کورونا وائرس

منگل مئی

Dr Rahat Jabeen

ڈاکٹر راحت جبین

 سب سے پہلے ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ ''وائرس'' ہوتا کیا ہے. ''وائرس'' لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے زہر. یہ ایک مائیکرو خوردبینی طفیلی ذرہ ہے. یہ بذات خود جاندار نہیں ہوتا مگر کسی بھی حیاتی جسم کے آر این اے یا ڈی این اے کے ذریعے اپنی افزائش کرتا ہے. اس لیے اسے اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے لازمی طور پر کسی خلیہ میں رہنا ہوتا ہے۔
 ''کورونا'' بھی لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی تاج یا ہالہ کے ہیں۔ اس کی ظاہری شباہت سورج کے گرد ہالے سے مماثلت رکھتی ہے اس لیے اس وائرس کو کورونا وائرس کا نام دیا گیا۔
کورونا وائرس, وائرس کے ایسے کنبے سے تعلق رکھتا ہے جو انسان اور جانور دونوں میں انفیکشن پھیلانے کا سبب بنتے ہیں.

یہ وائرس زیادہ تر پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے. مریض میں عام علامات سے لے کر سنگین صورت حال پیدا ہو سکتی ہے جس میں سانس کا اکھڑنا اور موت بھی شامل ہے. یہ وائرس سب سے پہلے 1930 میں مرغیوں میں, 1940 میں چوہوں میں اور 1960 کی دہائی میں انسانوں میں دریافت ہوا, اسے ہیومن کورونا E229 اور OC43 کا نام دیا گیا. اسکے بعد 2003 میں SARS-CoV اور 2004 میں HCoV NL63 دریافت ہوا۔

(جاری ہے)

2005 میں HKU1 اور 2012 میں MERS-CoV منظر عام پر آئے.

سب سے آخر میں دریافت ہونے والے کورونا وائرس کو nCov- 19 کا نام دیا گیا جو کووڈ 19 بیماری کی شکل میں تاحال تباہی کا موجب بنا ہوا ہے. یہ وائرس 31 دسمبر 2019 کو چین کے شہر ووہان سے ہوتا ہوا پوری دنیا کو اپنے شکنجے میں لپیٹ چکا ہے.
مختلف عالمی وبائیں:
پہلی وباء ''رومن ایمپائر'' 541ء میں طاعون تھی اس سے ڈھائی کروڑ ہلاکتیں ہوئیں.
دوسری وباء 165ء میں خسرہ,چیچک اور طاعون کی شکل میں وجود پذیر ہوئی اور پچاس لاکھ انسانی جانیں نگل گئی.
تیسری وباء 1334ء میں چین سے یورپ تک پھیل گئی اور یورپ کی ساٹھ فیصد آبادی اس وباء کی نذر ہوگئی.
چوتھی وباء نے 1576 میں کالا یرقان یا ''کوکولٹ ذیلی'' کی شکل میں میکسیکو کی لاکھوں کی آبادی نگل لی.
پانچویں وباء 1852 میں ہیضے کی شکل میں نمودار ہوئی.اس نے بھارت سے برطانیہ تک اسی ہزار سے زائد انسانی جانوں کو نگل لیا.
 1855 میں ایک بار پھر چین میں ایک کروڑ انسان چھٹی وباء کی وجہ سے طاعون کی نذر ہوگئے.
 1957 میں چین سے ہی فلو اور انفلونزا کی وباء دنیا کے کئی ممالک میں پھیلی.

ساتویں وباء کے نتیجے میں بیس لاکھ افراد ہلاک ہوئے.
1918ء میں آٹھویں وباء پھر ''عظیم فلو'' کی شکل میں پھیلی اور چار کروڑ انسانی جانیں لقمہ اجل بن گئیں.
1920ء سے1960 میں ایڈز نویں عالمی وبا کی صورت میں وقوع پذیر ہوا. نتیجے میں ساڑھے چھ کروڑ انسان متاثر ہوئے اور ڈھائی کروڑ ہلاک ہوئے.
اب کووڈ- 19 جو چین کے شہر وہان سے شروع ہوا.

وہاں ہزاروں زندگیوں کو نگلنے کے بعد اب پوری دنیا میں اپنے پنجے گاڑ چکا ہے.اب تک سوا پینتیس لاکھ افراد متاثر ہوچکے ہیں.اور تقریبا ڈھائی لاکھ افراد موت کے منہ میں جا چکے تھے.
کروونا کے بارے میں مفروضات:
جب سے کرونا نے دنیا میں پنجے گاڑے ہیں مختلف لوگ اس وباء کے بارے میں مختلف نظریات رکھتے ہیں.
1.

