اپوزیشن کے استعفوں پر حکومت کا جوابی اقدام

2کشتیوں میں سوار حزب اختلاف کی حکومت مخالف تحریک کارگر ثابت نہیں ہو گی

جمعرات جنوری

Opposition k asteefoon per hakomat ka jawabi iqdam
امیر محمد خان
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حزب اختلاف اور حکومت مقابلے میں آخری لمحات میں ہے،مگر میری نہایت ناقص سوچ کہتی ہے کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،حکومت اتنے مضبوط ہاتھوں میں ہے کہ فی الحال جانے کا کوئی امکان نہیں یہ مضبوط ہاتھ تحریک انصاف یا اتحادی جماعتوں کے نہیں بلکہ ”اتحادیوں“ کے ہیں دراصل جب کہیں بھانت بھانت کے لوگ کہیں جمع ہو جائیں تو ان کی اپنی اپنی بولیاں ہوتی ہیں جس کی شنوائی کہیں نہیں ہوتی۔

حزب اختلاف میں مختلف نظریات ہی نہیں بلکہ کئی اہم امور پر مختلف الخیال لوگ موجود ہیں یہ کوئی انتخابی اتحاد بننے سے قاصر ہے جس وقت بھی ملک میں انتخابات ہوئے تو ”جوتیوں میں دال بٹے گی“ابھی حزب اختلاف کی تحریک نے ماسوائے جلسوں کے اپنی تحریک میں اگلا قدم بھی نہیں رکھا آوازیں آنے لگی ہیں،یہ حال حکومت کا بھی ہے وہاں بھی تمام حکومتی اتحادی جماعتوں کی ایک سوچ نہیں یہ وجہ ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں صرف تحریک انصاف کو ہی ٹارگٹ کئے ہوئے ہیں چونکہ بقیہ جماعتیں جو حکومت میں شامل ہیں وہ تو ہر آنے والی حکومت کا حصہ بننے میں دیر لگانا وقت کا نقصان تصور کرتی ہیں،یہ وجہ ہے حزب اختلاف کے مقابلے لئے خود وزیراعظم عمران خان،ان کی جماعت کے وزراء،سن کے مشیران کی فوج ظفر موج یہاں تک کہ صوبائی مشیران بھی Over Time پر وفاقی مشیر کا کام دے رہے ہیں اور حزب اختلاف کے متعلق اپنے بیانیے پر قائم ہیں حکومتی مشیران کی اپنی حکومت،اپنی جماعت سے زیادہ حزب اختلاف کی جماعتوں پر توجہ مرکوز ہے ان کے ہر بیان پر جوابی بیان کے ساتھ ہمہ وقت حاضر رہتے ہیں،یہاں تک کہ اگر حزب اختلاف کے جلسے میں کوئی حزب اختلاف کی قیادت دیر سے پہنچے یا کسی وجہ سے نہ پہنچ سکے تو اس کی پریشانی حزب اختلاف کو کم مشیران حکومت کو زیادہ ہوتی ہے اور فوری میڈیا پر آکر عوام کو آگاہ کرتے ہیں دوسری طرف یہ بیانیہ اپنی جگہ کہ عوام نے چور لٹیروں،پر مشتمل حزب اختلاف کو ٹھکرا دیا ہے،سیاسی جماعتیں تضادات کا ہمیشہ شکار رہتی ہیں،مخالفت میں ایک دوسرے کے خلاف تمام حدوں کو پار کر دیتی ہیں،اگر کوئی باعزت لوگ ہوں تو ایک دوسرے کو منہ بھی نہ دکھائیں مگر آفرین ہے ان پر کہ جب اپنے مفادات کیلئے ملنا ہوتا ہے تو فوری محبتیں جاگ جاتی ہیں،اس کا مظاہرہ گزشتہ دنوں اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم شہید بے نظیر کی 13 ویں برسی پر لاڑکانہ میں لوگوں نے دیکھا یہ بھٹو خاندان کی ایک بڑی کامیابی تھی کہ جو لوگ عورت کی حکمرانی کے خلاف تھے جو ایک دوسرے کو سڑک پر گھسیٹنے کی تمنا رکھتے تھے وہ سب بی بی شہید کر لحد پر پھولوں کی چادر چڑھا رہے تھے۔

(جاری ہے)


