عجائب گھروں کی دنیا

پاکستان کے طول و عرض میں اپنی شاندار تاریخ کو سنبھالے ہوئے عجائب گھروں کے بارے میں ایک تحقیقی و معلوماتی تحریر

Dr Syed Muhammad Azeem Shah Bukhari ڈاکٹر سید محمد عظیم شاہ بُخاری جمعہ اگست

Ajaib Gharoon Ki Dunya
اسلامی جمہوریہ پاکستان ، اپنے رقبے اور آبادی کی طرح ثقافتی اور تاریخی ورثے میں بھی بہت منفرد اور تنوع کا حامل ہے جہاں ہر کونے میں نت نئی چیزیں موجود ہیں۔
 یہاں کی ثقافت ایک رنگ برنگے گلدستے کی مانند ہے جس میں تمام خِطے اپنا اپنا حصہ ڈالتے نظر آتے ہیں۔
یہاں شمال میں ٹیکسلا کے سٹوپے، بدھ خانقاہیں اور گلگت بلتستان کی کُندہ چٹانیں ہیں تو جنوب میں بہاولپور کا صحرا اور محل، مکلی کا قبرستان، رنی کوٹ جیسے قلعے اور مکران کے عجوبے ہیں۔

مشرق میں لاہورجیسا تاریخی شہر اور تھر پارکر کے قدیم جین مندر ہیں تو مغرب میں پشاور کی پرانی حویلیاں و خوبصورت قلعے بھی اپنی بہار دکھا رہے ہیں ۔ اس لحاظ سے اس بے مثال ملک کے تاریخی و ثقافتی ورثے کو سنبھالنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔

(جاری ہے)

ان علاقوں کے کلچر کو محفوظ رکھنے کے لیئے پاکستان کے مختلف شہروں میں خوبصورت عجائب گھر بنائے گئے ہیں جہاں آثارِ قدیمہ اور تاریخی نوادرات کو محفوظ کیا گیا ہے۔

ان میں علم و فنون کے نمونہ جات، وراثتی، ثقافتی، تہذیبی تمدنی اور ارتقا جیسے شعبہ جات کے آثار کا تحفظ کیا گیا ہے۔ یہ سب ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں ۔ ایک سیاح کے طور پر میرا یہ ماننا ہے کہ سیاحت اور تاریخ و ثقافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ کسی بھی علاقے کے عجائب گھر کو دیکھے بغیر آپ اسکی بود وباش کو نہیں سمجھ سکتے۔ اس لیئے سفر کہیں کا بھی ہو میں راستے میں آنے والے عجائب گھروں کو دیکھنے کی بھرپور کوشش کرتا ہوں۔


اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ عجائب گھر لاہور شہر میں موجود ہیں۔  یہاں موجود مختلف سرکاری و نجی عجائب گھر اور آرٹ گیلریاں پاکستان اور لاہور کی روائتی ثقافت اور تاریخ کو سمجھنے ، سنبھالنے اور لوگوں تک بطریقِ احسن پہنچانے کا کام بخوبی انجام دے رہی ہیں۔
پیشِ خدمت ہے پاکستان بھر کے بڑے چھوٹے عجائب گھروں کا خُلاصہ۔۔۔۔
1- عجائب گھر لاہور
 کہتے ہیں کہ ''جِنے لاہور نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں'' ، میں یہ کہوں گا کہ ''جِنے لہور اچ رہ کہ وی لہور میوزیم نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں''۔


 بِلاشبہ پاکستان کے اس عجائب گھر کو پاکستان کا سب سے زرخیز اور بڑا عجائب گھر کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔ اسکی بنیادوں میں کئی کہانیاں دفن ہیں جنہیں اگر کاغز پر اتاریں تو ایک ضیغم کتاب بھی کم پڑ جائے۔ اس عجائب گھر نے پاکستان بھر کی تہزیبوں کا بوجھ اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔ اس کی کئی ایک گیلریوں میں برصغیر کے عروج و زوال کی داستانیں بکھری ہوئی ہیں جو برسوں سے علم کے پیاسوں کو سیراب کرنے کا ذریعہ بنتی آ رہی ہیں۔

لیکن اس میوزیم کو اچھے سے دیکھ لینا ایک دن کا کام نہیں ہے۔ اس کی ہر ہر گیلری میں رکھا ایک ایک نمونہ، غور طلب ہے۔ اپنے نوادرات کے حوالے سے یہ پاکستان کا سب سے  بڑا عجائب گھر ہے۔
 رڈیارڈ کپلنگ کے والد جان لاک ووڈ کپلنگ اس میوزیم کے بڑے مداح تھے اور ان کے ناول ''کِم'' میں بھی اس عجائب گھر کا ذکر کیا گیا ہے۔
یہ میوزیم یونیورسٹی ہال کی قدیم عمارت کے بالمقابل واقع مغلیہ طرز تعمیر کا ایک شاہکار ہے۔

اس میوزیم میں گندھارا، مغل اور سکھوں کے دور کے نوادرات ہیں، جس میں لکڑی کا کام، مصوری کے فن پارے، مجسمے اور دوسرے نوادرات جو مغل، سکھ اور برطانوی دور حکومت سے تعلق رکھتے ہیں، شامل ہیں۔ یہاں رکھے گئے نوادرات، سِکے اور تصاویر ایک قومی اثاثہ ہیں جن کی کہیں کوئی مثال نہیں گئی۔
اس میوزیم میں چند آلات موسیقی کے علاوہ قدیم زیورات، دیدہ زیب روائتی ملبوسات، پیتل ، کانسی اور مختلف دھاتوں کے برتن، چینی کے ظروف اور جنگ و جدل کا سامان بھی نمائش کے لیئے رکھا گیا ہے۔


اس میوزیم کی ایک منفرد بات یہ ہے کہ یہاں دیگر ممالک سے لائے گئے نوادرات اور تحفے بھی رکھے گئے ہیں جن میں برما، بھوٹان، نیپال، تبت (چین)، مشرق وسطیٰ، وسطی ایشاء اور افریقہ کے کچھ ممالک شامل ہیں۔ ان چیزوں نے اس عجائب گھر کی اہمیت اور بڑھا دی ہے۔
یہاں کی گندھارا گیلری کی بات کریں تو پشاور کے بعد لاہور میوزیم میں گندھارا سلطنت کا ایک بڑا خزانہ موجود ہے جس میں سِکری، جمال گڑھی سے لایا گیا وہ خوبصورت سٹوپا بھی شامل ہے جو ہال کے وسط میں رکھا گیا ہے۔

