Hum Ne Dil Os Kay TaeeN Nazr Guzara Apna

ہم نے دل اس کے تئیں نذر گزارا اپنا

ہم نے دل اس کے تئیں نذر گزارا اپنا

اس نے سمجھا نہ سر بزم اشارا اپنا

کیا پکاروں کہ صدا بھی نہ وہاں جائے گی

جانے کس دیس گیا یار وہ پیارا اپنا

لے گیا دور اسے خواب عدم کا افسوں

نیند سے پھر نہ اٹھا انجمن آرا اپنا

عمر کے ساتھ جدا ہوتے چلے جائیں گے یار

کم نہیں ہوگا کسی طور خسارا اپنا

لوٹ کر آئے تو بستی ہے نہ تالاب نہ باغ

ہم یہیں چھوڑ گئے تھے وہ نظارا اپنا

شام ہوتے ہی بھٹکتے تھے اسے دیکھنے کو

اسی تاریک گلی میں تھا ستارا اپنا

غم ہوئے ایسے کہ آتا ہی نہیں کوئی جواب

نام لے لے کے بہت ہم نے پکارا اپنا

یہ جو گلیاں ہیں مرے شہر کی ہیں میری رفیق

انہی گلیوں میں بہت وقت گزارا اپنا

ہم وہ بیمار انا ہیں کہ ہوئے جس سے خفا

اس کو چہرہ بھی دکھایا نہ دوبارا اپنا

بارہا پیش ہوا خلعت شاہی ہم کو

ہم نے ملبوس گدائی نہ اتارا اپنا

کیا خبر بن گئی کس طرح غزل کی صورت

ہم نے تو درد ہی کاغذ پہ اتارا اپنا

یاعلیؑ کہنے سے ہٹ جاتے ہیں رستے سے پہاڑ

اک یہی نام ہے مشکل میں سہارا اپنا

فراست رضوی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1328) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ شاعری

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Frasat Rizvi, Hum Ne Dil Os Kay TaeeN Nazr Guzara Apna in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Social Urdu Poetry. Also there are 27 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. Read the Love, Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Frasat Rizvi.