وزیراعظم صاحب جنرل حمید گل کی بیٹی کو انصاف دلائیں

Mian Muhammad Nadeem میاں محمد ندیم بدھ اگست

Wazir e Azam Sahab General Hameed Gul Ki beti Ko Insaaf Dilain
افواج پاکستان میں جو شہرت جنرل حمید گل کے حصے میں آئی ہے وہ بہت کم لوگوں کو ملتی ہے اور اسکی وجہ ”جہاد“تھا جنرل حمید گل نظریہ پاکستان اور پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام کے بڑے حامی تھے وہ نظریہ پاکستان کے دفاع میں سیسہ پلائی دیوار تھے یہ ہی وہ وجہ تھی کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دفاع کے سلسلے میں ہرحد کو عبور کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔

ان محالفین کو ان کی زندگی میں توجرات نہ ہوئی کہ ان کی ذات پر انگلی اٹھاتے مگر ان کے اس جہان فانی سے رخصت ہونے کے بعد ان کے خاندان کو خصوصا ان کی صاحبزادی محترمہ عظمی گل کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا جنرل (ر)حمید گل کے ان نام نہاد نظریاتی کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے جبکہ ان سے محبت کرنے والوں میں22کروڑ پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ کئی ملین افغان اور جرمن بھی شامل ہیں جی ہاں جرمن پاکستان میں بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ دیوار برلن گرانے میں جنرل صاحب نے کلیدی کردار اداکیا تھا ان کے گھر ڈرائنگ روم میں دیوار پتھر کا ایک ٹکڑا پڑا رہتا تھا جس پر جرمن شہریوں اور حکومت کے جانب سے جنرل حمید گل کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا تھا”جنرل گل صاحب! دیواربرلن کو ہم نے نہیں آپ نے گرایا ہے اس کا ٹکڑا آپ کی خدمت میں جرمن شہریوں کی جانب سے“ اس پتھر کا تعلق دیوار برلن سے تھا جرمنی کو جب روس نے شکست سے دوچار کیا تو جرمنی دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔

(جاری ہے)

مشرقی جرمنی میں روس کا کمیونزم تھا جبکہ مغربی جرمنی میں جمہوری نظام اور آزادی تھی، ساتھ خوشحالی بھی تھی برلن شہر کے وسط میں دیوار کر دی گئی یوں رشتوں کو کاٹ دیا گیا تھا خاندان بچھڑگئے کتنے ہی لوگ اس دیوار کو پار کرنے کی کوشش ہوئے مارے گئے جب افغانستان میں روس کو شکست ہوئی اور 14ٹکڑے آزاد ملکوں کی صورت میں اس سے الگ ہوئے تو مشرقی یورپ کے ممالک کمیونزم سے بھی آزاد ہوگئے۔

اس موقع پر جرمنی کی دیوار کو توڑ دیا گیا برلن کی دیوار کے ٹکڑے ہو گئے یہ ٹکڑے عجائب گھروں میں محفوظ ہوئے اور ایک ٹکڑا جنرل حمید گل کو بھیجا گیامیرا جنرل صاحب سے محبت اور عقیدت کا ایک طویل رشتہ رہا ‘پاک افغان دفاع کونسل ہویا تحریک آزادی کشمیریا پھر نظریہ پاکستان ٹرسٹ جب بھی لاہور تشریف لاتے شرف ملاقات بخشتے یہ ان کی محبت اور شفقت تھی اپنی 22سالہ صحافتی زندگی میں ان جیسے شفیق انسان زندگی میں کم ہی دیکھے ہیں۔


ان کی زندگی میں جو بھیگی بلی بنے رہتے تھے اس جہان فانی سے رخصت ہونے کے بعد انہوں نے پرپرزے نکالنے شروع کردیئے ”چھاج تو چھاج چھلناں بھی بولنے لگیں“ 1999 میں حکومت پنجاب نے راولپنڈی اسلام آباد میں اربنٹرانسپورٹ چلانے کا منصوبہ بنایا تو ان کی صاحبزادی عظمی گل کی کمپنی ”واران ٹورازم“ نے بھی ضابطے کے تحت درخواست دی اور یوں حکومت پنجاب اور ”واران ٹورازم“کے درمیان روالپنڈی سے اسلام آباد تک 150 بسیں چلانے کا معاہدہ طے پاگیا ۔

