فلسطین کے شہداء کو سلام

قوم قبلہ اول اور ارض مقدس کے تحفظ کیلئے صیہونی دہشت گرد فوج کے سامنے سینہ سپر ہے

بدھ جون

Palestine Ke Shohda Ko Salam
حاجی لطیف کھوکھر
آخر کار گیارہ دن سے جاری خوں ریزی کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تو دوسری جانب یہودی حکومت نے منافقانہ چال چلتے ہوئے صرف دس بارہ گھنٹوں کے بعد مسجد اقصیٰ کے باہر فلسطینیوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کرتے ہوئے امن معاہدے کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔ اسرائیلی فوج کے گرینیڈ دھماکوں کے ساتھ ہی فلسطینی مرد و خواتین اور معصوم بچے سراسیمگی کے عالم میں اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔

ظالم و غاصب اسرائیل فلسطینیوں پر حملہ کرنے کا کوئی موقع نہیں گنواتا،یہی وجہ ہے کہ سال بھر جنگ جاری رہتی ہے۔جبکہ گزشتہ چند سالوں سے صیہونیوں کی وحشیانہ کارروائیاں تیز تر ہو گئی ہیں۔اسرائیل کی طرف سے پہلا حملہ ماہ رمضان اور وہ بھی شب قدر میں کیا گیا۔

(جاری ہے)

نمازیوں میں دہشت پھیلائی گئی۔حرم پاک کے تقدس کو ماپال کیا گیا۔اندرون مسجد اندھیرا کرکے ان پر آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں برسائی گئیں۔

رمضان سے اب تک سینکڑوں فلسطینی شہید اور ہزارہا زخمی ہو چکے ہیں۔غزہ پر اسرائیلی بربریت کے نتیجے میں 50 اسکولز،میڈیا ہاؤسز جن میں الجزیرہ کا دفتر بھی شامل ہے،حماس کے عسکری ٹھکانے،فلسطینیوں کے سینکڑوں مکانات اور بلند و بالا عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔کوئی اپنے ٹوٹے ہوئے مکان کو دیکھ کر رو رہا ہے۔کوئی زخمیوں کو اٹھا کر ہسپتال کی طرف بھاگ رہا ہے۔

کوئی ملبے کے نیچے دبے معصوم بچوں اور عورتوں کی لاشوں کو نکال رہا ہے اور کوئی اپنوں کی لاشوں کو اٹھا کر اللہ کے دربار میں فریاد کر رہا ہے۔ایسے بھیانک مناظر دیکھنے کو ملیں،اللہ ہی جانتا ہے کہ ان فلسطینیوں پر کیا بیتی ہو گی؟نہ ان کو سر چھپانے کیلئے چھت میسر ہے،نہ پیٹ بھرنے کیلئے کھانا موجود ہے اور نہ زخمیوں کیلئے دوا دارو کا کوئی معقول انتظام۔

صدر فلسطین محمود عباس کے مطابق اسرائیل نے گھروں اور آبادیوں پر دانستہ حملہ کئے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی ڈھٹائی ملاحظہ کیجئے جس نے کہا کہ وہ صرف اپنے دشمن اور عسکری اہداف ہی کو نشانہ بنا رہا ہے اور عام شہریوں کو نقصان سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔فلسطینیوں پر اسرائیلی ظلم و ستم کی تاریخ شاہد ہے کہ وہ پچھلے 72 سالوں سے فلسطینیوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیل رہا ہے۔

یہ فلسطینی فاتح خیبر حضرت علی رضی اللہ عنہ،جنت کے نوجوانوں کے سردار حضرت حسنین علیہ السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی اولاد،اللہ پر یقین رکھنے والی قوم قبلہ اول اور ارض مقدس کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ان کا عزم و حوصلہ اور صبر و استقلال ہی ہے کہ یہ پتھروں سے صیہونی دہشت گرد فوج کے سامنے سینہ سپر ہیں۔یہ وہ قوم ہے جس کی مائیں اپنے بچوں کو میٹھی لوریاں اور فلمی نغمے نہیں سناتیں بلکہ طائف،احد،خیبر اور کربلا کی نظمیں سناتی ہیں۔

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت،صلاح الدین ایوبی کی شجاعت،اور محمد بن قاسم کی دلیری کے قصے بتاتی ہیں۔
ساری دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل فلسطین پر غاصبانہ قبضہ کرکے بیٹھا ہوا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ ہٹلر کی فوجی کارروائی کے بعد بچے کچھے اسرائیلیوں نے برطانیہ کی طرف ہجرت کی تھی۔برطانیہ نے اپنے ملک میں پناہ دیکر ان کو بہت ساری سہولتوں سے نوازا اور اسی دوران انہوں نے فلسطین میں مستقبل قیام کا ایک ناپاک منصوبہ بنایا۔