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ چمگاڈر کے سوپ یا زندہ چوہے کھانے کی وجہ سے پھیلا ہے کیونکہ وہان میں چمگادڑوں کی منڈی ہے اور اس وباء کی شروعات بھی چین سے ہوئیں مگر ابھی تک اس بارے میں تحقیقات سامنے نہیں آئی ہیں.
2. ایک اور مفروضے کے مطابق یہ وائرس چین کے شہر وہان کی انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی میں تیار کیا گیا ہے. تاکہ دنیا کی معیشت کا نقصان پہنچایا جاسکے.

دنیا کی معیشت براہ راست چین سے وابسطہ ہے اس لیے اگر عالمی معیشت یا امریکہ کی معیشت تباہ ہوتی ہے تو چین کی معیشت بھی تباہ ہوگی.
3. ایک مفروضے کے مطابق چین کی آبادی کم کرنے کے منصوبے کے لیے یہ وائرس پھیلایا گیا ہے. کیونکہ اس کی آبادی ایک ارب تک ہے. مگر اس مفروضے کو اس لیے بھی تقویت نہیں ملتی ہے کہ چین میں تراسی ہزار میں سے چار ہزار چھ سو افراد کی ہلاکت ہوئی ہے جو صرف ڈھائی فیصد تک بنتی ہے.
4.ایک مفروضہ یہ بھی ہے کہ یہ ایک قسم کا بائیولوجیکل ہتھیار ہے جو چین کی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے بنایا گیا ہے اور یہ ففتھ ورلڈ وار کا حصہ ہے مگر اس مفروضے پر بھی سوال اٹھتے ہیں کیونکہ امریکہ میں کرونا کی تباہ کاریاں سب سے زیادہ ہیں.

وہاں تاحال بڑی تعداد میں لوگ اپنی جانوں سے جارہے ہیں.
5. کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ یہ امریکہ نے بنایا ہے تاکہ پوری دنیا اس کا شکار ہوجائے تب وہ کووڈ 19 کے خلاف پہلے سے بنائی ہوئی ویکسین مارکیٹ میں لاسکیں اور اپنی معیشت کو چار چاند لگا سکیں. یہاں بھی کافی شکوک و شبہات سامنے آرہے ہیں کہ اپنی معیشت کو مکمل طور پر تباہ کرکے دوبارہ ایک ویکسین کے ذریعے معیشت کو آگے بڑھانا سمجھ سے بالاتر ہے.
6.

ایک اور مفروضہ کے مطابق لوگوں نے اسے 5G سے منسلک کیا اور کہا کہ 5G آنے کے بعد لوگوں میں علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں ہیں مگر یہ تھیوری اس طرح رد کی جاسکتی ہے کہ ایسے ممالک جہاں 5G نہیں ہے وہ بھی لوگ اس وائرس کی وبا میں مبتلا ہورہے ہیں اور موت کے منہ میں جارہے ہیں.
7: کچھ لوگوں کے خیال میں یہ وائرس نہیں یہودیوں کا ایک باطل نظریاتی وہم ہے.

وہ وہم اور خوف کا کھیل کھیل کر لوگوں کو گھروں تک محدود کررہے ہیں تاکہ خوف وہراس ہی ان کی موت کا سبب بن جائے. خوف کے اس بازار میں پہلے سے تیار ڈیجیٹل ویکسین جس میں ایک نینو چپ ہوگی, انسانی جسم میں منتقل کی جائے گی تاکہ سب کے دماغ سے حقیقی معبود کا خیال نکال کر ان کو دجال کی پیروی کا پابند بنایا جا سکے.
8.کچھ لوگ تو اسے ہوا سے باتیں کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ایسی کوئی چیز پائی ہی نہیں جاتی.عام مریضوں اور اموات کو کرونا کے خانے میں فٹ کیا جا رہا ہے.ان کا ماننا ہے کہ یہ صرف اور صرف سیاست ہے.

جیسے جیسے دن گزر رہے ہیں لوگوں کی نظریات بھی تبدیل ہورہے ہیں.
امریکہ چین کشیدگی:
کورونا کے پھیلاؤ کے بعد امریکہ اور چین میں سرد جنگ کا آغاز ہو چکا ہے اور کشیدگی زوروں پر ہے.جیسا کہ کووڈ 19 کا پہلا کیس 2019 کے آخر میں چین کے شہر ووہان میں پایا گیا تھا۔جس کو بنیاد بنا کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹویٹ میں کورونا کو ''چینی وائرس'' کا نام دیا.