یہاں روکھڑی (میانوالی) اور اکھنور (جموں) سے لائے گئے بدھا کے مجسموں کے سر، مختلف حالتوں میں گوتم بدھا کے مختلف مجسمے، قیمتی اور منفرد روزہ کی حالت میں موجود بدھا اور پتھر پر کُندہ مختلف درباری مناظر جیسے شاہکار بھی رکھے گئے ہیں۔
بات کریں دریائے سندھ کی قدیم تہذیبوں کی تو اس گیلری میں وادئ سون، ہڑپہ، موہنجودڑو اور مہر گڑھ سے دریافت کیئے گئے شاہکاروں کو جگہ دی گئی ہے۔

مٹی سے بنے چھوٹے پتھر، سکے، زیورات، پانسے،  چھکڑے اور کھلونے شامل ہیں۔
منی ایچر تصاویر کی گیلری میں برصغیر کی سب سے بڑی کلیکشن موجود ہے جو بیسویں صدی کے اوائل میں اکٹھی کی گئی۔ اس میں تقریباً ایک ہزار چھوٹی تصاویر شامل ہیں جو سولہویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک کی ہیں۔ ان میں فارسی، مغل اور راجپوت کلیکشن دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔


لاہور میوزیم کی قیام پاکستان گیلری آپ کو کئی برس پیچھے لے جاتی ہے اور مختلف تصاویر اور اخباری تراشوں کے ذریعے آپ کو پاکستان  کے قیام کی کہانی یوں سناتی ہے جیسے آپ اسے سامنے دیکھ رہے ہوں۔ بلاشبہ یہاں رکھی گئ کئی تحریریں اور تصویریں آپ کو رلانے کے لیئے کافی ہیں۔
میوزیم کی سکہ جاتی گیلری برصغیر کی سب سے بڑی گیلری مانی جاتی ہے جس میں لگ بھگ چالیس ہزار سِکے شامل ہیں۔

  یہاں ساتویں صدی قبل از مسیح سے لے کر برصغیر پر حکمرانی کرنے والے تمام خاندانوں کے دور کے سکے شام ہیں جو یقیناً کسی خزانے سے کم نہیں۔
ان کے علاوہ سکھ گیلری، مختلف ثقافتی گیلریاں، تحریک پاکستان گیلری اور ڈاک ٹکٹ گیلری بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں ۔ پنچ مندری کپورتھلہ کا ماڈل، اشوک چکرا، برما کا سنہری بُدھا، ملکہ وکٹوریہ کا دھاتی مجسمہ، مینار پاکستان کا ماڈل، بدھا کی تصاویر والا ہاتھی دانت، گولڈن ٹیمپل امرتسر اور بادشاہی مسجد لاہور کے ماڈل، سٹوپے اور صوبائی ثقافتی گیلریاں یہاں کی منفرد ترین چیزیں ہیں جو لازمی دیکھنی چاہیئیں۔

لاہور میوزیم کو جتنا بھی بیان کیا جائے اتنا کم ہے،  یہ سب آپ خود جا کر اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے تو ہی مزہ آئے گا۔
2- عجائب گھر پشاور
خیبر پختونخواہ کا سب سے بڑا عجائب گھر پشاور میوزیم، گندھارا کی شان و شوکت اور قدیم تہزیب کا امین ہے۔ پشاور میوزیم 1907 میں ملکہ برطانیہ کی یاد میں ''وکٹوریہ ہال'' کے طور پر بنایا گیا تھا جس پر ساٹھ ہزار روپے لاگت آئی۔

اِسے بعد میں ایک خوبصورت دو منزلہ عمارت کی شکل دے دی گئی جو مُغلیہ، بُدھ، ہندو اور برطانوی طرزِ تعمیر کا حسین امتزاج قرار پائی۔
شروع میں اسکا ایک مرکزی ہال تھا۔ 1970 اور 2006 میں اسکے رقبے کو وسیع کر کے مختلف بلاکس کا اضافہ کیا گیا۔ فی الوقت پشاور کے عجائب گھر میں کُل نوادرات ہیں جن کو چار مرکزی گیلریوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
گندھارا آرٹ گیلری؛  اس گیلری کو اگر پشاور میوزیم کی جان کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔

پوری دنیا میں گندھارا آرٹ کا سب سے بڑا اور اہم ذخیرہ اسی میوزیم میں ہے۔ یہاں موجود نوادرات میں بدھا کے مجسمے، مختلف اشکال، مراقبے کی حالت، دربار کے مناظر، سٹوپے، متبرک صںدوقچے، زیورات، سنگھار دان، لکڑی کے بکس اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔
نیچے کی مرکزی گیلری میں بُدھا کی پیدائش سے پہلے اور بعد کی کہانیاں، ان کے معجزات، مراقبے کی حالتیں، عبادت کے طریقے موجود ہیں جو مختلف پتھروں پر کُندہ ہیں ۔

یہاں گوتم بُدھا کا ایک مجسمہ موجود ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا دریافت شُدہ مجسمہ ہے۔
یہ نوادرات خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں کی کھدائیوں سے یہاں لائے گئے ہیں جن میں سیری بہلول، تخت بھائی ، جمال گڑھی، شاہ جی کی ڈھیرئی، آکون، غاز ڈھیرئی، بالا حصار، اتمانزئی ، چارسدہ اور ہری پور شامل ہیں۔
اسلامی گیلری ؛ پشاور میوزیم کی اسلامک گیلری بھی لوازمات کے لحاظ سے انتہائی زرخیز ہے۔

یہاں قدیم عربی و فارسی مخطوطوت، لکڑی کے دروازے، ملتانی ٹائلیں اور برتن، سکھوں کے خلاف بالاکوٹ میں شہید ہونے والے سید احمد شہید کے کپڑے اور برتن، دھاتوں پر کندی آیتیں،خطاطی اور مغلیہ دور کی تصاویر شامل ہیں۔ ان میں سب سے اہم ،1244 کا  خطِ غبر میں لکھا ہوا قرآن پاک ہے جو تین تین پاروں میں محفوظ ہے۔ قرآن کریم کے نایاب قلمی نسخوں کو محفوظ رکھنے کے لیئے 2001 میں ایک نئی گیلری بنائی گئی جہاں 29 ہاتھ سے لکھے گئے قرآن کریم کے نسخے اور 56 مخطوطات رکھے گئے ہیں۔

سب سے حیرت انگیز گیاہرویں صدی کا شاہنامہ فردوسی ہے جس میں کئی ایم مخطوطے محفوظ ہیں۔
سکہ جات کی گیلری ؛ یہاں آپ کو ہند یونانی، کُشان، ہُن اور ہندو شاہی دور کے قدیم سِکے ملیں گے جو بیشتر کھدائیوں سے دریافت شُدہ ہیں۔ ان کے ساتھ ہی غزنوی ، غوری، تغلق، لودھی، مغلیہ، سِکھ اور برطانوی دور کے سِکے بھی نمائش کے لیئے رکھے گئے ہیں ۔ یہ گول، چوکور اور بیضوی سکے سونے ،چاندی ، تانبے اور کانسی سے بنائے گئے ہیں۔

