حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ”لفظی جنگ“میں شدت

تحریک چلانے کا فیصلہ”موخر“وزیراعظم عمران خان کو بڑا”ریلیف“ نواز شریف کا سیاست سے”ریٹائرمنٹ“کے مطالبے کے سامنے ”سرتسلیم خم“کرنے سے انکار

جمعرات جولائی

Hakomat Or opposition k darmyan lafzi jang main shiddat
 نوازرضا اسلام آباد
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہو گئی اپوزیشن نے فوری طور پر حکومت گرانے کے لئے تحریک چلانے کا فیصلہ”موخر“کرکے وزیراعظم عمران خان کو بڑا”ریلیف“دیا ہے لیکن جوں ہی بجٹ کی منظوری کا طے ہوا حکومت سیاسی مخالفین خلاف ”سیاسی جارحیت“شروع کردی ہے۔قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کی آخری نشست میں”حکومتی ارکان “
(اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا تھا)سے خطاب کے دوران جو ”لب ولہجہ“اختیار کیا وہ ان کے آئندہ کے سیاسی عزائم کی غمازی کرتا تھا وہ اپنے خطاب کے دوران انتہائی ”غصے“میں دکھائی دے رہے تھے انہوں نے برملا یہ بات کہی کہ”میں بجٹ کی منظوری کے لئے خاموش رہ،اب خاموش نہیں رہوں گا “قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے وزیراعظم کو بار بار”سلیکٹڈ“کا طعنہ دے کر اس حد”زچ“کردیا کہ انہوں نے اپنی تقریر میں سارا غصہ اپوزیشن پر نکال دیا انہوں نے کہا کہ”این آر او لینے اور آمروں کی نرسریوں میں تیار ہونے والے مجھے”سلیکٹڈ“کہتے ہیں این آر اودوں گا اور نہ ہی کسی چور اور ڈاکو کو چھوڑوں گا“۔

(جاری ہے)


آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا کوئی فیصلہ نہ ہونے کے بعد کہا جارہا تھا کہ آئندہ دوچار مہینے سکون سے گزر جائیں گے لیکن وزیراعظم نے انتظار کئے بغیر اپوزیشن کے خلاف”اعلان جنگ“کردیا ہے ان کے لب ولہجہ میں نرمی آنے کی بجائے سختی آگئی ہے ایسا دکھائی دیتا ہے وہ اپنے ان تمام سیاسی مخالفین جو صبح شام انہیں کوستے رہتے ہیں کو”چورڈاکو“قرار دے کر جیلوں میں ڈالنا چاہتے ہیں۔


سابق وزیراعظم محمد نواز شریف جواس وقت کوٹ لکھپت جیل میں العزیز یہ ریفرنس میں قید کاٹ رہے ہیں انہوں نے سیاست سے ”ریٹائرمنٹ “کے مطالبے کے سامنے”سرتسلیم خم “کرنے سے انکار کردیا ہے لہٰذا ان کا ”کھیرا“تنگ کیا جارہا ہے میاں نواز شریف پر سیاسی رہنماؤں کی ملاقاتوں پر پابندی عائد کردی گئی اب صرف ان کے خاندان کے افراد کو ہی ملاقات کی اجازت دی جارہی ہے میاں نواز شریف کے”اعصاب“کا امتحان لیا جارہا ہے ۔

باربار”انجائنا“کے اٹیک کے باوجودوہ حوصلہ سے جیل کاٹ رہے ہیں اور ان شرائط پر رہائی کی”بھیک “نہیں مانگ رہے جو ان کے”سیاسی وقار“کے منافی ہے سردست انہوں نے ”منی لانڈرنگ“ کے خلاف“کریک ڈاؤن “کا اعلان کیا ہے لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حکومت نے اپوزیشن رہنماؤں کی بڑے پیمانے پر”پکڑ دھکڑ“شروع کرد ی ہے بظاہر پاکستان مسلم لیگ(ن)پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ جو عمران حکومت کے سب سے بڑے ”ناقد“تصور کئے جاتے ہیں کہ گرفتاری اینٹی نارکاٹیکس کنٹرول نے منشیات کی برآمدگی پر عمل آئی ہے لیکن سیاسی شعور رکھنے والا کوئی شخص اس الزام کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔


ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں چوہدری ظہور الٰہی اور ولی خان کی گرفتاری کی یادتازہ ہو گئی ہے جس طرح ذوالفقار علی بھٹوکے دور میں چوہدری ظہور الٰہی کے خلاف بھینسیں چوری کرنے مقدمہ بنایا گیا ہے اسی طرح رانا ثناء اللہ کی گاڑی سے 15کلو گرام منشیات کی”برآمدگی “کی خبر آئی ہے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد سے بھی لال حویلی سے کلاشنکوف”برآمد“ہوئی تھی ”ناکردہ“گناہوں کے”جرم “میں قید وبندکی صعوبتیں برداشت کی تھیں سابق صدر آصف علی زرداری پر بھی منشیات برآمدگی کا مقدمہ درج کیا گیا جس سے نکلنے پر ان کو 5سال لگ گئے۔


