27اکتوبر برصغیرکیلئے یوم سیاہ

بھارت کی گہری سازشوں، اور لیڈروں کی انا پرستی اور مفادِ خصوصی رکھنے والے ٹولے کی کار ستانی کی وجہ سے بھارت کو 27اکتوبر1947ء کے فوراْبعد اپنی افواج کشمیر بھیجنے کا موقعہ فراہم ہوا

اتوار اکتوبر

27 October Youm e Siyah
انجینئر مشتاق محمود۔ڈائریکٹر کشمیر سٹڈی سرکل، مندوب کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر،پاکستان
مقبوضہ کشمیر سمیت بھارت میں اقلیت خصوصا مسلمان، سکھ، عیسائی اور دلت بھارتی سٹیٹ نان سٹیٹ دہشت گردی کے شکار ہیں، 5 اگست کشمیر کی خصوصی حثیت ، لگاتار لاک ڈاؤن کرفیو، میڈیا نیٹ پر قدغن سے بھارتی دعویٰ کشمیریت، انسانیت اور جمہوریت کو خود ہی جھوٹا ثابت کیا۔

بھارتی اصلی چہرہ بے نقاب ہو نے کے بعد دو قومی نظریہ کی اہمیت اور افادیت ،کشمیر میں چند بھارتی آلہ کاربا حس انسان دوستوں کو بھی سمجھنے میں اب زیادہ دشواری پیش نہیں آرہی ہے۔ دو قومی نظریہ کے بارے میں احقر نے کئی مضامین اور ٹی وی انٹریو میں بر ملا وضاحت کی ہے کہ اس نظریہ کو تعصب کی عینک اتارکر دیکھنے سے یہ حقیقت عیاں ہے کہ جیو اور جینے دو اس نظریہ کا مفہوم ہے، مگر بد قسمتی سے ہند پاک میں موجود ناعاقبت اندیش افراد اور کشمیر پر غاصبانہ قبضے کی وجہ سے جیو اور جینے دو کا نظریہ ۔

(جاری ہے)

۔مرو اور مارو میں تبدیل ہو گیا،اس وجہ سے مسلہ کشمیر کا کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق پر امن حل نہ صرف کشمیریوں بلکہ دونوں ممالک ہندپاک کیلئے نیک شگون ثابت ہوگا۔
 تحریک آزادی کا حصہ ، گواہ اور جبر کے شکار اور زندگی کے تلخ تجربات کی بنیاد پر دل سے نکلی آہوں پر مبنی بنا معاوضہ تحریر کے قدردان مشن کشمیر سے وابستہ مالی خساروں میں مبتلاء کشمیر میڈیا کے تحریک دوست ذمہ داراں اور اعلیٰ ظرف قدر داں افراد سے وقفے پر معذرت خواہ ہوں، حالانکہ اجنبی ماحول میں ذاتی علاج و معالجہ، گھریلوں بیماریوں، خصوصاخصوصی حثیت کی منسوخی کے بعد لگاتار لاک داؤن کرفیو، ظلم و بر بریت پر دنیا کی مجرمانہ خاموشی سے حق کے مقابلے طاقت راج کے تصور نے روح کو مجروع کیاہے،تاریخ کشمیر میں 27اکتوبر بھارتی کشمیر پر فوج کشی سے دنیا کی25 فیصدی آبادی خصوصا کشمیری من حیث القوم مصائب و مسائل کے گرداب میں پھنسے ہیں،کشمیر کا مسلہ کشمیریوں کی امنگوں کی بنیاد پر حل نہ ہو نے کی وجہ سے بر صغیرتباہی کے دہانے پر کھڑا ہے
بھارت کی گہری سازشوں، اور لیڈروں کی انا پرستی اور مفادِ خصوصی رکھنے والے ٹولے کی کار ستانی کی وجہ سے بھارت کو 27اکتوبر1947ء کے فوراْبعد اپنی افواج کشمیر بھیجنے کا موقعہ فراہم ہوا، قبائلوں کے کشمیر داخل ہونے اور انکی طرف سے قتل غارت گری کے جھوٹے پروپگنڈے کو جواز بنایا ،جبکہ حقیقت یہ ہے جو پوشیدہ رکھی گئی کہ مہاراجہ نے پونچھ،میر پور اور دوسرے علاقوں میں دوسرے متعصب ہندوں مہا راجوں کے تعاون سے فوج کشی کرکے تباہی پھیلادی تھی،یہی فوجی جموں کے مسلمانوں کے قتل عام میں بھی ملوث تھے،یہی وہ عوامل تھے کہ سابقہ کچھ مسلمان فوجیوں اور قبائلوں کومہا راجہ کو سبق سکھانے کی غرض سے کشمیری مسلمانوں کے مدد کیلئے مداخلت کر نی پڑی تھی۔

اس وجہ سے 27اکتوبر کشمیری آر پار اور دنیا میں آزادی پسند یوم سیاہ منا رہے ہیں، پاکستان نے ایل او سی پرسفارت کاروں اور میڈیا کو اصل حقائق سے روشناس کرایا کی کس طرح بھارتی حکمران، انکے فوجی کمانڈر اور میڈیا آج بھی جھوٹ مکر و فریب سے اپنے عوام اور دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں، اور آر پار بھارتی فوجی وردی میں ملبوس ہنووتا غنڈے فوج کے شانہ بشانہ معصوم کشمیریوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔

