
ایک نہیں دو پاکستان
منگل 19 نومبر 2019

حسان بن ساجد
پھر تاریخ گواہ ہے کہ کیسے پاکستان کو تنہا کرنے کے لیے قائد اعظم کے چنے ہوے وزیراعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں شہید کیا جاتا ہے اور پھر اس ملک پر سرمایا داروں، وڈیروں کا راج چلتا رہتا ہے۔
(جاری ہے)
30 اکتوبر 2011 کو لاہور مینار پاکستان میں جلسہ عام کے بعد عمران خان صاحب اور پاکستان تحریک انصاف ملکی تیسری بڑی سیاسی جماعت کے طور پر ابھرتی ہے جس کا روز اول سے نعرہ "دو نہیں ایک پاکستان" تھا یا "تبدیلی" اس جماعت کا نعرہ تھا۔ اسی طرح اس جماعت کا بیانیہ تھا کہ اسی نظام انتخاب و سیاست میں رہ کر الیکشن لڑ کر تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔نوجوان نسل تحریک انصاف کے پیچھے کھڑی ہوئی۔ ہم دیکھتے ہیں 23 دسمبر 2012 کو اسی مینار پاکستان میں ڈاکٹر طاہر القادری اور پاکستان عوامی تحریک اور انکی جماعت ملکی چوتھی بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھرتی ہے اور آپ کا نعرہ پہلے "احتساب پھر انتخاب" ہوتا ہے۔آرٹیکل 62 و 63 کے نفاذ اور انتخابی و سیاسی نظام کی تبدیلی کی بات ہوتی ہے اور آپ انتخابی نظام میں تبدیلی کے لیے اسلام آباد لانگ بھی کرتے ہیں مگر 11 مئی 2013 کے انتخابات کے بعد تحریک انصاف کو صرف 35 سیٹیں ملتی ہیں اور ہر زبان عام ہوتا ہے "طاہر القادری ٹھیک کہتے تھے" پھر 2014 کے لانگ مارچ تھے یا پھر پانامہ لیک کے بعد نواز شریف صاحب کو وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے اور آرٹیکل 62 (1) ایف کی خلاف ورزی پر صادق و امین نا ہونے کا فیصلہ آتا ہے۔العزیزیہ کیس میں میاں صاحب کو 7 سال جیل کے ساتھ ساتھ ڈیڑھ ارب روپے اور 25 ملین ڈالر کا جرمانہ ہوتا ہے۔پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ احتساب کا عمل اتنا تیز ہوتا ہے اور مجرم کو سزا ملتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں پانامہ لیک پر سپریم کورٹ میں کیس کرنے والے شیخ رشید صاحب اور عمران خان صاحب 2018 کے انتخابات جیت جاتے ہیں۔عمران خان صاحب وزیراعظم پاکستان منتخب ہوتے ہیں۔ رہی بات 2018 کے انتخابات کو بھی دھاندلی زدہ کہاجاتا ہے اور نظام کی شفافیت پر ایک بار پھر قدغن لگتا ہے۔ نواز شریف صاحب کی بیماری کی بنیاد پر انکی ضمانت ہوتی ہے حتی کہ نام ای۔سی۔ایل سے نکالنے کے لیے وفاق و نیب میں خط و کتابت چلتی ہے میرے پچھلے کالم "مولانا ڈاکٹرائن اور میاں صاحب" میں پہلے ہی تجزیہ دے چکا تھا کہ یہ معاملہ عدالت جاتے دیکھ رہا ہوں اور بڑا رلیف ملتے دیکھ رہا ہوں۔البتہ ثابت ہوا اس ملک میں دو پاکستان ہیں ایک غریب کا اور دوسرا امیر، سرمایا دار اور وڈیرے کا۔ صرف سانحہ ماڈل ٹاؤن کے کیس کی بات کروں تو 14 لوگ شہید ہوے انکی 8 اپیلیں عدالت میں جمع ہیں سنوائی نہیں ہوئی۔ 