھی پیش آسکتی ہیں جس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ جوبائیڈن کی انتخابی مہم کی ویب سائٹ پر کشمیریوں کے حقوق کی بحالی کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔


نائن الیون کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے دہشت گردی کیخلاف جو نام نہاد جنگ شروع کی اس نے آج پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔جوبائیڈن انتظامیہ کی جارحانہ پالیسیوں،چین اور روس کیخلاف امریکہ کی اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر نئی صف بندی سے ایک بات واضح ہو چکی ہے کہ عالمی طاقتوں واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان ان دنوں پائی جانے والی شدید کشیدگی سے تیسری عالمی جنگ کے جو بادل منڈلا رہے ہیں اس سے دنیا کا کوئی بھی ملک محفوظ دکھائی نہیں دے رہا۔

امریکہ اس امر کا برملا اعتراف کر رہا ہے کہ روس اور چین نے اپنے طاقتور پنجوں میں اسے دبوچ لیا ہے کیونکہ اب دنیا کی پالیسی میکنگ میں مشرقی ممالک اور نئے مشرقی بلاک طاقتور کردار ادا کر سکیں گے یہی وجہ ہے کہ ان ممالک کے دنیا میں بڑھتے اثر و رسوخ کیخلاف ایک جامع جنگی حکمت عملی تیار کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، بحیرئہ اسود میں جنگی بحری جہازوں کا صف آراء ہونا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

واشنگٹن نے اب جاپان،جنوبی کوریا،بھارت،آسٹریلیا اور دیگر اتحادی ممالک پر مشتمل ایک ”کواڈ“ نامی گروپ بھی تشکیل دیا ہے تاکہ حریف ممالک کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں پر مکمل کنٹرول کیا جا سکے۔جوبائیڈن اس بات سے خائف ہیں کہ چین پوری ریاستی طاقت سے اپنے اثر و نفوذ کو وسعت دے کر امریکہ اور اس کے اتحادیوں، شراکت داروں کے تعلقات میں دراڑیں ڈال رہا ہے۔

بیجنگ ایک طرف تائیوان جبکہ دوسری طرف روس یو کرائن کو دبوچنے کے چکر میں ہے۔اس میں بھی کوئی دورائے نہیں ہیں کہ دونوں ممالک کسی بھی ایٹمی حملے کا بھرپور جواب دینے کے لئے خود کو ایٹمی میزائیلوں سے لیس کر رہے ہیں،چین تو خلا میں اپنی موجودگی کو یقینی بنانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہا۔
مغربی ممالک کے ہاتھوں ایشیائی اور افریقی ممالک کی عوام کا استحصال صدیوں سے جاری ہے کیونکہ عالمی افق پر اقتدار کے حصول کیلئے نت نئے حربے استعمال کئے جا رہے ہیں۔

امریکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے اتحادیوں کی مدد سے شطرنج کی بساط ایسے بچھا رہا ہے کہ دنیا اس کی بانہوں میں ایک مرتبہ پھر سے سمٹ کر آجائے لیکن طاقت کے حصول کی جنگ اور سائبر سپیس میں لاحق خطرات کی وجہ سے حالات اب دہشت گردی سے بھی گھمبیر صورت اختیار کر چکے ہیں۔یورپ کے چند علاقوں میں سفید فام بالادستی کے حامی گروپوں سے لاحق خطرات اب داعش اور القاعدہ کو بھی پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔

آسٹریلیا،جرمنی،ناروے اور برطانیہ سمجھتے ہیں کہ سفید فام نسل پرستانہ خیالات رکھنے والے شدت پسند جن میں نیو نازی گروپ بھی شامل ہیں تیزی سے طاقت پکڑ کر سب سے بڑا دہشت گرد خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ امریکہ کو بھی سب سے بڑا خطرہ اندرون ملک پروان چڑھنے والے گروپوں سے ہے۔خطے میں خانہ جنگی اور پرتشدد تنازعات کے باعث جیسے جیسے کشیدگی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ویسے ویسے عالمی ایٹمی جنگ کے خطرات بھی مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔

امریکہ کو اگرچہ سپر پاور کی حیثیت سے دنیا بھر کے ممالک پر برتری حاصل ہے لیکن اس کے باوجود وہ عالمی افق پر اقتدار کی گرفت کو مزید مضبوط کرنے کیلئے اتحادی ممالک کو جدید ٹیکنالوجی اور امداد فراہم کرکے اپنے عزائم کی تکمیل کیلئے سر گراداں ہے لیکن قدرت کا یہ قانون ہے کہ ہر عروج کو زوال ہے یہی وجہ ہے کہ آج روس اور چین نے معاشی،دفاعی اور دیگر میدانوں میں اس کو ہر طرح سے چیلنج کیا ہوا ہے۔

ایک تو ایران اور چین جو کہ اب عظیم تر جنوبی ایشیاء کا حصہ بن گئے ہیں اور دوسرا یورپ کے چھوٹے مگر پرامن اور خوبصورت ممالک جن کو روس کے خوف سے یرغمال بنایا گیا تھا اب وہ امریکی سحر سے نکل کر اپنے ممالک سے ایسے ایٹمی اسلحہ کو ہٹانے کے خواہشمند ہیں۔
افغانستان پر قبضے کے بعد سوویت یونین کی معیشت بری طرح تباہ ہوئی اور وہ کئی حصوں میں بٹ گیا۔

امریکہ بھی ان دنوں کچھ ایسی ہی صورتحال سے دو چار ہے کیونکہ اس نے نہ جیتی جانے والی جنگ پر اربوں ڈالرز جھونک دئیے لہٰذا اب شدید معاشی بحران کا شکار ہونے کے بعد افغانستان سے راہ فرار کے بہانے ڈھونڈے جا رہے ہیں۔کیا جوبائیڈن کی قیادت میں امریکہ تاریخ کے بدترین بحران سے نکل پائے گا؟،کیا جن نئی معاشی پالیسیوں کا وعدہ کیا گیا ہے اس سے تمام امریکی مستفید ہو پائیں گے؟،کیا امریکہ ماسکو اور بیجنگ کی عالمی افق پر بڑھتی ہوئی مقبولیت کے آگے بند باندھ سکے گا؟،یہ چند ایسے سوالات ہیں جن کا جواب یقینا آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ دہشت گردی کیخلاف سابقہ پالیسیاں جاری رہیں تو اس کے بھی نتائج ماضی کی طرح بھیانک ہی نکلیں گے۔

چین نے اپنے اتحادی ممالک بالخصوص روس سے مل کر عسکری محاذ پر الجھنے کے بجائے امریکہ کے اقتصادی غبارے سے ہوا نکالنے کی ٹھانی ہوئی ہے نیا ایشیائی بینک بنا کر عالمی مالیاتی اداروں کی اجارہ داری ختم کرنے کے لئے جو مثبت قدم اٹھایا گیا وہ اس کا بین ثبوت ہے۔
امریکہ نے اس نئے بینک کے قیام پر اپنے محتاط رد عمل کا اظہار کیا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے لب ولہجے میں دن بدن کرختگی ظاہر ہوتی جا رہی ہے۔

ماسکو کا اپنے سفارتکاروں کی ملک بدری کے بعد امریکہ کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے غیر دوستانہ ممالک کی فہرست میں شامل کرنا کسی بڑے خطرے سے خالی نہیں کیونکہ پیوٹن نے حال ہی میں جس فرمان پر دستخط کئے ہیں اس کے مطابق جن ممالک کو ”غیر دوست“ ممالک قرار دیا گیا ہے وہ روسی شہریوں کو اپنے سفارتی اور قونصلرانہ مشن میں کام کرنے کے لئے ملازمت پر نہیں رکھ پائیں گے۔

اس میں کوئی شک و شبے کی گنجائش نہیں ہے کہ امریکہ،روس اور چین کے مستحکم تعلقات پوری دنیا کے مفاد میں ہے لہٰذا ضرورت اب اس امر کی ہے کہ جوبائیڈن انتظامیہ ان ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مثبت انداز میں دیکھتے ہوئے انہیں برقرار رکھنے کی پالیسیوں پر عمل کرے، یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رکھی جائے کہ اختلافات کو ایک حد میں رکھنا واشنگٹن،ماسکو اور بیجنگ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے ممالک کی ترقی و خوشحالی اور قیام امن کے لئے ناگزیر ہو چکا ہے ایسے میں سرد جنگ کی دقیانوسی ذہینت کو ترک کرکے مشترکہ اہداف حاصل کرنے کے لئے مشترکہ کو ششیں نہ کی گئیں تو قیام امن کے لئے دی گئی قربانیوں کو زائل ہونے سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

Washington Moscow Tanao is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 28 May 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.