اکتوبر1999میں نوازشریف حکومت کا خاتمہ ہوگیا حکومت تبدیل ہونے پر، مختلف مراحل اور مشکلات سے گزر کر جون 2000 میں باقاعدہ بس سروس کا آغاز ہوا یہ باتیں محترمہ عظمی گل نے اپریل میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون ”میری کہانی میری زبانی “میں لکھی ہیں صدر مشرف نے جنرل حمید گل کو تابع کرنے کے لئے بہت طریقہ اختیار کیے مگر ناکام ہوئے جن میں سے ایک” واران سروس“ کا بند کرانا بھی تھا حالانکہ جنرل حمید گل کا اس کمپنی سے کوئی تعلق تھا نہ وہ وہ کسی قسم کی بیفیشری تھے وجہ صرف ایک تھی کہ ”واران سروس“جنرل صاحب کی صاحبزادی کی ملکیت تھی۔

جنرل حمید گل کو بے نظیر بھٹو ‘نوازشریف اور پرویزمشرف نے عہدے آفر کیئے مگر وہ چٹان کی طرح اپنے نظریات پر قائم رہے وہ کہا کرتے تھے ”میں ایک آزاد شخص ہوں جبکہ عہدے غلامی کی زنجیر ہوتے ہیں“ انہوں نے اپنی زندگی میں کوئی عہدہ قبول کیا اور نہ ہی اپنی آزادیوں پر کمپرمائز کیا‘جنرل صاحب سے مختلف ٹیلی ویژن پروگراموں میں ”واران سروس “کے بارے میں سوالات کیئے جاتے رہے مگر ان کا جواب بڑا سیدھا ہوتا تھا کہ میرا اس کمپنی سے کوئی تعلق نہیں مگر میرے بچوں تو پاکستان دیگر شہریوں کی طرح کاروبار کرنے کا حق حاصل ہے۔

پرویزمشرف کے دور میں ”واران سروس “ انتظامی کاروائیوں کا نشانہ بنانے کا مقصد تھا جنرل حمید گل پر دباؤ ڈالنا تاکہ وہ جنرل مشرف سے جاکر ملیں مگر انہوں نے ایک بار بھی شکوہ نہیں کیا اور نہ ہی اس سلسلہ میں کبھی پرویزمشرف سے سفارش کی عظمی گل بتاتی ہیں کہ مختلف مشکلات سے دوچار ہوکر سروس فروری2005 میں بند ہو گئی اور واران انتظامیہ نے حکومت پنجاب پر معاہدے کی خلاف ورزیوں کے خلاف ہرجانے کا دعوی کر دیا۔

9 سال کیس چلنے کے بعد مارچ 2014 میں عدالت نے فیصلہ سنایا جس میں تقریباًدو ارب روپے ”واران“ کے حق میں ڈگری کیا2006 میں ضلعی انتظامیہ نے بھی واران کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا عدالت نے واران کی طرف سے دائر کردہ مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے، ضلعی حکومت کی طرف سے دائر مقدمہ خارج کردیا۔ضلعی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی جس کے جواب میں عظمی گل کی کمپنی نے بھی اپیل دائر کی کہ مقدمے کی زر ڈگری میں اضافہ کیا جائے ان کا کہنا ہے کہ ہم نے کھڑی بسوں کا اپنی آبائی جائیداد اور قیمتی اثاثے بیچ کر بینکوں کا دسمبر2005 میں ہی قرض اتار قومی ہیرو اور غیور انسان کی غیور بیٹی نے کسی حکومت سے کوئی مدد مانگی نہ ہی بینکوں سے قرض ادائیگی میں کوئی رعایت نہ لی گئی بلکہ لیزنگ اداروں کو وقت سے پہلے ادائیگی کی مد میں جرمانہ بھی ادا کیا۔

عظمی گل کہتی ہیں یہ سب جنرل صاحب کی خواہش پر کیا گیا کہ کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے اور ان کے خاندان پر کوئی انگلی اٹھانے کی جرات کرسکے حالانکہ قانونی طور پر ”واران کمپنی“ قرضوں کی ادائیگی پر،ڈیفالٹ کرنے پر حق بجانب تھی عظمی گل بتاتی ہیں کہ جنرل صاحب نے قرض اتارنے کے لیے اپنا گھر تک بیچنے کی پیش کش کی تھی جس کی ضرورت نہ پڑی وہ کہتی ہیں کہ جنرل صاحب جانتے تھے کہ ہمارا کاروبار ان کے حق پر، اصولی موقف اختیار کرنے کے باعث بند ہوا۔

حکومت پنجاب نے جب واران کے خلاف کیس دائر کیا تو ڈیپو میں موجود تمام اثاثہ جات پر حکم امتناعی حاصل کرلیا2005 سے آج تک کھڑی بسوں کو این اوسی نہیں دیاگیا کہ خریدار بسوں کو کہیں اور چلا نہ سکیں اور نہ ہی نیلامی کی اجازت دی جارہی ہے کیا زندہ قومیں اپنے ہیروزکو سروں کو تاج بنا کر رکھتی ہیں ان کے بچوں کو اس طرح عدالتوں میں گھسیٹتی ہیں اور نہ ہی پولیس گردی کی جاتی ہے حکومت پنجاب کے اس اقدام نے پوری قوم کے سرشرم سے جھکا دیئے ہیں ۔