انہوں نے دلچسپ تبصرہ کیا ہے ”بندر کے ہاتھ میں استرا آگیا ہے“پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر میاں شہباز شریف نے اسے سیاسی انتقام کی بدترین مثال قرار دیا اور کہا ہے کہ رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے پیچھے عمران خان ہیں سیاسی حلقوں میں یہ بات کہی جارہی ہے آئندہ چند دنوں اپوزیشن کے مزید رہنماؤں کی گرفتاریاں شروع ہونے والی ہیں گرفتارہونے والوں مریم نواز،شاہد خاقان عباسی،خواجہ آصف ،مریم اورنگ زیب کے نام لئے جارہے ہیں کیونکہ وہ صبح شام وزیراعظم عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں اور ان کے خلاف ”سخت زبان“استعمال کرنے سے باز نہیں آتے۔

وفاقی بجٹ کی منظوری کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے پاکستان مسلم لیگ(ن)کے پنجاب اسمبلی کے 15ارکان کی بنی گالہ میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کا”شوشہ“چھوڑا تو سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔
حکومت کی جانب یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ(ن)میں ”فارورڈ“بلاک بن رہا ہے حالانکہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کرنے والوں کی تعداد تین چار سے زائد نہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے ہردور میں اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنا معیوب نہیں سمجھا جاتا تاحال وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنے والوں کے نام سامنے نہیں لائے جاسکے اس ملاقات کی کوئی تصویر بھی شائع نہیں کی گئی اس لئے اس خبر میں صداقت نظر نہیں آتی ہے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنے والوں میں پاکستان مسلم لیگ(ن)کے رہنماوسابق وفاقی وزیرمیاں ریاض حسین پیرزادہ کا نام بھی لیا جارہا ہے جب میں نے ان رابطہ قائم کیا تو انہوں نے وزیراعظم سے ملاقات کی خبروں کی سختی سے تردیدکی اور کہا ہے کہ”میرا قائد اور رہبر لیڈر میاں نواز شریف ہے،جھوٹی خبریں اور افواہوں میں کوئی صداقت نہیں میں اپنے لیڈر میاں نوازشریف اور اپنی جماعت مسلم لیگ(ن)کے ساتھ کھڑا ہوں ۔

مجھے بڑا افسوس ہے کہ میرے خلاف ایسی جھوٹی خبریں اور افوا ہیں پھیلائی جارہی ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان مسلم لیگ(ن)پنجاب کے صدر اور قومی اسمبلی کے رکن رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کاسخت نوٹس لیا ہے رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان رابطے قائم کئے ہیں اس معاملہ پر غور کرنے کے لئے مولانافضل الرحمن نے اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کا اجلاس بھی بلا لیا ہے جب کہ پاکستان مسلم لیگ(ن)کے صدر میاں شہباز شریف کی زبر صدارت پاکستان مسلم لیگ(ن)کی پارلیمانی ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس بھی لاہور میں منعقدہو چکا ہے جس میں آئندہ کالائحہ عمل تیار کیا گیا ہے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے مزیدسیاسی رہنماؤں کی گرفتاری خدشہ کا اظہار کیا ہے اپوزیشن جماعتوں نے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لئے ریکویذیشن تیار کرلی ہے جو ایک دوروز میں قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرادی جائے گی پاکستان مسلم لیگ(ن)کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی اور پاکستان مسلم لیگ(ن)کے مرکزی رہنما رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ رانا ثناء اللہ کی گرفتاری سے حکومت کی بوکھلاہٹ کا اظہار ہے پاکستان مسلم لیگ(ن)ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے مزید مضبوط ہو گی ذرائع کے مطابق مولانافضل الرحمن نے اپنے معاونین کے ذریعے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو ملک کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے اہم پیغامات بجھوائے ہیں آنے والے دنوں میں اپوزیشن کا بڑا اجلاس ہو گا اپوزیشن جماعتوں کی ”رہبر کمیٹی“کے اجلاس میں چےئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو حتمی شکل دی جائے گی سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ(ن)اکثریتی جماعت ہے اس ناطے پاکستان مسلم لیگ(ن) کا موقف ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں چےئرمین شپ پاکستان مسلم لیگ(ن)کودی جائے جب کہ پاکستان پیپلزپارٹی اس بات پر مصر ہے کہ اسے یہ منصب دیا جائے لیکن پاکستان مسلم لیگ(ن)کسی صورت بھی پاکستان پیپلزپارٹی کو چےئرمین شپ دینے کو تیار نہیں اگلاچےئرمین کون ہو گا؟اس بات کا فیصلہ کئے بغیر آل پارٹیز کانفرنس نے چےئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لارہی ہے لہٰذا نئے چےئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا معاملہ کھٹائی میں پڑ سکتاہے پاکستان مسلم لیگ(ن)راجا محمد ظفر الحق کو چےئرمین کے لئے مناسب امیدوار سمجھتی ہے جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے سربراہ سلیم مانڈوی والا کو چےئرمین بنانا چاہتے ہیں اب دیکھنا یہ ہے پاکستان مسلم لیگ (ن)اور پاکستان پیپلز پارٹی کے”سیاسی مفادات“کا ٹکراؤ تحریک عدم اعتماد کی بیل منڈھے چڑھنا دیتے ہیں کہ نہیں اس سوال کا جواب آنے والے دنوں میں مل جائے گا۔


Your Thoughts and Comments

Hakomat Or opposition k darmyan lafzi jang main shiddat is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 04 July 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.