جواب میں چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکہ کو تنبیہ کی ہے کہ وہ چین کو گالی دینے سے پہلے ’اپنے کام پر دھیان دیں‘۔جوابا چین کی وزارت خارجہ نے کورونا وائرس کو ایک سازش بتاتے ہوئے امریکی فوج پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ اس وائرس کو اس کے علاقے میں لے کر آئے ہیں. امریکی سینیٹر ٹام کاٹن کے خیال میں کورونا وائرس چین کا حیاتیاتی ہتھیار ہے اور اسے ووہان کی لیب میں تیار کیا گیا ہے اور چین کے حیاتیاتی جنگ کے پروگر ام بایو وار فیئر پروگرام کا حصہ ہے۔
 ان سب مفروضات کا جواب یہی ہے کہ یہ کسی فیکٹری میں نہیں بنا.

یہ ایک نیا ڈی این اے وائرس ہے جس کا ابھی تک کوئی علاج دریافت نہیں ہوا.لوگ حقیقت میں اپنی جانوں سے جارہے ہیں جیسے کہ پہلی وباؤں کے نتیجے میں گئے.
پاکستان اور عالم اقوام میں کرونا کے مریضوں کے اعداد شمار:
اب تک پوری دنیا میں تقریبا چالیس لاکھ سے اوپر لوگ اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں اور تقریبا دو لاکھ بہتر ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں.

امریکہ میں یہ شرح سب سے زیادہ ہے. تیرہ لاکھ کے قریب لوگ متاثر ہوچکے ہیں اور ستتر ہزار دو سو افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں.اگر پاکستان کے اعداد و شمار پر نظر دوڑائی جائے تو متاثرہ افرد کی تعداد تا حال چھبیس ہزار پانچ سو تک پہنچ چکی ہے اور مرنے والوں کی تعداد چھ سو ہوگئی ہے. انفرادی طور پر صوبائی صورت حال دیکھیں تو پنجاب میں دس ہزار تینتیس, سندھ میں نو ہزار چھ سو اکانوے, خیبر پختونخواء میں تین ہزار نو سو چھپن, بلوچستان میں ایک ہزار سات سو پچیس, گلگت بلتستان میں تین سو چرانوے,اسلام آباد میں پانچ سو اٹھاون اور آزاد کشمیر میں اٹہتر کیس ریکارڈ ہوئے ہیں.
 اب تک کے اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ مجموعی طور پر اموات کی شرح دو اعشاریہ پانچ فیصد ہے.

اگر انفرادی طور پر دیکھا جائے تو ستر سال سے اوپر کی عمر میں یہ شرح دس فیصد سے اوپر ہے. جبکہ پچاس سے ساٹھ سال تک یہ شرح تین فیصد ہے. بچوں اور خواتین میں ایک فیصد ہے.
کووڈ 19 کی علامات:
اس کی عام علامات بخار, کھانسی اور تھکاوٹ ہیں. اس کے علاوہ کچھ مریضوں میں جسم میں درد, ناک اور گلے میں سوزش یا اسہال ہو سکتا ہے.

یہ علامات آہستہ آہستہ شروع ہوتی ہیں. اسی فیصد مریض علاج کے بغیر ٹھیک ہوجاتے ہیں. بیس فیصد میں علامات شدت اختیا ر کرتے ہیں.ان میں سانس لینے میں دشواری سب سے نمایاں ہے. ایسے افراد زیادہ متاثر ہوتے ہیں جن میں قوت مدافعت کم ہوتی ہے جیسے کہ بوڑھے افراد یا پھر مہلک بیماری میں مبتلا افراد مثلا, ہائی بلڈ پریشر، دل اور پھیپھڑوں کے مسائل، ذیابیطس، یا کینسر وغیرہ.

زیادہ سیریس مریضوں میں موت بھی ہوسکتی ہے.کووڈ 19سے متاثرہ شخص میں علامت 1 سے 14 دن میں َ ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں.
''کرونا کے پھیلاؤ کے ڈرائع''
کووڈ 19سے متاثرہ شخص یہ بیماری پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے.چھینک یا کھانسی کے نتیجے میں ناک اور منہ سے نکلنے والے مواد کے ساتھ یہ وائرس دوسرے افراد کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں.