برطانیہ حکومت نے بھی اپنے ملک کو ان کے چنگل سے بچانے کیلئے اس منصوبہ کو خوب سراہا اور یہودیوں کی پشت پناہی کرتے ہوئے ان کیلئے قومی وطن کے قیام پر مشتمل ایک اعلامیہ جاری کیا اور ایک سال کے بعد برطانیہ نے فلسطینی خطہ پر قبضہ کرتے ہوئے زمین کا ایک حصہ اسرائیلیوں کے حوالے کر دیا۔بعد ازاں یہودیوں کے لئے فلسطین کی جانب ہجرت کے دروازے کھول دیئے گئے۔

جبکہ معصوم فلسطینیوں نے بھی سوچے سمجھے آنے والے مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔ان کو کاروبار پر لگایا،انہیں زمینیں دی،ان کی غریب لڑکیوں سے بیاہ کیا یہاں تک کہ اپنے گھروں بلکہ دلوں میں جگہ دی۔انصار مدینہ نے جو کچھ مہاجرین کیلئے کیا فلسطینیوں نے اسرائیلیوں کیلئے وہ سب کیا۔ادھر برطانیہ نے یہودیوں کو فلسطینی زمین پر جائز قبضہ دلانے کیلئے ایک اور قدم آگے بڑھاتے ہوئے اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔


پھر کیا تھا 1947ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرار داد منظور کی جس میں فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ایک عربی ملک اور دوسرا یہودی ملک۔یہودی کیلئے فلسطینی زمین کا 45 فیصد حصہ اور عرب کیلئے 54 فیصد حصہ،جبکہ القدس کیلئے ایک فیصدی حصہ مقرر کیا گیا۔پھر 1948ء کو صیہونیوں نے ایک یہودی ریاست ”اسرائیل“ کا اعلان کر دیا جو مسلم ممالک کے سینے میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہے۔

یہی نہیں بلکہ 1967ء کو عرب اور اسرائیل جنگ کے بعد اصل باشندوں کو بے دخل کرکے فلسطین کے 77 فیصد حصہ پر قبضہ جما کر اسرائیل اپنی جڑیں اور مضبوط کر چکا ہے۔تاہم آج کوئی فلسطینیوں کی مدد کیلئے کوئی تیار نہیں،کوئی ان کے حق میں آواز اٹھانے والا نہیں۔ یہاں تک کہ اپنے ہی ملک سے نکالے گئے فلسطینی دربدر ہیں۔اقوام متحدہ سمیت تمام دنیا پر سکوت طاری ہے۔

اقوام متحدہ نے مظلوم فلسطینیوں کیلئے بہت ساری قرار دادیں منظور تو ہوئیں،لیکن صیہونی ریاست کے مسلسل انکار اور اقوام عالم کی غیر سنجیدگی کی بناء پر کسی بھی قرار داد عملی طور پر نافذ نہیں ہو سکی۔
افسوس ہے مسلم امہ کی بے بسی پر ان کے نفاق کی بدولت قبلہ اول کی آزادی اور فلسطینیوں کو ان کے حقوق دلانے کیلئے کچھ نہ ہو سکا۔حالانکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ طاقت بخشی ہے اور تیل کی دولت سمیت سے بے شمار قدرتی وسائل سے مالا مال مسلم ریاستیں اس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہیں۔

مسلم تنظیموں او آئی سی،عرب لیگ کا بھی خاطر خواہ فائدہ آج تک نہیں ہوا۔جب بھی فلسطینیوں پر حملہ ہوتا ہے مسلم حکمران اقوام متحدہ اور مغربی ممالک کے بیانات کا انتظار کرتے ہیں۔اور وہ اسرائیل کو ایک جائز سلطنت کے طور پر ماننے کیلئے تیار ہو گئے۔وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ محمد بن قاسم اور صلاح الدین ایوبیکی تابندہ تاریخ کو فراموش کر چکے ہیں۔

مسئلہ یہ نہیں کہ اسرائیل کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں اور وہ اپنی فوج کی طاقت سے مسجد اقصیٰ پر قبضہ کر چکا ہے اور 57 مسلم ممالک مل کر بھی ایک یہودی مملکت اسرائیل کے ہاتھوں بیت المقدس کو آزاد نہیں کرا سکے اور اہل فلسطین کو ان کے جائز حقوق نہیں دلا سکے۔آج تقریباً ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان اور 57 مسلم ممالک کے حکمران ہاتھ پر ہاتھ دھرے اس بات کے انتظار میں ہیں کہ ابابیلیں آکر نوے لاکھ یہودیوں کا خاتمہ کریں گی؟۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Palestine Ke Shohda Ko Salam is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 09 June 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.