برسی کا جلسہ تھا تو عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم کو خراج عقیدت پیش کرنے اور اُن کی قومی خدمات کی تحسین کے لئے مگر توقع کے عین مطابق اسے پی ٹی آئی حکومت کی ناکامیاں گنوانے اور اُسے چلتا کرنے کے لئے پُرجوش تقریروں کے موقع میں تبدیل کر دیا گیا۔حکومت مخالف تحریک پی ڈی ایم کے رہنماؤں نے خوب دل کی بھڑاس نکالی اور برسراقتدار طبقے کی کمزوریوں کو اچھالا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تقریر میں اس الٹی میٹم کا اعادہ کیا کہ وزیراعظم عمران خان نے 31 جنوری تک استعفیٰ نہ دیا تو اپوزیشن ملک کے کونے کونے سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کرے گی۔سابق صدر آصف زرداری نے وڈیو لنک پر عوام کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کو حکومت سے نکالنے کے لئے جیلیں بھرنا ہوں گی اس مقصد کے لئے انہوں نے پی ڈی ایم کو اپنی سوچ بدلنے کا مشورہ بھی دیا ان کی اس بات کا واضح مطلب یہ ہی ہے کہ آصف زرداری پی ڈی ایم کی حالیہ پالیسیوں کے حامی نہیں۔


حزب اختلاف کی موجودہ کافی کوششوں،فیصلوں میں ہم آہنگی کا نہ ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کہیں نہیں جا رہی، یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پہلے فیصلہ ہوا کہ سینٹ کا انتخاب نہیں ہونے دیا جائے گی اس سے قبل استعفے ہوں گے اور تحریک کو عروج حاصل ہو گا مگر پی پی جس نے پہلے بھی سینٹ کے انتخابات میں خرید و فروخت کا بازار لگایا تھا،دوسری جانب ہر حکومت کا حق بنتا ہے کہ وہ بھی اپنے نمائندوں کو کامیاب کرائے اب چونکہ جہانگیر ترین والا معاملہ نہیں اس لئے حکومت کے اور بہت سے ذرائع ہیں ہوتے ہیں جن میں وزارت وغیرہ کی غیر اعلانیہ رشوت ہوتی ہے جس وجہ سے حکومتی امیدوار کی کامیابی کے روشن امکانات ہوتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان ناراض اور اب وہ پی پی پی کے واضح فیصلے کے بعد بہت ہی ناراض کہ پی پی پی نے بھرپور انداز میں سینٹ انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔2 کشتیوں میں سوار حزب اختلاف کیا تحریک چلا سکتی ہے،؟حکومت اور حزب اختلاف کی اس چپقلش میں عوامی مسائل گھمبیر ہوتے جا رہے ہیں ان کی جانب کسی کی توجہ نہیں اور عوام پس رہی ہے،مہنگائی،بے روزگاری،امن و امان کا شکار معاشرہ بن چکا ہے جس کے ذمہ دار تمام ہی سیاستدان ہیں کوئی اس سے مبرا نہیں۔


حزب اختلاف اور حکومت دونوں اضطرابی کیفیت کا شکار محسوس ہو رہی ہیں،ایک طرف چور،چور،ڈاکو کی گردان،دوسری جانب سے خبر لندن سے آتی ہے کہ کوئی ملاقات ہو رہی ہے،ورنہ پاکستان میں تو ملاقات ہو رہی ہے اور حکومت کے اعلان کردہ چور شہباز شریف سے تمام تر مخالفتوں کے باوجود بلاول،اور محمد علی درانی جیل میں جہاں فیاض چوہان کا قبضہ ہے ملاقات اور مذاکرات کی نوید یہ پھر کسی کھیل کی طرف اشارہ کر رہی ہیں جو اس ملک میں 70 برس سے زائد عرصے سے کھیلا جا رہا ہے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان گالم گلوچ اور الزام تراشی کا مقابلہ زوروں پر ہے۔

عوامی مسائل کم ہی زیر بحث آتے ہیں۔حکومت معاشی اشاریوں کے درست ہونے کا ذکر کرتی ہے اور مہنگائی کے ”نوٹس“ بھی لیتی ہے مگر ساتھ ہی پیٹرول،گیس،بجلی اور بعض دوسری ضروری خدمات کے نرخ وقتاً فوقتاً بڑھا دیتی ہے۔اپوزیشن مہنگائی پر تنقید تو کرتی ہے مگر اس کا زیادہ زور حکومت کے خاتمے پر ہے گویا پی ٹی آئی کی حکومت چلی گئی تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اتنی تباہ حال معیشت میں آنے والوں کا یہ الزام ہو گا کہ خزانہ خانی ہے،یہ بیانیہ پاکستان کا مستقبل بیانیہ ہے جمہوری طرز حکومت میں اپوزیشن اور حکومت دونوں کا کردار یکساں اہمیت کا حامل ہے۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Opposition k asteefoon per hakomat ka jawabi iqdam is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 14 January 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.