یہ وائرس منہ سے نکلنے والے قطروں میں ہوتے ہیں. یہ قطرے بھاری ہونے کی وجہ سے ارد گرد کی چیزوں پر گرتے ہیں. ان چیزوں کو ہاتھ لگانے سے بھی انفیکشن کا خطرہ ہوتا ہے.
کورونا کی تشخیص:
کووڈ_19 کی تشخیص RT PCR کے ذریعے کی جاتی ہے. اس کے لیے ناک اور حلق سے سیمپل لیا جاتا ہے. اس کا رزلٹ چند گھنٹوں سے دو دنوں تک آجاتا ہے.

مگر ایک ہفتے کے بعد یہ رزلٹ نیگیٹو آسکتا ہے کیونکہ وائرس پھیپھڑوں میں چلا جاتا ہے.اگر کورونا کے مختلف تشخیصی طریقہ کار کا معائنہ کریں تو کچھ اس طرح کا رزلٹ آتا ہے.
1.برونکو ایلویولر لاواج فلوڈ سے رزلٹ ترانوے فیصد درست آسکتا ہے جبکہ ناک یا حلق کے فلوڈ یا بلغم سے یہ رزلٹ بتیس سے ستر فیصد تک درست آسکتا ہے.
کورونا کا علاج:
مختلف ممالک کرونا کے علاج سے متعلق دعوے کر رہے ہیں جن میں برطانوی ریسرچرز نے انٹرفیروں بیٹا پر ریسرچ شروع کردی ہیں جو بائیوٹک ہے اور قوت مدافعت بڑھانے میں اس کا کردار ہے..ایران اور امریکہ میں ہائڈروکسی کلوروکوین کو جو ملیریا کے علاج میں استعمال ہوتا ہے, کورونا کے خلاف موثر قرار دیا ہے.

ڈچ سائنسدان نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے کورونا کے خلاف ویکسین تیار کرلی ہے. جو کہ سارس وائرس کے اینٹی باڈی پر مشتمل ہے.
صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں واقع ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (ڈی یو ایچ ایس) کی طبی ماہرین کی ایک ٹیم نے کرونا سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے پلازما سے حاصل کیے جانے والے اینٹی باڈیز کو صاف کر کے ان سے ایک خاص قسم کے ذرات حاصل کر کے ان سے انٹرا وینیس امیونو گلوبیولن (آئی وی آئی جی) تیار کی ہے۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اونٹ کے پیشاب کو مفید قرار دیا ہے.
انڈیا والوں نے گائے کے پیشاب کو کورونا کا علاج قرار دیا ہے اسی طرح دوسرے ممالک میں بھی لوگ اپنے عقائد کے مطابق علاج کے ٹوٹکے دریافت کر رہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ آج کی تاریخ تک کورونا وائرس کا کوئی مستند علاج اور ویکسین دریافت نہیں ہوئی ہے.

علامات کے حساب سے دوائیاں دی جاتی ہیں. اور آئیسولیشن میں رکھا جاتا ہے. سانس اکھڑنے کی صورت میں وینٹیلیٹر کا استعمال کیا جاتا ہے. اینٹی بائیوٹک کا بھی کوئی خاص کردار نہیں ہے. کیونکہ اینٹی بائیوٹک بیکٹیریا کے خلاف اثر رکھتا ہے وائرس کے نہیں.اگر سیکنڈری بیکٹیریل انفیکشن ہو تب استعمال کرسکتے ہیں.
حفاظتی تدابیر:
1.کسی بھی قسم کے صابن یا ہینڈ واش سے بیس سیکنڈ تک بار بار ہاتھ دھونا.

جہاں یہ ممکن نا ہو وہاں الکوحلک سینیٹائزر کا استعمال کرنا.
2. ایک دوسرے سے کم سے کم ایک سے دو میٹر کا فاصلہ رکنا.
3. رش والی جگہ پر جانے سے گریز کرنا.
4. گھر سے بلاوجہ باہر نہ نکلنا.
5. ہاتھوں سے ناک، آنکھ اور منہ کو چھونے سے پرہیز کرنا۔
6. متاثرہ افراد اور ان کی استعمال کی ہوئی چیزوں سے دور رہنا۔
7. چھینک یا کھانسی کی صورت میں ٹشو پیپر کا استعمال کرنا اور ٹشو پیپر کو فورا ڈسٹ بن میں ڈال دینا.
8.