اسی تحریک انصاف اور عمران خان کو جنرل حمید گل نے انگلی پکڑکر سیاست کے خار زاروں میں چلنا سکھایا مگر حکومت نے اس کا بھی لحاظ نہیں کیا سیاسی اختلافات ایک گھر میں رہنے والے خاندان کے افراد میں بھی ہوسکتے ہیں مگر انہیں دشمنی نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ اختلاف رائے ہی جمہوریت کا حسن ہے جنرل حمید گل کسی عہدے کی چاہت رکھتے تھے نہ جاہ وجلال کی انہوں نے بھرپور زندگی گزاری تھی کور کی کمانڈ سے لے کر آئی ایس ایس کے سربراہ کے طاقتور ترین عہدے گزارنے والے کے لیے وزارت ‘مشاورت یا سفارت کیا معنی رکھتی ہے انہیں پاکستان کی عوام سے محبت تھی وہ ”پاورپالٹیکس“کے کھیل کو سمجھتے تھے جو پاکستان میں چل رہی تھی انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو پاور پالٹیکس سے دور رہنے کا کہا مگر وہ نہیں مانے جس پر جنرل صاحب نے اپنی راہیں جدا کرلیں ۔

عظمی گل بتاتی ہیں کہ اپیل کا یہ حال ہے کہ 6 سال سے ہائی کورٹ میں باقاعدہ پانچ یا چھ دفعہ ہر سال تاریخ لگتی ہے مگر آج تک ایک دفعہ بھی سنی نہیں گئی روالپنڈی کی ضلعی حکومت کیس کو آگے چلنے ہی نہیں دے رہی، ہر مرتبہ تاریخ لے لی جاتی ہے انہوں نے بتایا کہ دو دفعہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو کیس لاہور تک ٹرانسفر کرنے کے لیے درخواست دی مگر اس یقین دہانی کے باوجود کہ کیس کا جلد فیصلہ دیا جائے گا مگرکچھ نہیں ہوا۔

ایک دفعہ چیف جسٹس آف پاکستان کو بھی درخواست دی گئی انہوں نے ایک ماہ میں فیصلہ دینے کا آرڈر دیا مگر نتیجہ پھر بھی کچھ نہیں انہوں نے بتایا کہ آج تک سرکاری وکیل پیش ہوکر کسی نہ کسی بہانے اگلی تاریخ ڈلوا لیتے ہیں اور معزز جج صاحبان سرکاری وکیل کی درخواست کو رد نہ کرتے ہوئے یقین دہانی کراتے ہیں کہ اگلی تاریخ پر ضرور کیس سنیں گے۔2018میں چوہڑہڑپال روالپنڈی میں واقع ”واران“کے ڈیپوپر چھٹی کے دن صبح 5 بجے انتظامیہ نے غیر قانونی طور پر جبری قبضے میں لے لیا اور وہاں بھاری پولیس نفری بٹھا دی عظمی گل نے بتایا کہ بہت بھاگ دوڑ کی، کوئی حل نہ نکلا ہمارے پاس عدالت کا حکم امتناعی موجود ہے جبکہ کیس عدالت میں زیرسماعت ہے اس باوجو د ضلعی انتظامیہ نے قانون توڑتے ہوئے ہمیں وہاں سے بیدخل کردیا ان کا کہنا ہے کہ ہمیں کوئی کوئی نوٹس بجھوایا گیا نہ ہی کوئی پیشگی اطلاع دی گئی اور قانونی تقاضے پورے کیئے بغیر پولیس کی مدد سے روالپنڈی انتظامیہ نے ”واران سروس“کے ڈیپو“پر قبضہ کرلیا۔

رواں سال کے آغازمیں پہلے وہاں سے پولیس ہٹا لی گئی ہے اور وہاں موجود بسوں کے پرزے چوری کرلیئے گئے پولیس میں درخواست دینے پر ہراساں کرنے کے لیے ہمارے دفتر کی خاتون ورکر کے خلاف ہی ایف آئی آر میں درخت چوری کروانے کا الزام لگا دیا گیا عظمی گل نے بتایا کہ جب چوہڑ ڈیپو پر غیر قانونی قبضہ ہوا توواران انتظامیہ نے حفظ ماتقدم کے پیش نظر صدر ڈیپو کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔

