Aya Nahi Hai Rah Pe Charkh Kuhan Abhi

آیا نہیں ہے راہ پہ چرخ کہن ابھی

آیا نہیں ہے راہ پہ چرخ کہن ابھی

خطرے میں دیکھتا ہوں چمن کا چمن ابھی

اٹھیں گے اپنی بزم سے منصور سیکڑوں

کام اہل حق کے آئیں گے دار و رسن ابھی

رنج و محن نگاہ جو پھیریں تو پھیر لیں

لیکن مجھے عزیز ہیں رنج و محن ابھی

بڑھنے دو اور شوق شہادت عوام میں

کچھ بانجھ تو نہیں ہے یہ خاک وطن ابھی

آنکھوں کی سرخیاں ہیں عزائم کا اشتہار

سینے سلگ رہے ہیں لگی ہے لگن ابھی

یہ کارواں شناور طوفاں تو ہے مگر

چہروں پہ بولتی ہے سفر کی تھکن ابھی

ہیں سامنے ہمارے روایات‌ کارزار

باندھے ہوئے ہیں سر سے مجاہد کفن ابھی

بن بن کے جانے کتنے فنا ہوں گے سومنات

بستے ہیں ہر گلی میں یہاں بت شکن ابھی

اے شہریار ہم سے شکستہ دلوں میں آ

تیری طرف سے خلق کو ہے حسن ظن ابھی

رقصاں ابھی ہیں شام غریباں کی جھلکیاں

روشن نہیں ہے خندۂ‌ صبح‌ وطن ابھی

جیتے رہیں امید پہ رندان‌ تشنہ کام

چلتا نہیں ہے دور شراب کہن ابھی

جن کے لہو سے قصر وفا میں جلے چراغ

ان غم زدوں میں عام ہیں رنج و محن ابھی

گلشن سے پھول چل کے مزاروں تک آ گئے

لیکن ہے باغباں کی جبیں پر شکن ابھی

ہے علم کی نگاہ سے پنہاں رہ‌ عمل

کہتے نہیں کفن کو یہاں پیرہن ابھی

نبض بہار پر ہیں بگولوں کی انگلیاں

چلنے کو چل رہی ہے نسیم چمن ابھی

شبنم کے اشک سوکھنے دیتی نہیں فضا

ہنستا ہے خود بہار چمن پر چمن ابھی

ہر گام ہر مقام پہ کوشش کے باوجود

دانشؔ نہ آ سکا مجھے جینے کا فن ابھی

احسان دانش

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(659) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Ehsan Danish, Aya Nahi Hai Rah Pe Charkh Kuhan Abhi in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 66 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.1 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Ehsan Danish.