باہر جانے کی صورت میں لازمی طور پر ماسک اور دستانوں کا استعمال کرنا اوراستعمال شدہ ماسک اور دستانوں کو جلانا تاکہ کوئی اور ان سے متاثر نہ ہوسکے.
8. معمولی علامات کی صورت میں خود کو گھر تک محدود کرنا.
9. بار بار گرم پانی پینا.
10. بخار, کھانسی یا سانس میں دشواری کی صورت میں فورا اپنے علاقے کے متعلقہ ہیلپ لائن پر فون کرنا تاکہ بروقت علاج ممکن ہو.
11.اسپتال میں استعمال شدی پی پی ای کٹ کو جلانا.
12.

قوت مدافعت میں اضافہ کرنا.
13. خوراک میں انڈے, پھل,سبزیوں اور وٹامن سی کا زیادہ سے زیادہ استعمال.
14حکومت کے ساتھ ہر ممکن حد تک تعاون کرنا.
کورونا اور لاک ڈاؤن:
کرونا کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن ناگزیر ہو چکا ہے. پوری دنیا میں لاک ڈاؤن کے ذریعے اس پر کنٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے.

لاک ڈاؤن سے دو طرح کے مثبت اور منفی نتائج سامنے آرہے ہیں. لوگ کرونا کو عذاب الہی سمجھنے کے ساتھ ساتھ تحفہ بھی قرار دے رہے ہیں.اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو لوگ عبادات کی صورت میں اپنے رب سے نزدیک ہورہے ہیں ہر کوئی اپنے اختلافات بھلا کر دوسروں کے لیے دعا گو ہوگیا ہے. دنیا میں سنگین جرائم کی شرح کم ہوچکی ہے. ماحولیات میں خوشگوار تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے.

مگر دوسری جانب پورے عالمی دنیا کی معیشت تباہی کے دھانے پر پہنچ چکی ہے عام آدمی سے لے کر ملکی اور عالمی سطح پر سب کا دیوالیہ نکلنے کو ہے. اب جہاں ایک طرف کرونا کی تباہ کاریاں عروج پر ہیں وہیں دوسری جانب لاک ڈاؤن کی وجہ سے عام آدمی فاقوں تک پہنچ چکا ہے. ڈر تو یہ ہے کہ کہیں کرونا کی اموات سے زیادہ بھوک افلاس اور خودکشی کی ہلاکتیں نہ ہوں۔شاید اسی وجہ سے لوگ ہر ممکن حد تک لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرتے نظر آتے ہیں.
کورونا اور پاکستان:
پاکستان میں بھی کورونا نے تیزی کے ساتھ پھیلنا شروع کردیا ہے.

یہاں درپیش مسائل بھی باقی ممالک سے قدرے مختلف ہیں. یہاں طبی عملہ اور کرونا سے متاثرہ مریض بھی سیاست کی نظر ہو رہے ہیں. یہ سیاست گورنمنٹ سے لے کر عوام کی سطح پر ہر جگہ کی جا رہی ہے. سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے تشخیص اور علاج کے عمل میں مسئلے پیدا ہورہے ہیں۔انتظامی بد نظمی کی وجہ سے یہاں کرونا کے علاوہ بھوک بھی انسانی جانوں کو نگلنے کے لیے تیار کھڑی ہے.

لوگوں میں خودکشی کا رحجان بڑھ رہا ہے.
حکومتی بیانیہ:
کورونا کے بارے میں حکومتی بیانیہ شروع سے ہی متضاد رہا ہے. شروع میں بارڈر اور ہوائی اڈے کھلے رکھنے کی پالیسی اپنائی گئی جس کی وجہ سے کرونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ گئی.اسی طرح لاک ڈاؤن کا بیانیہ بھی اختلافات کا شکار رہا ہے. حکومت پہلے لاک ڈاؤن کے خلاف رہی اور بعد میں لاک ڈاؤن کی حمایت کردی اب جب کہ مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے تو سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی زیر غور ہے.
پاکستان کے لیے بیرونی امداد:
امریکہ نے پاکستان کو کورونا سے نمٹنے کے لیے پہلے بیس لاکھ ڈالر اور بعد میں اسی لاکھ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا جبکہ جاپان نے دس لاکھ ڈالر کا اعلان کیا.
ہوم آئیسولیشن:
کورونا کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نذر جہاں باقی ممالک میں سیلف آئیسولیشن پر عملدرآمد ہو رہا ہے وہیں پاکستان میں بھی اسپتالوں کی گنجائش ختم ہورہی ہے اور اب یہاں بھی واحد حل سیلف آئیسولیشن میں نظر آرہا ہے.