یہاں کُل 8625 سکے موجود ہیں۔
ثقافتی و علاقائی گیلری ؛ یہاں آپ کو پورے خیبر پختونخواہ اور کالاش قبائل کے کلچر کا باریک بینی سے معائنہ کرنے کا موقع ملے گا۔ کالاش یا کیلاش چترال میں افغانستان کی سرحد کے قریب موجود ایک قبیلہ ہے جن میں زیادہ تر کا کوئی مزہب نہیں۔ یہاں اس قبیلے کا خوبصورت لباس، تابوت، زیورات، برتن اور دیگر استعمال کی اشیاء رکھی گئی ہیں۔


اس کے علاوہ دیگر پختون قبائل کے رسم ورواج کا احاطہ کرتی اشیاء مثلاً کپڑے، ہتھیار، زرہ، چمڑے اور کانسی کی اشیاء اور لکڑی کے سٹول شامل ہیں۔ غرض یہاں آپ پختونخواہ کے کلچر کا عکس دیکھ سکتے ہیں۔
3- لوک ورثہ میوزیم
اس میوزیم کے بارے میں یہ کہہ دینا کافی ہو گا کہ یہ ایک بین الاقوامی سطح کا میوزیم ہے جہاں پاکستان کے علاوہ ایران، ترکی، وسط ایشیائی ریاستوں اور سعودی عرب جیسے ممالک کی ثقافت اور تاریخ کو بھی نمائش کے لیئے رکھا گیا ہے۔


اسلام آباد کے قلب میں واقع یہ عجائب گھر پاکستان اور پاکستانی عوام کی قدیم اور زندہ روایات کا امین ہے۔ براعظم ایشیا کے اہم راستوں کے سنگم پر واقع یہ میوزیم ثقافتی روابط، رہن سہن، فنون لطیفہ اور علم الانسان کے حوالے سے پاکستان کی وسیع و عریض اجتماعی ثقافت کا آئینہ دار ہے۔
 یہ میوزیم پاکستان کی تاریخی روایات کی ازسر نو دریافت اور جدید دور میں آثار اور تاریخ کے تسلسل کا عکاس ہے۔

اس میوزیم کے لیے نوادرات جمع کرنے کا سلسلہ 1974ء میں شروع کیا گیا تھا تاہم پاکستانی عوام کی صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اس کا باقاعدہ افتتاح 2004ء میں کیا گیا۔ یہ میوزیم معروف عوامی روایات، علم الانسان کے حوالے سے لوک فنون اور دستکاریوں کے نادر نمونوں کا مجموعہ ہے۔ ان نواددرات کو ہوبہو اسی اس طرح پیش کیا گيا ہے جس صورت میں وہ ہمیں ورثے میں ملے تھے ۔


اس میوزیم کولوک قومی ادارہ کے روایتی  ورثہ کے طور پربھی جانا جاتا ہے۔ یہ عجائب گھر  جو تاریخی، آرٹ اور ثقافت سے تعلق رکھتا ہے۔ شکر پڑیاں کی پہاڑیوں اسلام آباد میں واقع ہے۔ عجائب گھر 1974 میں کھولا گیااور 2002  میں  قانونی آرڈیننس  کے تحت  لوک ورثہ ایک خود مختارادارہ بن گیا۔ یہ میوزیم ایک پارک کے اندر واقع ہے۔ کھلے علاقے میں ایک تھیٹر اور لوک ورثے سے متعلق چیزیں رکھی ہوئی ہیں۔

ثقافتی اشیا سے متعلق کچھ دکانیں ہیں لیکن اصل میوزیم ایک بہت بڑی عمارت کے اندر واقع ہے۔ جس کے اندر مختلف کمروں میں پاکستان کے مختلف علاقوں کے بارے میں چیزیں رکھی ہوئی ہیں۔
ملکِ پاکستان کے مختلف علاقوں کی طرز زندگی  یہاں مجسموں، تصاویر، شاعری، موسیقی اور ٹیکسٹائل کے کام کے ذریعے پیش کی گئی ہے۔  یہاں کڑھائی شدہ کپڑے، زیورات، لکڑی کا کام، دھات کا کام، بلاک پرنٹنگ، ہاتھی دانت اور ہڈی کے کام کی ایک وسیع ورائٹی موجود ہے۔

روایتی فن تعمیر، شیشے کا کام، سنگ مرمر، ٹائل، پچی کاری اور فریسکو آرٹ کے نادر نمونے بھی میوزیم میں رکھے گئے ہیں۔
یہاں کے صوفی ہال میں صوفی سنتوں جیسے لعل  شہباز  قلندرؒ،  شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ، سچل سرمستؒ  کی شاعری کا  مظاہرہ کرتے ہوئے کھڑے ہوئے موسیقاروں کی تصاویر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ داتا گنج بخشؒ، شاہ رکن عالمؒ اور بہاؤ الدین زکریا ملتانیؒ کے مزارات کی  تصاویر بھی ہیں۔


اس میوزیم کی سب سے منفرد بات یہ کہ یہاں ایران، ترکی، سعودیہ اور وسط ایشائی ریاستوں ( ازبکستان، قازقستان، تاجکستان، آزربائیجان، کیرغیزستان) کے الگ ہال بنائے گئے ہیں جہاں ان ممالک کی ثقافت کو نمائش کے لیئے پیش کیا گیا ہے۔
لوک ورثہ میں میوزیم کی دیواروں کو پلستر اس انداز میں کیا گیا ہے کہ جیسے دیہاتی گھروں میں مٹی میں توڑی ملا کر کمروں اور دیواروں کی لپائی کی جاتی ہے۔

لوک ورثہ میں سمعی اور بصری لائبریری بھی ہے۔ جس میں پاکستان کے مختلف علاقوں کی آوازوں کو محفوظ کر لیا گیا ہے۔ ثقافت پر کتابیں اور موسیقی خریدی بھی جا سکتی ہے۔
4- بہاولپور میوزیم
تقسیم سے پہلے ریاست بہاولپور اپنے وقت کی ایک خوشحال اور امیر ترین ریاست تھی جس کا اپنا سِکہ، ریلوے کا نظام، نہری نظام، ڈاک کا نظام،بینک،  ٹکسال اور فوج تھی۔

محلات کا شہر کہلایا جانے والا بہاولپور آج شاید تاریخ میں کہیں گم ہو چکا ہے لیکن اس شہر نے اپنے تاریخی اہمیت پر آنچ نہیں آنے دی جس کی جیتی جاگتی مثال اس شہر کا میوزیم ہے۔
ایک عام سی عمارت میں واقع بہاولپور میوزیم سینٹرل لائبریری کے بالکل پہلو میں بہاول وکٹوریہ اسپتال کے ساتھ واقع ہے۔
اس عجائب گھر کا قیام لگ بھگ 1976 میں بہاولپور کی ضلعی انتظامیہ کے زیر نگرانی عمل میں آیا۔


گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی جو چیز آپ کا استقبال کرتی ہے وہ ایک بڑے چبوترے پر نمائش کے لیئے رکھی گئی نواب صاحب کی گاڑی ہے جس کے قریب ہی ایک صدی پرانا سٹیم انجن کھڑا ہوا ہے جو ابتدائی طور پر بنگال ریلوے کے لیئے تیار کیا گیا تھا۔ تاریخ کے مطابق اسی انجن کو پھر ہیڈ پنجند کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سامان کی ترسیل کے لیئے کام میں لایا گیا۔

1931 میں ہیڈ پنجند کی تعمیر کے بعد اسے ورکشاپ میں کھڑا کر دیا گیا۔ 2004 میں اسے پنجند سے بہاولپور میوزیم منتقل کر دیا گیا جو اب تک یہیں ہے۔
ٹکٹ لے کر میوزیم کے اندر داخل ہوں تو پہلی گیلری میں تین مختلف اقسام کی توپیں اور دیگر جنگی سامان نظر آتا ہے۔ یہ توپیں ریاست بہاولپور کے شاہی توپ خانے سے لائی گئی ہیں۔ دیگر سامان زیادہ تر پرانی جنگوں میں استعمال کیا جانے والا ہے جن میں موتیوں کے کام والے طمنچے، تلواریں ، ڈھالیں، تیر کمان اور زرہ بکتر شامل ہیں۔

۔ اس کے ساتھ ہی ہاتھی دانت کی اشیاء، زیورات اور منقش پلیٹیں رکھی گئی ہیں۔
اگلی گیلری میں آپ مائنجودڑو، ہڑپہ اور گندھارا سے نکلنے والے قدیم مجسمے اور دیگر اشیاء دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں رکھی گئی اشیاء میں کالی دیوی کا مجسمہ ، کالادھاری مندر بہاولپور کا لکڑی کا منقش دروازہ، سنگ مرمر کے مجسمے، ریت کے پتھر کا ستون، ناپ تول کے باٹ اور گوتم بدھ کا سر شامل ہیں۔

یہیں گیلری کے وسط میں نور محل کا خوبصورت ماڈل بھی رکھا گیا ہے۔
اس سے آگے ڈاک گیلری ہے جہاں ریاست بہاولپور سمیت حکومت پاکستان کے جاری کردہ مختلف  ڈاک ٹکٹ نمائش کے لیئے رکھے گئے ہیں۔
ریاست بہاولپور کی ثقافتی گیلری اس میوزیم کی سب سے منفرد جگہ ہے جہاں آپ چولستان کی ثقافت کو ایک چھت تلے دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں آپ کو چاندی کے قدیم زیورات، صندوقچے، لکڑی کے چرخے، آئینے، مٹی کے برتن، چھبیاں، لسی بنانے والی مندھانی اور قلعہ دیراوڑ کا ایک خوبصورت ماڈل دیکھنے کو ملے گا۔

ملبوسات کی گیلری میں بہاولپور ریجن میں بنائے جانے والے دلکش کھیس، دریاں، چادریں، کُھسے، کشمیری و بلوچی پوشاکیں، چنری، تکیوں کے غلاف، ہاتھ کی کڑہائی والی ٹوپیاں، لنگیاں اور دولہا کے سہرے شامل ہیں۔
اگلی گیلریوں میں آپ نواب صاحب، ان کی اولاد، دیگر سربراہانِ مملکت اور ان کے محلات کی تصویریں، ریاست کے جاری کردہ سکے، شاہی بگھی، چولستان کی روز مرہ زندگی اور ثقافت، روہیلوں کے گوپے اور بہاولپور کے محلوں کے ماڈل دیکھ سکتے ہیں۔


غرض یہ میوزیم جنوبی پنجاب خصوصاً بہاولپور و چولستان کی ثقافت سے روشناس ہونے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔
5- نیشنل میوزیم آف پاکستان
قومی عجائب گھر پاکستان،  کراچی کے ریڈزون میں واقع آثار قدیمہ بالخصوص گندھارا تہذیب کے نادر و نایاب زخیرے کا حامل عجائب گھر ہے۔
اس میوزیم کو اپریل 1950 میں کراچی کے فریئر ہال میں قائم کیا گیا تھا جو اپنے آپ میں ایک تاریخی عمارت تھی۔

اس میوزیم کو 1970 میں اس کی موجودہ عمارت میں منتقل کیا گیا تھا۔ تب یہاں صرف چار گیلریز ہوا کرتی تھیں جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ کر گیارہ ہو گئیں۔ یہاں کی سب سے منفرد گیلری قرآن گیلری ہے جس میں قرآن شریف کی 300 کاپیاں رکھی گئی ہیں ان میں 52 ایسے نسخے بھی شامل ہیں جو بہت نایاب ہیں۔
دیگر گیلریز میں وادی مہران کی تہزیب، گندھارا کی تہزیب، اسلامی آرٹ، مصوری کے شاہکار ، قدیم سِکے اور ریاستِ پاکستان کی اہم دستاویز رکھی گئی ہیں۔

میوزیم میں مجسموں کی ایک کثیر تعداد دیکھی جا سکتی ہے جن میں موہنجو دڑو سے نکلنے والے قدیم مجسمے، بُدھ بھکشوؤں کے مجسمے، ہندو دھرم کے بھگوان وشنو، سرسوتی، لکشمی اور درگا دیوی کے مجسمے شامل ہیں۔
قائد اعظم محمد علی جناح کا قلم، بٹن اور تلوار، علامہ محمد اقبال کی ذاتی کرسی اور قلم جبکہ لیاقت علی خان کے عطر کی شیشی، گھڑی اور چھڑی بھی نمائش کے لیئے رکھی گئی ہے۔


قومی میوزیم میں لگ بھگ اٹھاون ہزار سکے موجود ہیں جو ایک بڑی تعداد ہے۔ ان میں کچھ سکے سن 74 ہجری کے بھی ہیں۔ ہر سال قومی دنوں کے موقعوں پر یہاں نمائش کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے جو ہزاروں کی تعداد میں عوام الناس کو متوجہ کرتی ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم پاکستانی عوام آثارقدیمہ میں نہایت کم دلچسپی لیتے ہیں اسی باعث یہاں اسکول طالبعلموں کے مطالعاتی دورے ہی زیادہ منعقد ہوتے ہیں۔

ایک حساس علاقے میں واقع ہونے کے باعث یہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کڑی نگرانی کے باعث کراچی کے عام شہری عموما یہاں کا رخ نہیں کرتے۔
6- گندھارا میوزیم ٹیکسلا
اگر آپ پاکستان میں رہ کر ایک منفرد اور اچھوتی تہزیب کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں تو پہلی فرصت میں ٹٰیکسلا میوزیم کا چکر لگائیں۔ اس عجائب گھر کی عمارت سے ہی آپ کو اس کی جدت اور انفرادیت کا اندازہ ہو جائے گا۔


