کراچی سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخاب میں حصہ لینے والے امیدواروں کا زرضمانت ضبط ہونے کے نتیجے میں2 کروڑ62 لاکھ 30 ہزار روپے قومی خزانے میں جمع ہوئے، رپورٹ

کراچی میں چیئرمین پیپلز پارٹی ، سربراہ پی ایس پی ، چیئرمین برابری پارٹی ،چیئرمین مہاجر قومی مومنٹ ،امیر جماعت اسلامی سندھ ، امیر جماعت اسلامی کراچی، عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدراور سنی تحریک کے سربراہ کی زرضمانت ضبط کرلی گئی

اتوار اگست 17:30

کراچی سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخاب میں حصہ لینے والے ..
�راچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 اگست2018ء) سندھ کے دارالخلافہ کراچی سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخاب میں حصہ لینے والے امیدواروں کا زرضمانت ضبط ہونے کے نتیجے میں 2 کروڑ 62 لاکھ 30 ہزار روپے قومی خزانے میں جمع ہوئے۔الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2018 میں قومی اسمبلی کے امیدوار کے لیے کاغذات نامزدگی کی فیس 30 ہزار روپے جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے امیدوار کی فیس 20 ہزار روپے مقرر کی تھی۔

انتخابات میں زر ضمانت ضبط ہونے کے نئے فارمولے کے مطابق اپنے حلقے میں ڈالے گئے مجموعی ووٹوں کے ایک چوتھائی سے کم ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار کی زرضمانت ضبط کرلی گی،ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹوزردار، سربراہ پی ایس پی مصطفی کمال، چیئرمین برابری پارٹی جواد احمد ،چیئرمین مہاجر قومی مومنٹ آفاق احمد ،امیر جماعت اسلامی سندھ معراج الہدی صدیقی، امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان، عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدرشاہی سید اور سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز قادری کی زرضمانت ضبط کرلی گئی۔

(جاری ہے)

الیکشن کمیشن کی جاری کردہ تفصیلات مطابق کراچی سے قومی اسمبلی کی 21 نشستوں کے لیے 343 امیدواروں نے الیکشن میں حصہ لیا۔مجموعی طور پر قومی اسمبلی کے 317 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں اور اس طرح 95 لاکھ 10 ہزار روپے قومی خزانے میں جمع ہوئے جن امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں ان میں 19خواتین بھی شامل ہیں۔کراچی کے حلقہ این اے 237 ملیر ٹو سے تحریک انصاف کے جمیل احمد خان 33 ہزار 289 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جب کہ پیپلز پارٹی کے عبدالحکیم بلوچ نے 31 ہزار 107 ووٹ حاصل کیے اور دوسرے نمبر پر رہے۔

اس حلقے سے 14امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں ۔ این اے 238 ملیر تھری سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سید رفیع اللہ 29 ہزار 598 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے اور باقی تمام 19 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں۔این اے 239 کورنگی کراچی ون سے تحریک انصاف کے محمد اکرم 69 ہزار 147 ووٹ لے کر فاتح رہے جب کہ ایم کیو ایم پاکستان کے سہیل منصور 68 ہزار 811 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر آئیاوراس حلقے میں 17 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط کرلی گئیں۔

این اے 240 کورنگی کراچی ٹو پر ایم کیو ایم پاکستان کے اقبال محمد علی خان 61 ہزار 165 ووٹ لے کر کامیاب رہے اور15 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں۔این اے 241 کورنگی کراچی تھری سے تحریک انصاف کے فہیم احمد 26 ہزار 703 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے۔14 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں ۔ این اے 242 کراچی ایسٹ ون سے تحریک انصاف کے سیف الرحمن 27 ہزار 333 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔

18 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں۔ این اے 243 کراچی ایسٹ ٹو سے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان 91 ہزار 985 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔این اے 244 کراچی ایسٹ تھری سے تحریک انصاف کے علی زیدی فاتح رہے جب کہ مسلم لیگ ن کے مفتاح اسماعیل اور ایم ایم اے کے زاہد سعید سمیت 20 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں۔این اے 245 کراچی ایسٹ فورسے تحریک انصاف کے عامر لیاقت حسین 56 ہزار 664 ووٹ کامیاب رہے اور اس حلقے سے ایم کیو ایم پاکستان کے فاروق ستار سمیت 14 امیدواراپنی ضمانت ضبط کروا بیٹھے۔

این اے 246 کراچی سائوتھ ون لیاری سے قومی اسمبلی کے اس حلقے پر تحریک انصاف کے عبدالشکور شاد 52 ہزار 750 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔این اے 246 سے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اور مسلم لیگ(ن) کے سلیم ضیاء سمیت 15 امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوئی۔این اے 247 کراچی سائوتھ ٹوکلفٹن سے تحریک انصاف کے عارف علوی 91 ہزار 20 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے جب کہ اس حلقے سے فاروق ستار اور محمد حسین محنتی سمیت 22 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئی۔

این اے 248 کراچی ویسٹ ون سے پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل 35 ہزار 126 ووٹ لے کر کامیاب رہے اور10 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں ۔ این اے 249 کراچی ویسٹ ٹوسے تحریک انصاف کے فیصل واوڈا 35 ہزار 344 ووٹ لیکر کامیاب رہے جب کہ مسلم لیگ(ن) کے شہباز شریف 34 ہزار 626 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے 13 امیدواروں کا زرضمانت ضبط ہوگیا۔این اے 250 کراچی ویسٹ تھری سے تحریک انصاف کے عطا اللہ 36 ہزار 49 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔

ایم ایم اے کے پلیٹ فام سے انتخاب میں حصہ لینے والے جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن سمیت 12 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں۔این اے 251 کراچی ویسٹ فورقومی اسمبلی کے حلقے این اے 251 سے ایم کیو ایم پاکستان کے سید امین الحق 56 ہزار 888 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے 12 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں،این اے 252 کراچی ویسٹ فورسے تحریک انصاف کے آفتاب جہانگیر 21 ہزار 65 ووٹ لے کر فاتح رہے 15 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں ۔

این اے 253 کراچی وسطی ون ایم کیو ایم کے اسامہ قادری 52 ہزار 226 ووٹ لے کر کامیاب رہے جب کہ تحریک انصاف کے محمد اشرف جبار 39 ہزار 145 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے 17 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں۔ این اے 254 کراچی وسطی ٹوقومی اسمبلی کے اس حلقے پر تحریک انصاف کے اسلم خان 75 ہزار 702 ووٹ لے کر سب پر بازی لے گئے جبکہ مہاجر قومی مومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد اور ایم ایم اے کے راشد نسیم سمیت 15 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں۔

این اے 255 کراچی وسطی تھری سے ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی 59 ہزار 807 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔تحریک انصاف کے محمود مولوی 50 ہزار 352 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہے۔13 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں۔ این اے 256 کراچی وسطی فور سے قومی اسمبلی کے آخری حلقے پر تحریک انصاف کے نجیب ہارون 89 ہزار 850 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ایم کیو ایم پاکستان کے عامر ولی اور ایم ایم اے کے ڈاکٹر معراج الہدی صدیقی سمیت 15 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں۔