اس سلسلے میں محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر نے کورونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ اور ٹیکنیکل ورکنگ گروپ کی سفارشات پر باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جس کے مطابق ہوم آئیسولیشن کے لئے عالمی ادارہ صحت کے ایس او پیز کو مد نظر رکھ کر معمولی علامات والے مریضوں کو دس دن ہوم آئیسولیشن میں رکھا جائے گا. اور دو ٹیسٹ نگیٹیو ہونے تک وہ آئیسولیشن میں رہنے کا پابند ہوگا.
اسلام اور کرونا:
بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ وباء انسانوں کے اپنے اعمال کی سزا ہے کیوں کہ معاشرے میں ظلم و ستم اور نا انصافی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے.

یہ انسان کو اس کی اوقات یاد دلانے کا پیغام ہے کہ کس طرح ایک غیر مرئی وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور عالم اقوام کی معیشت کو تباہ کردیا. سب کو اپنے گھروں تک محدود کردیا. کیونکہ جیسا کہ قرآن مجید میں پروردگار فرماتا ہیں.
''اور تم پر جو مصیبت آتی ہے وہ خود تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آتی ہے''.
اگر دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ واقعی ایسا ہے کیونکہ ہم کشمیر کو بھول چکے تھے جو مسلسل دس ماہ سے کرفیو اور مکمل لاک ڈاؤن کی پابندیاں اور ظلم و ستم سہہ رہے ہیں.

ہم یمن, شام,عراق, میانمار اور فلسطین پر ہونے والے ظلم کی داستانیں سنی ان سنی کر رہے تھے. یہ بھی گمان ہے کہ یہ اس شامی بچے کی رب کائنات سے شکایت کا نتیجہ ہے جس نے رو رو کر کہا تھا کہ ''میں اوپر جا کر سب بتاؤنگا''.
 شاید یہ سب اللہ کی ناراضگی اور کہر کی وجہ ہے کہ ہم نے مظلوم کے حق میں فریاد نہیں کی. کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا.
''مظلوم کی بددعا سے ڈرو کیونکہ اس کی آہ براہ راست خدا تک پہنچتی ہے اور کوئی چیز رکاوٹ نہیں ہوتی''۔
اسلامی حوالے سے مختلف مذہبی جماعتیں یہ بھی کہتی پائی جارہی ہیں کہ ہمییں اللہ پر توکل ہے یہ وباء ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی مگر تحقیق سے ثابت ہے کہ حضرت نوح کے دور میں, طوفان آنے کے وقت جب حضرت کی بنائی ہوئی کشتی میں سب سوار ہوئے تو ان میں نوح کا بیٹا شامل نہ تھا حضرت نوح نے کشتی بنائی اور جان بچائی.

پھر لوگوں نے دیکھا کہ جہاں وباء نے ایران سے آئے ہوئے زائرین کو متاثر کیا وہیں بڑی تعداد میں تبلیغیوں کو بھی اپنے نرغے میں لے لیا. مگر پھر بھی یہ سب لاک ڈاؤن اور مصافحہ کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں. حالانکہ اس بارے میں ہمارے پیغمبر کی واضح احادیث موجود ہیں. رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون کی وبا سے متعلق یہ کہا ہے کہ جب کسی علاقے میں یہ وبا آئے, تو اس علاقے کے لوگ وہاں سے باہر نا جائیں اور نا کوئی متاثرہ علاقے میں آنے کی کوشش کرے.
اسی طرح وبائی صورتحال سے بچنے کے لیے مصافحہ نہ کرنا بھی حدیث سے واضح ہے.

ثقیف کے وفد میں موجود ایک کوڑھی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مقام سے ہی لوٹا دیا، نہ عملا'' بیعت کی، نہ مصافحہ کیا اور نہ ہی سامنا کیا۔ بخاری شریف میں ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، ''کوڑھی سے یوں بھاگو، جیسے شیر سے خوفزدہ ہو کے بھاگتے ہو''
اسی لیے جب تک وبائی حالت برقرار ہیں تب تک مندرجہ بالا احادیث ہماری راہنماء کے لیے موجود ہیں.
کورونا کے ٹیسٹ اور شکوک و شبہات:
 تنزانیہ میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 400 اور سولہ اموات ریکارڈ کی گئیں تو صدر موگلفی کو لیبارٹی کے تیکنکی عملے اور ٹیسٹنگ کٹ پر شک و شبہ گزرا.

