Har Adawat Ki Ibtida Hai Ishhq

ہر عداوت کی ابتدا ہے عشق

ہر عداوت کی ابتدا ہے عشق

کہ محبت کی انتہا ہے عشق

لو زلیخا کو کب ہوا ہے عشق

کس قدر طاقت آزما ہے عشق

فلک و مدعی و یار و اجل

سب بھلے ہیں مگر برا ہے عشق

دیکھیے اس کا ہوگا کیا انجام

اب خدا سے ہمیں ہوا ہے عشق

ہو چکا ہم سے کچھ جو ہونا تھا

تو نے یہ حال کیا کیا ہے عشق

وامق و قیس و کوہ کن کیا تھے

اجل و آفت و بلا ہے عشق

دیکھنا شوق و شرم کا شیوہ

حسن خود بیں ہے خود نما ہے عشق

کون جانے تھا اس کا نام و نمود

میری بربادی سے بنا ہے عشق

دل کرو خوں تو کیا ہے دل داری

جان جاتی رہے تو کیا ہے عشق

غم زدائی میں غم فزا کیا کچھ

دل ربا یا نہ جاں ربا ہے عشق

با وفا وہ ہیں بے وفا ہے حسن

بے وفا ہم ہیں با وفا ہے عشق

غمزہ سا غمزہ غم میں کرتا ہے

کچھ سے کچھ اب تو ہو گیا ہے عشق

کیسے کیسوں کی اس نے لی ہے جان

دیکھنا کیا ہی خوش ادا ہے عشق

کیوں کے ماتم نہ اب وفا کا رہے

میرے مرتے ہی مر مٹا ہے عشق

دیکھنا مرگ و زیست کے جھگڑے

جاں فزا حسن و جاں گزا ہے عشق

ویسا ہی ہے فرشتہ جیسی روح

اے قلقؔ تیرا آشنا ہے عشق

غلام مولیٰ قلق

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(411) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of GHULAM MAULA QALAQ, Har Adawat Ki Ibtida Hai Ishhq in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 44 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of GHULAM MAULA QALAQ.