ٹیکسلا میوزیم کو اگر گندھارا تاریخ کا گھر کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا کہ یہاں بدھ مت اور اس سے متعلق تمام اشیاء نمائش کے لیئے رکھی گئی ہیں جو اب تک پاکستان کے مختلف علاقوں سے دریافت کی گئی ہیں۔ یہ ایک سائٹ میوزیم ہے جس کے اطراف میں بھی کافی اہم اور قدیم مندر اور سٹوپے واقع ہیں جو آپ باآسانی پیدل چل کر دیکھ سکتے ہیں۔
اس میوزیم کا سنگِ بنیاد 1918 میں اس وقت کے وائسرائے ہند، لارڈ چیمس فورڈ نے رکھا تھا جبکہ اس کی تعمیر 1928 میں جا کر مکمل ہوئی۔

جبکہ ایک گیلری کااضافہ 1998 میں کیا گیا۔
میوزیم میں سجائے گئے تمام نوادرات ٹیکسلا کی وادی سے کھدائی کے دوران حاصل کئے گئے ہیں۔ میوزیم میں تین بڑے ہال ہیں مرکزی ہال نسبتاً بڑا ہے۔ اس ہال میں دو چھوٹے چھوٹے کمرے بھی ہیں اور اس ہال کے وسط میں ’’موہڑہ مراد‘‘ میں دریافت ہونے والے ایک اسٹوپہ کی نقل رکھی گئی ہے۔ یہ ہال پتھر پر تراشیدہ بتوں اور پتھروں سے بنی ہوئی دیگر اشیاء پر مشتمل ہے جبکہ جنوبی ہال میں متفرق اشیاء جن میں لوہے، تانبے اور پتھروں سے بنائی گئی اشیاء اور آگ میں بنے ہوئے مٹی کے برتن ا ور کھلونوں کی نمائش کی گئی ہے۔

مرکزی ہال کے دو کمروں میں سکے، چاندی کے برتن اور زیورات رکھے گئے ہیں ۔ دوسرے کمرے میں سونے کے زیورات ہیں۔
اس عجائب گھر کے خزانے میں تقریباً 4000 کے قریب نوادرات شامل ہیں جن میں مختلف اقسام کے پتھر، بدھا کے مجسمے، دھات کے زیوراتتعمیراتی سامان جیسے ترتیب وار دیواروں کے پتھر، برتن اور سٹوپے وغیرہ شامل ہیں۔ اس ایک عجائب گھر میں آپ بدھ مت، جین مت اور ہندو مت سے متعلق اشیاء دیکھ سکتے ہیں۔

ٹیکسلا کا میوزیم سیاحوں اور تاریخ کے طالب علموں کیلئے مفید معلومات کا ایک خزانہ ہے۔
7- ایبٹ میوزیم ایبٹ آباد
ہزارہ کا علاقہ خیبر پختونخواہ کے باقی علاقوں سے مختلف ثقافت رکھتا ہے۔ یہاں زبان سمیت بہت سی چیزیں ایسی ہی جو آپ کو مختلف نظر آئیں گی۔ اس ثقافت کو محفوظ رکھنے کے لیئے یہاں ایک میوزیم کی شدید ضرورت تھی جو ایبٹ میوزیم کے صورت میں پوری ہوئی۔

اسے ہزارہ یونیورسٹی کے تعاون سے بنایا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹا میوزیم ہے جہاں آپ ہزارہ کی پرنی ثقافت اور رہن سہن سے آشنا ہو سکتے ہیں۔ اس خوبصورت عمارت میں فرنیچر، اسلحہ، برتنوں، سکوں اور تلواروں کے علاوہ کچھ پرانی تصاویر اور پینٹنگز بھی رکھی گئی ہیں۔
 حکومت کو چاہیئے کہ اس میوزیم پر خاص توجہ دے کیونکہ اس میوزیم کو تھوڑی سی توجہ اور کوشش کے ساتھ ایک اچھے اور بڑے عجائب گھر میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔


8- عجائب گھر قصور
پنجاب کا شہر قصور یوں تو کئی حوالوں سے جانا جاتا ہے لیکن بابا بُلھے شاہ، قصوری فالودہ اور چرخے یہاں کی پہچان ہیں۔  قصور کا پرانا نام قسو سے منسوب کیا جاتا ہے جو رامائین کے مشہور ہیرو رام چندرا کا بیٹا تھا۔ قسوپور کا نام بعد میں تبدیل ہو کر قصور ہوگیا۔ قصور میوزیم قصور سے گنڈا سنگھ والا جاتے ہوئے برلبِ سڑک واقع ہے جس کی منفرد عمارت تقسیم سے پہلے سب ڈویژنل مجسٹریٹ کا دفتر ہوا کرتی تھی ۔

اس کا سنگ بنیاد 1999ء میں ڈسٹرکٹ قصور کے ثقافتی ورثہ کو محفوظ کرنے کے لیے رکھا گیا تھا۔
 قصور میوزیم کی پانچ گیلریاں ہیں جن میں مختلف نوادرات نمائش کے لیئے رکھے گئے ہیں۔
آثارِ قدیمہ گیلری: اس گیلری میں ''بن امیر خاتون'' ضلع چکوال سے دریات شدہ قدیم درختوں اور ہڈیوں کے نمونے (فاسلز) زیر نمائش ہیں جن کی عمر کا تعین 80 لاکھ سے ایک کروڑ سال تک کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ہڑپہ اور چکوال کے دیگر تاریخی آثار کی کھدائیوں سے ملنے والے پکی مٹی کے برتن، ٹھیکریاں، انسانی اور حیوانی مورتیاں اوزان کے پیمانے اور باٹ بھی زیر نمائش ہیں۔ گیلری میں گندھارا عہد کے متعلق بدھا اور ہندو دیوتائوں کے مجسّمے بھی رکھے گئے ہیں۔
سکہ جات گیلری:۔ اس گیلری کا دائرہ نہایت وسیع ہے جو انڈویونی، پارتھی، کشان، ہندوستان، ابتدائی اسلامی، مغل، سکھ اور برطانوی عہد تک پھیلا ہوا ہے۔

اس کے علاوہ گیلری میں قیام پاکستان کے بعد 1948ء میں جاری ہونے والے ابتدائی ترین سکھوں سے لے کر موجودہ عہد تک کے سکے رکھے گئے ہیں۔
اِسلامی گیلری: اس گیلری کے تین حصے ہیں پہلے حصے میں صنائع دستی، لکڑی کی کھدائی والا کام، پچکاری، زیورات اور گھریلو استعمال کی دیگر اشیاء رکھی گئی ہیں دوسرا حصہ مخطوطات اور خطاطی پر مشتمل ہے۔ جس میں مشہور خطاط حافظ مرتضیٰ افغان قصور1179ء کے ہاتھ کا لکھا ہوا قرآن مجید، خط نسخ میں عزیز خان کشمیری کے ہاتھ کا لکھا ہوا 1290ء کا مخطوطہ دلائل الخیرات خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