اپنے شک کو دور کرنے کے لیے انہوں نے خفیہ طور پر کچھ سیمپل ٹیسٹ کے لیے لیب بھیجے, جن میں مختلف جانوروں, پپیتے اور آئل کے نمونے شامل تھے. مگر حیرت انگیز طور پر پپیتے, بکرے اور ایک بٹیر کی رپورٹ مثبت آگئیں, جس نے ٹیسٹنگ کٹ اور ان کے معیار کو لیکر نئے شکوک و شبہات پیدا کیے.
اگر پاکستان میں ٹیسٹنگ کے معیار کو دیکھا جائے تو یہاں بھی اس حوالے سے کئی سوالات اٹھ رہے ہیں.

پچھلے دنوں کراچی میں ایک فیملی کا کرونا ٹیسٹ کروایا گیا تو شیر خوار بچے میں کرونا کا رزلٹ مثبت آیا جبکہ اس کی ماں کا نیگیٹو. سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شیر خوار بچہ چوبیس گھنٹے ماں کے پاس ہوتا ہے اگر کسی سے یہ بیماری لگی بھی ہے تو ماں کیسے بچ گئی. اسی طرح سندھ گورنمنٹ کے لیب سے کئی افراد کا ٹیسٹ مثبت آیا. مگر انہی افراد کا پرائیویٹ لیب سے نیگیٹو آیا.

جن سے ان سوالات کو مزید تقویت ملتی ہے. سوال یہ بھی ہے کہ یہ غیر معیاری کٹس کس ملک میں بن رہی ہیں. اس کے پیچھے صرف پیسہ ہے یا پھر عالمی سطح پر کوئی کھیل کھیلا جا رہا ہے.
امریکا کے شہر سان ڈیاگو میں مقیم لاڑکانہ کے جمیل نے کورونا کے لیے ٹیسٹنگ کٹ بنائی ہے جو پانچ منٹ میں کورونا کا رزلٹ دے سکے گی. اس ٹیسٹ ڈیوائس کو امریکی سرکاری ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے منظور کر لیا ہے۔اب سوال یہ بھی ہے کہ باقی عالمی کٹس کے موجودہ معیار کے سامنے اس کا بھی وہی معیار ہوگا.
کورونا سے متعلق سوالات:
لوگوں کے ذہن میں اس بیماری کو لے کر کچھ شکوک و شبہات ہیں اور WHO نے کسی حد تک ان کا جواب دے دیا ہے.
سوال:کیا CoVID-19 کسی ایسے شخص سے ہو سکتا ہے جس میں علامات نہ ہوں؟
جواب:جی ہاں ایسے لوگ جن میں علامات نہ ہوں اس بیماری کو زیادہ پھیلانے کا سبب بنتے ہیں.
سوال: کیا کرونا ایک سے زیادہ بار ہو سکتا ہے؟
جواب: ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ کتنی بار ہوتا ہے لیکن دوسری بیماریوں کی طرح اس کی تھیوری بھی یہی ہے کہ پہلے سے متاثرہ شخص میں مدافعتی نظام دوبارہ اس بیماری کی شدت کو روکتا ہے.
سوال: ہم اپنی حفاظت کیسے کرسکتے ہیں؟
جواب: حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرکے جن میں بار بار ہاتھ دھونا شامل ہے اور ایک دوسرے سے کم سے کم ایک سے دو میٹر کا فاصلہ ضروری ہے اس لیے کہ یہ وائرس ایک میٹر تک سفر نہیں کرسکتا ہے.

ممکنہ حد تک گھروں میں محدود رہنا اور غیر ضروری میل جول سے اجتناب کرنا اور آپس میں سماجی فاصلے رکھنا ناگزیر ہے.
سوال: سیلف قرنطینہ کیاہے؟
جواب: اگر شبہ ہو کہ آپ کووڈ-19 مریض سے مل چکے ہیں یا نا ملنے کے باوجود آپ میں علامات ظاہر ہونا شروع ہوگئی ہیں یا پھر آپ کا ٹیسٹ مثبت آئے تو فورا دو ہفتوں کے لیے سب سے مکمل طور پر الگ تھلگ ہوجائیں اسے سیلف قرنطینہ کہتے ہیں.
سوال: بخار کی صورت میں ہمیں کسے پتہ چلے گا کہ یہ کووڈ 19 کا بخار ہے.
جواب: اگر آپ ملیریا یا ڈینگی فیور والے علاقے میں رہائش پذیر ہیں.تو بخار کی صورت میں فورا چیک اپ اور ٹیسٹ کرائیں.

