فرقہ وارانہ فسادات پھیلانے کی منظم عالمی سازش

مولانا ڈاکٹر عادل خان مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کا ایک استعارہ تھے

پیر اکتوبر

Firqa Warana Fasadat Pheelane Ki Munazim Aalmi Sazish
وفاق اور سندھ حکومت کے مابین کراچی جس وقت کے پرکشش ساحلی جزیروں پر حق ملکیت کے حصول کے لئے ”سیاسی جنگ“ جاری تھی عین اسی وقت ملک دشمن عناصر نے وطن عزیز پاکستان کے ایک نامور عالم دین اور جامعہ فاروقیہ کراچی کے مہتمم شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر عادل خان کو ا ن کے ڈرائیور سمیت ایک ٹارگٹڈ حملے میں شہید کر دیا جیسا کہ حدیث رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ”موت العالِم،موت العالَم“ یعنی ایک عالم کی موت تمام زمانے کی موت ہوتی ہے لہٰذا دہشت گردی کی اس المناک کارروائی نے درد دل رکھنے والے پاکستانی کو انتہائی رنج و صدمہ میں مبتلا کر دیا لیکن افسوس صد افسوس کہ یہ سانحہ بھی ہمارے ملک میں جاری ”سیاسی جنگ“ کے لئے وجہ تعطل یعنی سیز فائر کا باعث نہیں بن سکا ہاں!اتنا ضرور ہوا کہ بس ایک دن کے لئے مولانا ڈاکٹر عادل خان کی شہادت کے متعلق سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کے وزراء کی جانب سے معمول کے تعزیتی بیانات جاری کئے گئے اور اگلے دن پھر سے سب اہل سیاست اپنی اپنی ”سیاسی دُکانداری“ چمکانے میں مصروف ہو گئے بظاہر مولانا ڈاکٹر عادل خان کی شہادت کے واقعہ کا ملک میں جاری غیر معمولی اور جارحانہ سیاسی کشمکش سے براہ راست کوئی تعلق تو نہیں بنتا مگر پھر بھی یہ کہنا عین قرین قیاس ہو گا کہ اہل سیاست کی کبھی نہ ختم ہونے والی آپس کی”معاندانہ چپقلس“نے ملک دشمنوں کو ایک آسان اور سنہری موقع ضرور مہیا کیا ہے کہ جس کا فائدہ اٹھا کر مولانا ڈاکٹر عادل خان جیسی صلح جو اور امن کی داعی شخصیت کو ایک دہشت گردی کی کارروائی میں شہید کر دیا گیا،واضح رہے کہ ڈاکٹر عادل خان کی شہادت ملک میں بالعموم اور شہر کراچی میں بالخصوص فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی ایک جامع سازش ہے جس کے تانے بانے براہ راست بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ساتھ جا ملتے ہیں کیونکہ بھارت کی شدید ترین خواہش ہے کہ آنے والے ایام میں پاکستان کے اندر فرقہ وارانہ فسادات کی آگ پر سیاسی احتجاج کا تیل چھڑ کر بدامنی کے شعلوں کو اتنا زیادہ بڑھاوا دے دیا جائے کہ دنیا ایک بار پھر سے ریاست پاکستان کے پرامن چہرے پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کرنے پر مجبور ہو جائے جبکہ ہمارے اس اندیشہ کو تقویت پہنچانے والے چند واضح اشارے ابھی سے موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں اگر ان رموز کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو منکشف ہوتا ہے کہ بعض بد طینت افراد کی جانب سے ڈاکٹر عادل خان کی شہادت کے واقعہ کو بنیاد بنا کر ملک بھر میں فرقہ وارانہ فسادت کی آگ بھڑکانے کی بھرپور عملی کوششوں کا باقاعدہ آغاز بھی کر دیا گیا ہے،اس حوالے سے سوشل میڈیا پر اہلسنّت و الجماعت پاکستان کے صدر علامہ اورنگزیب فاروقی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان جس میں انہوں نے کہا تھا کہ”وفاقی حکومت سمیت پاکستان کی تمام ایجنسیز 24گھنٹے کے اندر مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان کے قاتلوں کو گرفتار کرکے منظر عام پر لائیں بصورت دیگر ملک بھر میں شدید ترین احتجاج کیا جائے گا“کی بعض شرپسند عناصر کی جانب سے مختلف تاویلیں اور تشریحات کرکے یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جیسے اگر دی گئی مقررہ ڈیڈ لائن تک مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا گیا تو ملک بھر میں نظام زندگی کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا جائے گا۔