خط نسعلیق کے چند نمونے بھی نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔ تیسرا حصہ مسلم عہد اور اس کے بعد کے اسلحہ پر مشتمل ہے اس حصے میں تلواریں، خنجر، چاقو، زرہ بکتر، پستول اور بندوقیں زیر نمائش ہیں۔
 تحریک پاکستان گیلری: اس گیلری میں طلبہ وطالبات کو تحریک پاکستان کے اہم کرداروں اور قدم بقدم تحریک آزادی سے روشناس کرانے کے لیے تحریک آزادی کی کہانی تصویروں کی زبانی پیش کی گئی ہے۔


قصور کرافٹ گیلری: قصور مدتوں سے لکڑی کی خوبصورت کھدائی کے کام، لکڑی پر روغنی کام، چمڑے کے کام اور کھڈی سے تیار کی جانے والی مصنوعات کے سلسلے میں مشہور چلا آ رہا ہے۔ قصور کا چارخانہ، کھیس، دریاں اور چمڑے کی زینیں (Saddles) دنیا بھر میں مشہور ہیں جن کی نمایندگی اس گیلری میں کی گئی ہے۔
دیکھنے میں تو یہ میوزیم چھوٹا سا ہے لیکن لاجواب شاہکاروں سے مزین ہے۔


9- چترال میوزیم
ہندوکش کے دامن میں آباد چترال شہر کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے. یہ ناں صرف ایک خوبصورت اور تاریخی شہر ہے بلکہ ایک منفرد ثقافت اور رسم ر رواج کا حامل خظہ ہے۔ چترال کی اسی ثقافت کو محفوظ رکھنے کے لیئے یہاں 2010 میں ایک عجائب گھر بنایا گیا۔
یہاں دو گیلریں ہیں ایک آثار قدیمہ اور کالاش سے متعلق جبکہ دوسری چترالی تہزیب و تمدن سے متعلق ۔

پہلی گیلری میں کیلاش ثقافت کو نمائش کے لیئے رکھا گیا ہے جن میں ان کے پہناوے، برتن اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء شامل ہیں۔ اسکے علاوہ گندھارا کی کھدائیوں سے دریافت شدہ برتن، زیور اور آلاتِ جنگ بھی اس گیلری کا حصہ ہیں۔ دوسری گیلری میں چترال کا کلچر دکھایا گیا ہے جس میں اس علاقے کے زیورات، ہتھیار، برتن، شکار کے اوزار، آلاتِ موسیقی، فرنیچر اور دوسری اشیاء شامل ہیں۔

مٹی اور لکڑی سے بنے مختلف قسم کے برتن اس میوزیم کی خاصیت ہیں۔  تھوڑی سی حکومتی توجہ سے اس میوزیم کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے
10- موہنجودڑو میوزیم
موجودہ صوبہ سندھ کے شمال مغرب میں واقع وادی سندھ کی قدیم تہذیب کا  مرکز، موہنجودڑو لاڑکانہ سے بیس کلومیٹر دور اور سکھر سے 80 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔

یہ شہر 2600 قبل مسیح میں موجود تھا اور 1700 قبل مسیح میں نامعلوم وجوہات کی بناء پر ختم ہو گیا۔ اسے قدیم مصر اور بین النہرین کی تہذیبوں کا ہم عصر سمجھا جاتا ہے۔ 1980ء میں یونیسکو نے اسے یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔
اس قدیم شہرِ بے مثال سے دریافت شدہ خزانے کو یہاں موہنجو دڑو میوزیم میں محفوظ کیا گیا ہے۔ موہنجو دڑو کے قدیم شہر اور یہاں کے ٹیلوں سے منلنے والی تمام مہریں، مجسمے، برتن، مورتیاں، منکے، زیورات جن میں مٹی کی چوڑیاں، گنگن، انگوٹھی اور بٹن وغیرہ شامل ہیں ، پرندوں کی شکل کی مٹی کی سیٹیاں، مٹی کے گول جھنجنے، ترازو اور مختلف باٹ، نہایت تنگ منہ والی چھوٹی سرمہ دانیاں ،مٹی کے بنے ہوئے گول اور چوکور پانسے، رتھ اور چھکڑے،  مٹی کے ننھے پنجرے جن میں جھینگر رکھے جاتے ہوں گے اور مٹی کے چوہے دان  تک شامل ہیں۔


ان کے علاوہ بازو بند، کانسی اور تانبے سرمچو ،کھیل کے مہرے اور ننھی منی بے شمار چیزیں بھی اس خزانے کا حصہ ہیں۔
دو منزلہ سادہ اینٹوں سے بنے اس میوزیم کے دیواروں پر مختلف جانوروں کی دلکش تصاویر بنائی گئی ہیں جو پہلی ہی جھلک میں دیکھنے والے کو اپنی جانب متوجہ کر لیتی ہیں۔ یہ میوزیم ایک نہایت گرم علاقے میں واقع ہے اس لیئے قدیم اور نازک نوادرات کی حفاظت کے پیز نظر اس کی عمارت کو سادہ رکھا گیا ہے۔

اس کی دیواریں بھی بغیر چونے اور رنگ کے سادہ اینٹوں سے تعمیر کی گئی ہیں، جبکہ موسمی سختی سے نبرد آزما ہونے کے لیئے اوپری منزل کے فرش کی دو تہیں بچھائی گئی ہیں۔ اوپری منزل پر تمام چھوٹی اشیاء رکھی گئی ہیں جبکہ زمینی منزل کو نقسوں، تصویروں اور بڑی چیزوں کے لیئے کُھلا رکھا گہا ہے۔  
11- شاہی قلعہ لاہور میوزیم
یوں تو شاہی قلعے کو کسی میوزیم کی ضرورت نہیں تھی کہ یہ اپنے آپ میں پوری تاریخ کی کتاب ہے۔

لیکن ا قلعے کے اندر تین آرٹ گیلریوں پر مشتمل ایک نایاب عجائب گھر قائم ہے۔
پہلی گیلری موتی مسجد کے پاس واقع ہے جہاں سکھ اور برطانوی دور کے اسلحے کو نمائش کے لیئے رکھا گیا ہے جن میں تلواریں، ڈھالیں، زرہ بکتر، تیر، کمان، نیزے، خنجر اور پستول وغیرہ شامل ہیں۔
مغل گیلری ایک تاریخی لائبریری کی طرح ہے جہاں آپ مغلیہ دور کی دستاویزات، تصاویر، سِکے اور دیگر نوادرات دیکھ سکتے ہیں۔