ہم سب کو انفرادی طور اپنا جائزہ لینا ضروری ہے کہ ہم سے کہاں غلطیاں سر زد ہوئیں، ہندو انتہا پسندوں کی دحشت گردی کی بنا پر موجودہ عوامی تحریک میں ایسی پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے، جو کشمیری متاثرین کی خدمات کے ساتھ ساتھ اقوام عالم میں کشمیر کاز کو اجاگر کریں۔
 پاکستان مسلہ کشمیر اہم فریق ہے، مسلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے بغیر کوئی مذاکرات پائیدار ثابت نہیں ہوسکتے ، پاکستان کشمیریوں کا مخلص وکیل ہے ،مسلہ کشمیرکی بین الاقوامی حثیت کو اجا گرکر نے میں سفارتی سطح پر اور بہت کچھ کر نے کی گنجائش ہے ۔

لگاتار بھارتی ظلم و بر بریت اور ہندو تا کی کھلم کھلا مسلم دشمن پالیسیوں کی وجہ سے بے لوث لیڈر شپ اصولوں کی بنیاد پرآ ٓر پار معاملات و حالات کو بگاڑنے کی بجائے مِل جُل کر کندھوں پر بھاری ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کی اہلیت پیدا کر رہے ہیں جو علاقائی یکجہتی، نظریاتی استحکام، اخوت، انصاف اور اتحاد کے قابلِ یقین ضمانت دینے کے علاوہ ہر خطرے کی بُو سونگھ لینے اورحکمت و دانا ئی سے اس کا دفاع کرنے کا انقلابی شعور بھی عطاء کرتا ہو ، میری رائے میں ہماری اس نظریاتی تحریک آزادی میں مکار و ظالم دشمن کی پاک دشمنی کو مدنظر رکھکر شکوہ شکائت کے برعکس مثبت تجاویز سے پاکستان کی کشمیر پالیسی کی سمت درست کر سکتے ہیں۔

یہ اللہ کا کرم ہے کہ لگاتار لاک ڈاؤن کرفیو کی وجہ سے کشمیریوں کے دکھ درد کو دنیا محصوص کررہی ہے، امریکی کانگریس کے علاوہ بھارتی سول سوسائٹی و انسانی علمبرداروں اور والنٹیر بھارتی ہندو انتہا پسندسٹیٹ اور نان سٹیٹ دحشت گردوں کے خلاف آواز اٹھارہے ہیں۔خصوصی حثیت کی منسوخی، لگاتار کرفیو ،ظلم و جبر، عزتوں کی توہین،ایل اوسی پر گولہ باری،۔

۔اورمیڈیا نیٹ پر قدغن ،گرفتاریوں ایسے ظلم و جبر کے حربے آزمانے سے تحریک آزادی کے جذبے کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے بلکہ ناجائز قابض کے خلاف نفرت میں اضافہ ہورہا ہے،اور تحریک آزادی کو تقویت مل رہی ہے اور ظالم اور رسواء ہورہا ہے۔ مسلہ کشمیر کا واحد حل بین القوامی قراردادوں پر عمل سے ممکن ہے۔لہذا بھا رت کی چا لوں کے توڑ کیلئے فرا ست و دانش کے طریقہ کار پرموجودہ تناظر میں اگر عمل کیا جائے تو مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

کیونکہ جمہوری طرز عمل کو بھارت کے بر عکس بین الاقوامی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ عالمی اپروچ،حالات واقعات اور فیصلے تحریک آزادی کو متا ثر بغیر نہیں رہ سکتے لہذا مقامی سیا ست و جد جہد کے طریقہ کار کا اقوام عالم کے لئے قابل قبول لائحہ عمل بھی ضروری ہے ، تاکہ ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے کہ مجبو را اقوام عالم کو مداخلت کرنے کا مو قعہ فراہم کر کے اس تحریک کو منظقی انجام تک پہنچا یا جا ئے
پاکستان ،کشمیر سے مخلص حضرات ذی ہوش زعماء اور کشمیر یوں کے آرزؤں اور درد کو سمجھنے والے آزادی پسند لیڈراں و مفکر مسلہ کشمیرکے حوالے سے ہر پہلوکو سا منے رکھکر مر بوط پروگرام ترتیب دے رہے ہیں ، ٓر پار اور بین الاقوامی سطح پر27اکتوبریوم سیاہ منانا اسی پروگرام کی کڑی ہے کیونکہ جزباتی نعرہ بازی یا آنکھیں بند کرکے لفظوں کی بے لذت جگالی کافی نہیں ہے،بلکہ اصولوں ، وحدت و نظریا تی ہم آہنگی کی بنیاد پرایک درست لائحہ عمل اور حکمت عملی کے ذریعے بھارت کے ہر مکر و فریب کو ناکام بنایا جا سکتا ہے ۔


متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

27 October Youm e Siyah is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 27 October 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.