اگر کسی دوسرے علاقے میں ہیں تو بخار کی صورت میں خود کو سب سے الگ کرلیں اور اپنا کووڈ- کا ٹیسٹ کروا لیں.
سوال: کیا بچوں یا نوعمر افراد کو CoVID-19 ہو سکتا ہے؟
جواب: اگرچہ کہ مشاہدے میں بچے کم ہی متاثر دیکھے گیے ہیں مگر ان میں بھی انفیکشن کا خطرہ باقیوں کی طرح ہے.
سوال: کووڈ 19کا جانورں سے کوئی ربط ہے اورکیا پالتو جانور CoVID-19 سے متاثر ہو.

سکتے ہیں؟
جواب: اس بات کی تصدیق ابھی تک نہیں ہوسکی ہے کہ اس کی ابتدا کسی جانور سے ہوئی ہے البتہ انسانوں کے ساتھ ساتھ کچھ پالتو جانورں کی جانچ پڑتال کی گئی تو رپورٹ مثبت آئی ہے. اس لیے حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق جانوروں کو سنبھالنے، ان کا کھانے اور دیکھ بھال کے بعد ہاتھ دھونا ضروری ہیں جانورں کے ساتھ کھانے انہیں چومنے، چاٹنے سے پرہیز کرنا بھی شامل ہے.
سوال: کیا انسانی فضلے سے یہ انفیکشن پھیل سکتا ہے.
جواب: ابھی تک اس کے شواہد نہیں ملے ہیں
سوال: کیا ماسک آپ کو کورونا وائرس سے بچا سکتا ہے؟
جواب: کافی حد تک یہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد گار ثابت ہوسکتا ہے.

خاص کر جب کرونا سے متاثرہ شخص ماسک پہنے.
سوال: کیا مردے سے یہ وائرس زندہ انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے؟
جواب: ایمیٹی یونیورسٹی، دبئی کے شعبہ فارنزک سائنسز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پروگرام رہنما ڈاکٹر نارشانت سنگھ نے گلف نیوز کو بتایا: ''جب کوئی فرد کووڈ 19 سے مرتا ہے تو اس کے جسم میں وائرس اپنے جسمانی عمل کی حیثیت سے زندہ رہتا ہے مگر فزیکلی اس کا پھیلاؤ رک جاتا ہے لیکن اس کے ہاتھ اور کپڑے انفیکشن پھیلانے کا باعث بن سکتے ہیں کیوں کہ وائرس کئی گھنٹوں تک بے جان سطح پر متحرک رہتا ہے۔
سوال: کورونا سے صحتیاب ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے؟
مختلف عمر کے لوگوں میں مختف ٹائم لگتا ہے.

ساتھ ہیں یہ اس بات پر منحصر ہے کہ بیماری کی شدت کتنی ہے. اوسطا مریض ٹھیک ہونے میں دو ہفتے لیتا ہے.
سوال: یہ وباء کب ختم ہوگی؟
جواب: سنگاپورین یونیورسٹی نے چین اور ساؤتھ کوریا میں اس بیماری کے خاتمے کے ساتھ ساتھ تمام عالمی اعداد و شمار کو مدنظر رکھ کر یہ پیشن گوئی کی ہے کہ ستائیس نومبر 2020 کو یہ وباء مکمل طور پر پوری دنیا سے ختم ہوجائے گی اور سولہ جون 2020 تک %99 ختم ہوجائے گی.
پاکستان میں انتیس جون کو 99فیصد اور بارہ ستمبر کو 2020 کو 100فیصد ختم ہوگی.
اس کے علاوہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی نئی اعلانیہ کے مطابق, ڈائریکٹر ایمرجنسی ڈبلیوایچ او مائیکل ریان نے جینیوا کے ورچوئل پریس کانفرنس میں کہا کہ, پیش گوئی کرنا مشکل ہے کہ یہ وائرس دنیا سے ختم ہوگا یا نہیں.

ان کے بقول شاید کورونا بھی کبھی ختم نہ ہو اور دنیا کو ایڈز کی طرح اس کے ساتھ ہی رہنا پڑے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Coronavirus Column By Dr Rahat Jabeen, the column was published on 19 May 2020. Dr Rahat Jabeen has written 8 columns on Urdu Point. Read all columns written by Dr Rahat Jabeen on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.