سکھ گیلری اس میوزیم کی آخری گیلری ہے جہاں راجکماری بمبا کی اشیاء اور دیگر تصاویر رکھی گئی ہیں۔
اس میوزیم کی ایک خاص چیز یہاں موجود ہاتھی دانت سے بنا تاج محل کا ماڈل ہے جو دیکھنے والوں کو مبہوت کر دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
12- ہُنڈ میوزیم صوابی
پنجاب کے شہر اٹک کے قریب واقع اٹک قلعے تقریباً 15 کلومیٹرشمل میں سندھو ندی کے بائیں کنارے پر ضلع صوابی کا ایک چھوٹا سا گاؤں ''ہُنڈ'' آباد ہے جو گندھارا تہزیب کا اہم مسکن رہا ہے۔

یہ بالکل اس جگہ واقع ہے جہاں سے سکندرِ اعظم کی فوجوں نے دریائے سندھ عبور کیا تھا۔ کہتے ہیں کہ ۃندو حکمرانوں کے زیرِ اثر گندھارا سلطنت کا آخری دارالحکومت ہُنڈ تھا۔ اس شہر کا قدیم نام ''ادابھنداپورا'' تھا۔ اسکی دفاعی اہمیت کے پیشِ نظر مغل بادشاہ اکبر نے یہاں ایک قلعہ بنوایا اور ہُنڈ مغل دور کی ایک اہم فوجی چھاؤنی رہی۔ اس قلعے کے کھنڈرات آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔


ہُنڈ کے موام پر کھدائی کا آغاز 1996 میں کیا گیا۔ کھدائی کے دوران انڈو یونانی تہزیب کے خوبصورت گھر، سکے، زیور اور دیگر سامان دریافت ہوا جبکہ کشان، ہندو شاہی دور اور مسلم دور کے گھر بھی ملے۔ ان گھروں سے پرانے زمانے کا ایسا خوبصورت فنِ تعمیر سامنے آیا جس نے وہاں سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ پکی گلیاں، کشادہ کمرے، ستونوں کی قطار اور خوبصورت فرش۔

کیا نہیں تھا اس دور کی تہزیبوں کے پاس ؟؟
2002 میں ہنڈ میوزیم کے لیئے 33 کنال زمین لی گئی اور اسکا افتتاح ماہرِ تعمیر ڈاکٹر احمد حسن دانی مرحوم نے کیا۔ 
13- ہڑپہ میوزیم ساہیوال
ضلع ساہیوال میں واقع ہڑپہ کی قدیم تہزیب کو تحفظ دینے کے لیئے یہ سائٹ میوزیم 1926 میں بنایا گیا۔ 1966 میں اسے حکومتِ پاکستان کی بنای عمارت میں منتقل کر دیا گیا۔

بنیادی طور پر یہ عجائب گھر ہڑپہ کی تہزیب کا امین ہے جہاں اس علاقے کی کھدائیوں سے ملنے والی نایاب اشیاء جن میں کپڑے، برتن، ڈھانچے، زیور اور اوزار شامل ہیں رکھے گئے ہیں۔ لیکن  اس کے علاوہ یہاں مہرگڑھ اور کوٹ ڈیجی سے لائے گئے نوادرات بھی رکھے گئے ہیں۔
 یہاں مٹی کی اشیاء سے لے کر تانبے کے برتنوں تک کی مختلف اقسام موجود ہیں۔
اس کے علاوہ میوزیم سے باہر آپ کئی کھنڈرات اور قدیم تعمیرات بھی ملاحظہ کر سکتے ہیں۔


14- بنوں میوزیم
اس میوزیم کو پاکستان کے نئے بننے والے عجائب گھروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ بنوں میوزیم خیبرپختونخواہ کے محکمہ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر کی کاوشوں سے بنایا گیا ہے اور اس کا افتتاح 2011 میں کیا گیا۔ بنوں اور گرد و نواح کے علاقوں سے مختلف کھدائیوں کے دوران برآمد ہونے والی اشیاء کو رکھنے کا مسئلہ پیدا ہوا تو یہاں ایک عجائب گھر بنانے کی شدید ضرورت محسوس کی گئی جسے بنوں میوزیم سے پورا کیس گیا۔


بنوں کے آس پاس شیری خان ترکئی، لیوان اور آکرہ کے مقامات پر پشاور یونیورسٹی، کیمبرج یونیورسٹی ،  برٹش میوزیم اور محکمہ آثارِ قدیمہ بنوں  کے اشتراک سے کھدائی کی گئی اور ملنے والے نوادرات بنوں میوزیم سمیت برٹش میوزیم میں رکھے گئے ہیں۔ سادہ سی عمارت میں بنا یہ میوزیم ایک بار لازمی دیکھنا چاہیئے۔
15- لائل پور میوزیم
فیصل آباد کے پرانے نام کو ''لائل پور'' میوزیم سے زندہ رکھا گیا ہے اور بلاشبہ یہ ایک احسن اقدام ہے کہ پرانے نام بھی ہمارے کلچر کا ایک حصہ ہیں۔

یونیورسٹی ورڈ پر واقع یہ میوزیم ساندل بار کی ثقافت کا مظہر ہے جہاں 10 گیلریوں میں قدیم و جدید تاریخ کو زندہ رکھا گیا ہے۔ اس میوزیم کو 2011 میں اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے بنوایا تھا جو بورڈ آف گورنرز کے زیرنگرانی تھا۔ اب یہ میوزیم کمشنر فیصل آباد ڈویژن کے ماتحت ہے۔ اسکی وجہ شہرت پارچہ بافی اور ساندل بار گیلریاں ہیں۔

آئیئے ان کا جائزہ لیتے ہیں۔
سب سے پہلے گنگاپور کی گھوڑا گاڑی یا گھوڑا ٹرین کا ماڈل آپ دیکھ سکیں گے جو سر گنگا رام کی اہم خدمات میں سے ایک تھی۔
تعین سمت و سوچ گیلری
میوزیم کے دروازے سے داخل ہوتے ہی یہ پہلی گیلری ہے جس میں پتھر کے دور سے شروع کر کے قیام پاکستان تک آتے آتے مختلف اداور کو ایک دیوار پر دکھایا گیا ہے۔

اس کے بعد مختلف نقشہ جات آویزاں ہیں جن میں پاکستان ، پنجاب اور فیصل آباد ڈویژن کے ساتھ  ضلع، شہر اور ٹاؤن لیول تک کے نقشے شامل ہیں۔ یہاں فیصل آباد کے فضائی منظر کا بھی ایک نقشہ دکھایا گیا ہے۔
ساندل بار گیلری
دو دریاؤں کے درمیانی علاقے کو بار کہا جاتا ہے۔ ساندل بار پنجاب کا وہ علاقہ ہے جو راوی اور چناب کے بیچ واقع ہے اور لائل پور اس کا مرکزی شہر ہے۔


