بھارت میں پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے

مودی کی جارحانہ پالیسیوں سے اقلیتیں غیر محفوظ،مسلمانوں پر قاتلانہ حملے معمول بن گئے

بدھ فروری

India mein Pakistan zinda baad ke falak shagaf naare
سید بہادر علی سالک
قیام پاکستان کے وقت برطانوی حکومت نے بھارتی کٹر ہندو رہنماؤں کے ساتھ ساز باز کرکے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کشمیر کو متنازعہ بنایا اس سازش میں برطانوی حکومت،ان کے برصغیر میں موجود وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن،کانگریسی رہنما جواہر لال نہرو،مہاتما گاندھی اور اُن کے ایجنٹ شیخ محمد عبداللہ شامل تھے۔

27 اکتوبر 1947ء کو سازش کے تحت بھارتی فوجیں کشمیر میں اتار دی گئیں اور غاصبانہ قبضہ کرکے کشمیریوں کی خواہشات کا خون کیا یہی وجہ ہے کہ ہر سال کشمیری عوام 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔کشمیری عوام کے غیض و غضب کو دیکھتے ہوئے بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے لال چوک پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کشمیری عوام کو رائے شماری کا حق دینے کا اعلان کیا اور اقوام متحدہ میں اس حوالے سے ایک قرارداد منظور کی گئی لیکن بھارت 73 سال گزرنے کے باوجود اس قرارداد پر عمل کرنے اور کشمیری عوام کو رائے شماری کا حق دینے کے لئے تیار نہیں ہوا۔

(جاری ہے)

کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد جاری رہی۔1990ء میں اس میں شدت آگئی لیکن تیزی 2017ء میں برھان وانی کی شہادت کے بعد آئی۔
آزادی کی یہ تحریک کسی کی تھوپی ہوئی تحریک نہیں بلکہ یہ کشمیریوں کی اپنی قومی اور دیسی تحریک تھی عملاً 2017ء سے کشمیری اپنے گھروں میں نظر بند ہیں۔جدوجہد آزادی میں تیزی اور مزید شدت اُس وقت آئی جب 5 اگست 2019ء کو BJP/RSS کی مذہبی جنوبی حکومت نے کشمیر کی بھارتی آئین میں موجود خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لئے آرٹیکل 370 اور 35-A کو ختم کیا۔

اس دن سے آج کے دن تک کشمیر محاذ جنگ بنا ہوا ہے۔مقبوضہ وادی میں سناٹے کا عالم ہے۔کشمیریوں پر بھارت کی 10 لاکھ قابض فوج مظالم ڈھا رہی ہے جس کی مہذب دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے لیکن ان تمام مظالم کے باوجود آج بھی مقبوضہ کشمیر کے ہر گھر پر پاکستان کا قومی پرچم لہرایا جا رہا ہے۔ شہیدوں کے جسد خاکی پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر سپرد خاک کر دئیے جاتے ہیں۔

کشمیر میں ہر تقریب کے شروع ہونے سے پہلے پاکستان کا قومی ترانہ بجایا جاتا ہے۔گلی گلی،قریہ قریہ،گاؤں گاؤں،محلہ محلہ پاکستان زندہ باد،کشمیر خالی کرو کے فلک شگاف نعرے لگتے ہیں،یہ ساری باتیں کشمیریوں کی پاکستان سے عقیدت اور محبت اور پاکستان میں شامل ہونے کی دل کی آواز ہے،حال ہی میں 26 جنوری کو بھارتی یوم جمہوریہ کے دن پورے کشمیر میں یوم سیاہ منایا گیا اور بھارت پر واضح کر دیا گیا کہ کشمیری نہ پہلے بھارتی تھے اور نہ ہی آئندہ بھارتی ہوں گے ۔

کشمیری پاکستانی تھے اور پاکستانی رہیں گے جگہ جگہ پاکستان سے الحاق کے حق میں پاکستان زندہ باد کے نعروں کے ساتھ پاکستانی پرچموں کے ساتھ ریلیاں نکالی گئیں،حسن اتفاق ہے کہ گزشتہ 2 ماہ سے بھارتی دارالحکومت دہلی پر بھارتی کسانوں کا قبضہ بھی ہے اور بھارتی کسانوں نے ٹریکٹرز کی ریلی نکالی اور لال قلعے پر خالصتان کا پرچم لہرا دیا اور پاکستان زندہ باد کے پرجوش نعرے لگے۔

