Jo Mutarif Thay Marray Shejrah Nasb Ke Sab

جو معترف تھے مرے شجرۂ نسب کے سب

جو معترف تھے مرے شجرۂ نسب کے سب

وہ لوگ ہو گئے رخصت یہاں سے کب کے سب

فضائے نسبت و قربت ہے گرد گرد مگر

سمجھ رہے ہیں مرے دل کا حال سب کے سب

وہ لوگ جن کی حمایت میں خود سے لڑتا رہا

وہ لوگ ہو گئے میرے خلاف اب کے سب

روش میں اوروں کے اسلاف کی روش نہ رہی

سو قصے لکھے گئے میرے ہی نسب کے سب

میں دوسروں کی طلب میں بحال ہوتا رہا

غلام ہوتے رہے اپنی ہی طلب کے سب

وہ حرف جس سے اٹھا ہے مری نوا کا خمیر

ہیں منتظر اسی اک حرف زیر لب کے سب

اسے خبر تھی کہ میں ایک شب کا مہماں ہوں

سو بند وا کیے اس نے قبائے شب کے سب

کسی رہائی کا احوال جاننے کے لیے

سرہانے بیٹھے ہیں خاموش جاں بہ لب کے سب

چراغ اور قلم آنکھ اور حیرانی

یہ استعارے ہیں گویا مری طلب کے سب

یہ رنجشیں ہیں رضیؔ اور ہی تعلق سے

یہ سلسلے ہیں کسی اور ہی طرب کے سب

خواجہ رضی حیدر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(869) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Khwaja Razi Haider, Jo Mutarif Thay Marray Shejrah Nasb Ke Sab in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 15 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.3 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Khwaja Razi Haider.