اس جگہ ساندل بار کا ایک بڑا نقشہ ، یہاں کی  ثقافت، رسم و رواج، کھیل اور اس علاقے میں پیدا ہونے والی زرعی اجناس کے نمونے نمائش کے لیئے رکھے گئے ہیں۔ ساندل بار کے علاقے میں پرندوں کی تین سو سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں لیکن ان میں سے تیس کے قریب انواع کو اس گیلری میں دکھایا گیا ہے۔ ساندل بار کے علاقے میں پائے جانے درختوں اور پودوں کے حوالے سے بھی مواد موجود ہے۔

دوآبے اور بار اس گیلری کا اہم موضوع ہیں۔ اس کے علاوہ اس علاقے میں بولی جانے والی زبانوں کے حوالے سے نقشہ جات بھی  ہیں۔
گیلری کی اہم بات یہ کہ اس کے ایک جانب دریائے راوی اور دوسری طرف چناب کی منظر کشی کی گئی ہے جو اپنے عنوان ساندل بار سے بھرپور انصاف کرتے ہوئے اس کا تصوراتی منظر پیش کرتا ہے۔
مقامی قدیم ورثہ گیلری
میوزیم کی تیسری گیلری میں آثار قدیمہ کی اہمیت کے پیشِ نظر ساندل بار کے مختلف اضلاع میں واقع قدیم ٹبوں اور عمارتوں کو ٹائلز کی صورت میں دکھایا گیا ہے۔

چنیوٹ کی پہاڑیوں کی سنگ تراشی کے نمونے، مٹی کے مجسمے، قیمتی موتی اور سکوں کو نمائش کے لیئے رکھا گیا ہے۔
اس گیلری میں شورکوٹ ، گندھارا اور انڈس ویلی جیسی قدیم ادوار کی کوزی گری بھی رکھی گئی ہے۔ سجاوٹی کام سے مزین لکڑی کا بنا کچاوہ، جو اونٹ پر رکھا جاتا ہے، بھی یہاں رکھا گیا ہے۔
مسلم تا انگریز ورثہ گیلری
عجائب گھر کی چوتھی گیلری میں حضرت سلطان باہوؒ کے مقبرے کا دلکش ماڈل، اسلامی طرز کے خوبصورت ڈیزائن والے قدیم عمارتوں کے حصے، قرآن پاک کے نادر نسخے، ظروف سازی، دھاتی و روغنی کام اور سکھ و انگریز دور کے مختلف جنگی ہتھیار رکھے گئے ہیں۔


چناب کالونی گیلری
اس میں برطانوی دور کے اندر بننے والی لوئر چناب کالونی، ریلوے اور نہری نظام کو ایک بڑے نقشے کی مدد سے دکھایا گیا ہے ساتھ ہی جھنگ اور چنیوٹ میں واقع پُل کو تصویری شکل میں دکھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ برطانوی، سکھ اور مغل ادوار میں استعمال ہونے والے اسلحے کے ساتھ ساتھ ملتانی ٹائل ورک اور کیلی گرافی کے نمونوں کے شوکیس بھی ہیں۔

للوئر چناب کالونی کا ایک خوبصورت ماڈل بھی اس کی زینت ہے۔
لائل پور گیلری
اس گیلری میں برطانوی دور میں بننے والے لائلپور کے نقشہ جات اوراس دور میں کئے جانے والے مختلف معاہدوں کی قانونی دستاویزات موجود ہیں۔ برطانوی دور میں مختلف ذاتوں اور ان کے لباس کے حوالے سے تاریخی تصاویر کے ساتھ ساتھ برٹش دور سے لیکر اب تک فیصل آباد میں شہر سازی کس طرح بڑھی ہے، اس پر  جی آئی ایس کی مدد سے تیار نقشے بھی رکھے گئے ہیں۔


سوچ و عمل گیلری
 یہاں قیام پاکستان سے قبل انگریزوں کے دفاتر میں استعمال ہونے والی اشیاء سمیت مواصلات کے اوزار، قدیم ہتھیار، عدالتی سامان سمیت اس دور میں تعمیر ہونے والی اہم عمارتوں کی بہترین تصاویر لگائی گئی ہیں ۔
ساندل بار سے تعلق رکھنی والی مختلف شخصیات کی تصاویر بھی اس گیلری کا حصہ ہیں جن میں دلا بھٹی، احمد خان کھرل شہید، بھگت سنگھ، سر گنگا رام، نصرت فتح علی خان، ارفع کریم، ڈاکٹر عبدالسلام، حضرت سلطان باہوؒ، بابا گرونانک اور صوفی برکت علی نمایاں ہیں۔

 
معاشرتی حسن گیلری
یہ گیلری مختلف قدیم یشوں کی تاریخ بیان کرتی ہے۔ چاندی کے زیورات بنانے کے مختلف اوزار، کمہار اور لوہار کے اوزار، پتلی تماشہ، قدیم لباس، چنیوٹ کے تازیوں اور کپڑوں پر ٹھپہ سازی کی صنعت کے حوالے سے مختلف اشیاء کے شوکیس موجود ہیں۔ چنیوٹ کے لکڑی کے کام میں استعمال ہونے والے اوزار بھی رکھے گئے ہیں۔


یہاں لائل پور کی اہم شخصیات کی تصاویر بھی آویزاں ہیں جن میں ضیا محی الدین، ساحر لدھیانوی، ڈاکٹر طارق رحمان، امیتابھ بچن کی والدہ اور مالا بیگم کے علاوہ دیگر شامل ہیں۔ بھگت سنگھ کے گھر کی مختلف اشیا کا ایک کارنر الگ سے موجود ہے۔
پارچہ بافی گیلری
چونکہ ٹیکسٹائل اندسٹری کے ذکر کے بغیر فیصل آباد کا تعارف ادھورا ہے اس لیئے یہ یہاں کی اہم گیلری ہے۔

اس گیلری میں ہاتھ  اور کھڈی سے بنے ہوئے کپڑوں کے مختلف نمونہ جات، ہاتھ سے کام کرنے والے اوزار چرخہ، روئی دھننے والا آلہ، بیلنا اور کھڈی وغیرہ رکھے گئے ہیں۔
تحریک پاکستان گیلری
اس گیلری میں تحریک پاکستان کے حوالے سے قائد اعظم کی مختلف تصاویر کے علاوہ ارفع کریم کو ملنے والے تمغوں اور اس کے زیر استعمال اشیا رکھی گئی ہیں۔
حضرت سلطان باہوؒ  کے مقبرے کا ماڈؒل اور جھن گ سے نکلنے والے نوادرات بھی عجائب گھر کا حصہ ہیں۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Ajaib Gharoon Ki Dunya is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 28 August 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.