بھارتی مقبوضہ لداخ کے ان علاقوں میں جہاں سکھ فوجی ڈیوٹیاں دے رہے ہیں خالصتان کے پرچم لہرائے گے،یہ بھی حیرت کی بات ہے کہ دہلی میں دہلی گیٹ اور میٹرو اڈے پر بھی پاکستانی زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگے۔
بھارت میں سیکولر مودی کا جنازہ نکل چکا ہے کیونکہ تمام اقلیتیں دلت،سکھ،اچھوت اور مسلمان غیر محفوظ ہیں اور ان پر قاتلانہ حملے اور اجتماعی اور انفرادی عصمت دری ہو رہی ہے۔

بھارتی یوم جمہوریہ کے دن 26 جنوری کو پورے پاکستان،دنیا اور گلگت بلتستان میں یوم سیاہ منایا گیا اس سلسلے میں ریلیاں نکالی گئیں۔جلسے جلوس اور احتجاج کا اہتمام کیا گیا۔سکردو میں بھی بڑی ریلی نکالی گئی جس میں کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور بھارتی مظالم کی بھرپور مذمت کی گئی اس ریلی میں مقررین نے برملا اظہار کیا کہ مودی حکومت اور”را“ بھارت میں اپنی خیر منائے اور کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کشمیر کی آزادی تک مظلوم کشمیریوں کی سیاسی،اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔

کشمیری عوام کے حق خوددارادیت کے حوالے سے حکومت کی کشمیر پالیسی کو (جو مقتدر حلقوں کی مشاورت سے بنی ہے)ناصرف دنیا میں بلکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں،امریکہ،یورپی پارلیمنٹ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور اقوام متحدہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مسئلہ کشمیر پر کئی مرتبہ غور کیا گیا اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی خصوصاً بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35-B کے خاتمے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

او آئی سی نے بھی اس حوالے سے قرارداد منظور کی ہے۔
امریکی سینٹ اور کانگریس کے علاوہ برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان کی جانب سے بھی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو تشویش ناک قرار دیا جا رہا ہے،اب تو بھارت کے اندر ان کے اپنے میڈیا کے لوگ،سابقہ جنرل،سابقہ ججوں،سابقہ بیورو کریٹس اور انسانی حقوق کے ادارے بھی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے مستقل حل کی تجویز دے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ کشمیر پر عملاً بھارت کا اقتدار ختم ہو چکا ہے،اب وہ وقت دور نہیں جب مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارت کے جبری قبضے سے جلد آزادی حاصل کریں گے اور اُن کی اپنی شروع کردہ دیسی اور قومی تحریک آزادی جلد منطقی انجام کو پہنچے گی ایسے میں اقوام متحدہ،برطانیہ،او آئی سی،یورپی یونین اور انسانی حقوق کے اداروں کو نہتے کشمیریوں کے حقوق اور جدوجہد آزادی کی عملی حمایت کرنی چاہئے کیونکہ اس دور میں کوئی بھی ملک طاقت کے بل بوتے پر کسی قوم پر جبری اور ناجائز قبضہ جاری نہیں رکھ سکتا،آج بھی گلگت بلتستان میں کچھ گمراہ عناصر،نام نہاد قوم پرست اور مودی،”را“اور موساد کے ایجنٹ پاکستان،پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہماری فوج جذبہ ایمانی سے سرشار ہے اور ہمیں فکر ہونا چاہئے کہ حال ہی میں جاری شدہ عالمی رینکنگ میں دنیا کی بہترین اور طاقتور ترین فوجوں میں پاک فوج دسویں نمبر پر ہے اور ہماری آئی ایس آئی کا نام سن کر دنیا کی دوسری سکیورٹی ایجنسیوں کے پیر کانپتے ہیں،اب وقت آگیا ہے کہ ان ملک دشمن سیاست دانوں،نام نہاد قوم پرستوں،نام نہاد،جمہوریت کے علم برداروں اور انسانی حقوق کے نام لیواوں پر سوشل میڈیا کے ذریعے غیر ضروری بحث کو ختم کرنے کے لئے شٹ اپ کال دی جائے۔

مسئلہ کشمیر کی وجہ سے گلگت بلتستان کی آئینی حقوق کا مسئلہ بھی لٹکا ہوا ہے،یہاں یہ ذکر کرنا انتہائی ضروری ہے کہ وفاقی حکومت کی فراخدلانہ پالیسیوں اور امداد کے نتیجے میں جی بی کو بغیر کوئی ٹیکس ادا کئے اربوں روپے کا غیر ترقیاتی اور ترقیاتی بجٹ مل رہا ہے اور میگا پراجیکٹس بھی جاری ہیں۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

India mein Pakistan zinda baad ke falak shagaf naare is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 17 February 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.