Andar Ki Dunyain Mila K Aik Nagar Ho Jayeen

اندر کی دنیائیں ملا کے ایک نگر ہو جائیں

اندر کی دنیائیں ملا کے ایک نگر ہو جائیں

یا پھر آؤ مل کر ٹوٹیں اور کھنڈر ہو جائیں

ایک نام پڑھیں یوں دونوں اور دعا یوں مانگیں

یا سجدے سے سر نہ اٹھیں یا لفظ اثر ہو جائیں

خیر اور شر کی آمیزش اور آویزش سے نکھریں

بھول اور توبہ کرتے سارے سانس بسر ہو جائیں

ہم ازلی آوارہ جن کا گھر ہی نہیں ہے کوئی

لیکن جن رستوں سے گزریں رستے گھر ہو جائیں

ایک گنہ جو فانی کر کے چھوڑ گیا دھرتی پر

وہی گنہ دوبارہ کر لیں اور امر ہو جائیں

صوفی سادھو بن کر تیری کھوج میں ایسے نکلیں

خود ہی اپنا رستہ منزل اور سفر ہو جائیں

رزق کی تنگی عشق کا روگ اور لوگ منافق سارے

آؤ ایسے شہر سے حیدرؔ شہر بدر ہو جائیں

حیدرقریشی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(628) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Haider Qureshi, Andar Ki Dunyain Mila K Aik Nagar Ho Jayeen in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 25 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.1 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Haider Qureshi.