عدالت نے واران کے حق میں حکمِ امتناعی جاری کردیا جس میں معزز جج صاحب نے تا حکم ثانی ڈیپو سے ہمیں بے دخل کرنے کے لیے انتظامیہ کو منع کردیا اس کے باوجود19اپریل کو بغیر کسی نوٹس اور حکم نامے کے اچانک ایک سو سے زائد مسلح پولیس اور سیکرٹری آر ٹی اے‘اے ایس پی کینٹ، ایس ایچ اوکینٹ اور دیگر حکام نے مل کر ایسے وقت میں جب ہم لوگ لاک ڈاؤن کے باعث دفتر میں موجود نہیں تھے دھاوا بول دیاگیٹ توڑ کر، دیواریں پھلانگ کرزبردستی اسلحے کی نوک پرڈیپو پر قبضہ کر لیا۔

عظمی گل نے بتایا کہ ہمارے علم میں یہ بات آتے ہی میں اور میرے شوہر ونگ کمانڈر یوسف گل وہاں پہنچے وہاں موجود پولیس کی ہدایت پر مجھے کمرے میں بند کر دیا گیا مجھے دھکے مارے گئے، گالیاں دیں گئیں اور تشدد کر کے بعد ازاں ڈیپو سے زبردستی باہر نکال دیا گیا ان کا کہنا تھا کہ ہمارا کروڑوں روپے کا سامان، ورکشاپ کے انتہائی قیمتی پرزہ جات اور ٹول، اسپیشل سروس ٹول، فرنیچر، فائلیں، قرآن مجید، دینی کتب اور دیگر قیمتی سامان ٹرکوں میں پھینک کر نامعلوم مقام پر پھینک دیا گیابغیر کسی فہرست کے، بغیر کسی تفصیل کے ہماری موجودگی کے بغیر پتا نہیں کہاں لے جایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے کسی قانون کی پروا نہ کرتے ہوئے اخلاقیات کی دھجیاں اڑا دیں چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا، ہمارے عملے کی خواتین اور مجھ کو دھکے دیے، تشدد کیا، بدزبانی کی اورگالم گلوچ کیا گیا روالپنڈی انتظامیہ کے حکام نے عوام کو تحفظ دینے کے بجائے، ہر قسم کے قانون سے اپنے آپ کو بالاتر سمجھتے ہوئے، خواتین کے سروں سے دوپٹے کھینچے، گندی گالیاں دیں ان کا کہنا تھا کہ کروڑوں لوگوں کے ہیرو میرے باپ کا جرنیل ہونا گالی کے طریقے سے بولا گیا، تو عام لوگ کدھر جائیں گے؟ ہم کہاں جائیں؟ میرے والد جو ایک قومی ہیرو کا درجہ رکھتے ہیں، ان کی بیٹی سے ایسا سلوک آخر ہم نے کیا کیا ہے؟ہم کوئی دہشت گرد ہیں؟ یا جرائم پیشہ؟ اس ملک سے سب لوگ پیسہ باہر لے کر جاتے ہیں، وہاں کاروبار کرتے ہیں، جائیدادیں خریدتے ہیں، وہاں کے بینکوں میں ڈالررکھتے ہیں مگر ہم نے تو اپنے ہی ملک میں عوامی بھلائی کے منصوبے میں سرمایہ کاری کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ بینکوں سے قرضے لیے تو جس مقصد کے لئے وہ بھی پورے کیے اور قرضے کی ایک ایک پائی بھی ادا کر دی، باوجود کاروبار میں نقصان کے کاروبار بند ہونے پر طریقہ کار کے مطابق عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا9 سال عدالتوں میں دھکے کھائے مگر اف تک نہ کی! فیصلہ ہمارے حق میں آنے کے باوجود ہم 6 سال سے خوار ہورہے ہیں ان حالات میں بھی جس طرح سے بھی ممکن ہوا حکومت پنجاب کو والدین کے نام پر اس مارچ میں چلڈرن ہسپتال بنا کردیا۔

انہوں نے بتایا کہ کورونا کے لئے بھی وارڈ تیار کر کے دیا اپنے ملک اور عوام کے لئے جو کچھ ممکن ہوا کیا ہے اور کر رہے ہیں جہاں جہاں اپنے وطن کے لئے کھڑا ہونا ہے، ہر مشن کے لئے حاضر رہے ہیں کیا یہ ہمارا جرم ہے جس کے لیے آج ہم سزاوار ٹھہرے ہیں؟ ۔جناب وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار صاحب زندہ قومیں اپنے ہیروزکے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرتیں بلکہ انہیں اپنے سروں کا تاج بناکر رکھتی ہیں جنرل حمید گل 22کروڑ پاکستانیوں کے ہیرو ہیں اور ان کے بچوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے قوم کا دل چھلنی ہوکررہ گیا ہے آپ سے اپیل ہے کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کروائیں نہ صرف حکومت کی جانب سے محترمہ عظمی گل سے معذرت کی جانی چاہیے بلکہ ذمہ دران کے خلاف سخت تادیبی کاروائی بھی ہونی چاہیے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Wazir e Azam Sahab General Hameed Gul Ki beti Ko Insaaf Dilain is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 19 August 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.