(جاری ہے)


سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ پروان چڑھنے والے اس منفی تاثر کی جلد از جلد نفی ہونا ازحد ضروری ہے وگرنہ ذرا سی بداحتیاطی کسی مزید المناک حادثہ کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہے اس لئے ہماری اہلسنّت و الجماعت کی قیادت سے مخلصانہ گزارش ہے کہ مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید کے قاتلوں کی گرفتاری کے لئے اپنا احتجاج حکومت ایوانوں تک پہنچانے کے لئے وہ ہی مستحسن رویہ اور طرز عمل اختیار کیا جائے جس کے داعی اور علم بردار خود مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید اپنی ساری زندگی رہے ہیں۔

مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید علمائے حق کے اس قبیلہ کے سرخیل تھے،جسے گزشتہ چند برسوں میں سب سے زیادہ دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا لیکن اس کے باوجود انہوں نے ہمیشہ فرقہ وارانہ فسادات کے شعلوں پر پانی ڈالنے کو ہی اپنی اولین ترجیح بنائے رکھا کیونکہ مولانا بخوبی جانتے تھے کہ دہشت گروں کے مذموم عزائم ایک عالم کو قتل کرنے کے بعد ختم نہیں ہو جاتے بلکہ شروع ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید نے دہشت گردی کا نشانہ بننے والے اپنے کئی محترم اساتذہ اور ہر دلعزیز شاگردوں کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارنے کے بعد بھی صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔

انہوں نے اپنے متعلقین کو دہشت گردی کے ہر اندوہناک سانحہ کے بعد مذہبی رواداری کی فضا برقرار رکھنے کی ہی تلقین ہی کی،حیران کن بات یہ ہے کہ اپنی زندگی کی آخری تقریری میں بھی انہوں نے ملک میں جاری حالیہ فرقہ وارانہ فسادات پھیلانے کی کوششوں کو صبر،تحمل اور مذہبی ہم آہنگی کے ہتھیار سے ناکام بنانے پر ہی زور دیا تھا۔مولانا ڈاکٹر عادل خان صحیح معنوں میں دہشت گردی کی مشکل ترین سائنس کو سمجھنے والے ایک باعمل عالم دین تھے،بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ ملک دشمن کے عناصر آہستہ آہستہ ایسے تمام اعتدال پسند علمائے حق کو دہشت گردی کا نشانہ بناتے چلے جا رہے ہیں جو اپنی علمی،فکری اور عملی کاوشوں سے پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی سازشوں کو ناکام بنانے کے حوالے سے خصوصی شناخت کے حامل ہیں ،چند برس قبل دہشت گردوں نے ہم سے جامعہ نعیمیہ کے مہتمم مفتی ڈاکٹر سر فراز احمد نعیمی شہید کو چھین لیا تھا اور اب کی بار مولانا ڈاکٹر عادل خان کو ہم سے دور کر دیا یہ دونوں علمائے کرام مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کا ایک استعارہ تھے ان عظیم علمی و فکری شخصیات کے بچھڑنے کا غم اپنی جگہ مگر دوسری جانب ایک بہت بڑا دکھ اور المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے اہل سیاست کو احساس ہی نہیں کہ اعتدال پسند علمائے کرام کا ایک ایک کرکے دہشت گردی کا شکار ہو کر رخصت ہو جانا،مستقبل میں ریاست پاکستان کے لئے کس قدر سنگین خطرات اور مشکلات کا باعث بن سکتا ہے،ہمارے سیاسی قائدین کو جتنی فکر اور پریشانی اپنی کرپشن زدہ سیاست کو بچانے کی لاحق ہے، کاش!اتنی ہی لگن ریاست کو بچانے کی بھی ہوتی۔


متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Firqa Warana Fasadat Pheelane Ki Munazim Aalmi Sazish is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 26 October 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.