5 سال ہوگئے انھیں انصاف نہیں ملا۔ اسی طرح ایک سانحہ، سانحہ ساہیوال کے لواحقین آج تک انصاف کے منتظر ہیں۔یہاں غریب کے گھر چوری ہو جانے پر کورٹ کچہری جانے سے ڈرتے ہیں کہ کہیں الٹا اور کام لمبا نا ہوجاۓ اور پیسوں کا ضیاع نا ہو۔ تحریک انصاف کی حکومت اور اس نظام نے ایک مرتبہ پھر کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ "طاہر القادری ٹھیک کہتے تھے" اس نظام کے اندر کبھی تبدیلی نہیں آے گی۔ افسوس! عوام کی امید کا آخری تارا بھی سیاست سے ریٹائر ہوگیا۔ مجھے اس ملک میں اب نظام خواہ وہ سیاسی ہے یا انتخابی میں تبدیلی و اصلاح کی کوئی آواز نظر نہیں آتی۔ بڑے بڑے امیر مزید امیر اور طاقتور ہوتے جارہے ہیں اور غریب مزید غریب اور کمزور ہوتا جارہا ہے۔ ریاست مدینہ کے عکس کی دعویدار حکومت کو سمت درست کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ بے روزگاری ہے یا مہنگائی یا پھر غربت دن بدن سب میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔غریب دو وقت کی روٹی کو ترس گیا ہے اور پرانا پاکستان مانگتا پھر رہا ہے۔ ملکی جیلوں میں 870 لوگ بیمار ہیں مگر انھیں اسی جیل کے اندر جل سڑ کر مرنا ہوگا۔ قائد اعظم و شہداے تحریک آزادی کی روحیں آج پاکستان کو دیکھ کر پریشان ہوں گیں کہ ہم نے کس پاکستان کی جدوجہد و قربانی دی تھی اور آج کا پاکستان کیسا ہو گیا؟ اس ملک کو صحیح معنوں میں ایسا شفاف نظام سیاست و انتخاب دینا ہوگا جس میں غریب کا بچہ، کسان کا نمائندہ کسان، مزدور کا نمائندہ مزدور، طالبعلم کا نمائندہ طالبعلم، وکیل کا نمائندہ وکیل، استاد کا نمائندہ استاد ہو ناکہ سرمایا دار و وڈیرہ ہو تاکہ اس ملک کے ہر طبقے بات پارلیمنٹ میں ہو مگر افسوس یہ طبقات تو الیکشن جیت تو کیا لڑ نہیں سکتے۔ مگر امید پر دنیا قائم ہے شائد قائد اعظم کا پاکستان پلٹ آے اور ملک صحیح سمت کو چلے۔ البتہ مجھے احتساب کا نعرہ اب دفن ہوتا نظر آتا ہے اور میاں صاحب لمبے عرصہ کے لیے ملک بدر رہیں گے۔
ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
تازہ ترین کالمز :
متعلقہ عنوان :
حسان بن ساجد کے کالمز
-
مہنگا نظام اور عوام
بدھ 2 فروری 2022
-
محبت اور آج کی محبتیں!
جمعرات 1 اپریل 2021
-
23 مارچ "یوم پاکستان" کیا ہم آزاد ہیں؟
جمعرات 25 مارچ 2021
-
کیا تبدیلی آنے والی ہے؟
پیر 8 مارچ 2021
-
اساتذہ پر لاٹھی چارج و گرفتاریاں!
جمعرات 24 دسمبر 2020
-
پی۔ڈی۔ایم اور کرونا وائرس
اتوار 29 نومبر 2020
-
پھر تم سا نا کوئی ہوا
جمعرات 22 اکتوبر 2020
-
نواز شریف اور 12 اکتوبر 1999
پیر 12 اکتوبر 2020
حسان بن ساجد کے مزید کالمز
کالم نگار
مزید عنوان
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2025, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.