پاکستان کا بیٹا ہوں ‘اس مٹی کا ایک ایک ذرہ جان سے پیارا ہے‘ نواز شریف

سابق آمر پرویز مشرف کیخلاف غداری کا مقدمہ بنانے پر وزارت عظمیٰ اور پارٹی صدارت سے ہٹا کر جھوٹے‘ بے بنیاد اور من گھڑت کیس بنا ئے گئے ‘ میں نے خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کی باگ ڈور منتخب عوامی نمائندوں کے ہاتھ میں دینے کی کوشش کی اور اپناگھر ٹھیک کرنے کی بات کی‘ سابق صدر آصف علی زرداری نے مشرف کی2007ء کے غیر آئینی اقدامات کی پارلیمنٹ کے ذریعے توثیق کرنے اور مصلحت سے کام لینے کا مشورہ دیا ‘میں نے انکار کردیا‘ مجھے کہا گیا کہ بھاری پتھر کو اٹھانے کا ارادہ ترک کرو ‘ مشرف کا تو کچھ نہیں بگڑے کا لیکن آپ کیلئے مشکلات پیدا ہوجائیں گی ‘میں نے مشورہ نما دھمکیوں کو مسترد کردیا‘ ایک انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ نے مجھے وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونے کا پیغام بھجوایا اور کہا استعفیٰ نہیں دیتے تو طویل رخصت پر چلے جائو ‘ ڈکٹیٹر کو عدالتی کٹہرے میں لانا آسان کام نہیں ‘ قانون و انصاف کے سارے ہتھیار صرف اہل سیاست کیلئے بنے ہیں‘ ہائی جیکر ‘ سسلین مافیا ‘ گاڈ فادر، وطن دشمن یا غدار کے القابات سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا‘ مجھے کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں‘ ایٹمی دھماکے نہ کرنے کے بدلے 5ارب ڈالر کی پیشکش ہوئی جسے مسترد کیا‘ احتساب عدالت میں استغاثہ میرے خلاف کسی قسم کا کوئی ثبوت پیش کرسکا نہ کوئی الزام ثابت ہوا مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم نواز شریف کی پنجاب ہائوس میں ہنگامی پریس کانفرنس

بدھ مئی 18:05

پاکستان کا بیٹا ہوں ‘اس مٹی کا ایک ایک ذرہ جان سے پیارا ہے‘ نواز شریف
ِاسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ سابق آمر پرویز مشرف کیخلاف غداری کا مقدمہ بنانے پر وزارت عظمیٰ اور پارٹی صدارت سے ہٹا کر میرے خلاف جھوٹے‘ بے بنیاد اور من گھڑت کیس بنا دیئے گئے ہیں‘ میں نے خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کی باگ ڈور منتخب عوامی نمائندوں کے ہاتھ میں دینے کی کوشش کی اور اپناگھر ٹھیک کرنے کی بات کی‘ سابق صدر آصف علی زرداری نے مجھے پرویز مشرف کی2007ء کے غیر آئینی اقدامات کی پارلیمنٹ کے ذریعے توثیق کرنے اور مصلحت سے کام لینے کا مشورہ دیا لیکن میں نے انکار کردیا‘ مجھے کہا گیا کہ بھاری پتھر کو اٹھانے کا ارادہ ترک کرو ‘ مشرف کا تو کچھ نہیں بگڑے کا لیکن آپ کے لئے مشکلات پیدا ہوجائیں گی لیکن میں نے مشورہ نما دھمکیوں کو مسترد کردیا‘ ایک انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ نے مجھے وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونے کا پیغام بھجوایا اور کہا گیا کہ اگر استعفیٰ نہیں دیتے تو طویل رخصت پر چلے جائو ‘ ڈکٹیٹر کو عدالتی کٹہرے میں لانا آسان کام نہیں ‘ قانون و انصاف کے سارے ہتھیار صرف اہل سیاست کے لئے بنے ہیں‘ ہائی جیکر ‘ سسلین مافیا ‘ گاڈ فادر، وطن دشمن یا غدار کے القابات سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا‘ میں پاکستان کا بیٹا ہوں اور اس مٹی کا ایک ایک ذرہ مجھے اپنی جان سے بھی پیارا ہے‘ مجھے کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں‘ ایٹمی دھماکے نہ کرنے کے بدلے 5ارب ڈالر کی پیشکش ہوئی جسے مسترد کیا‘ احتساب عدالت میں استغاثہ میرے خلاف کسی قسم کا کوئی ثبوت پیش کرسکا نہ کوئی الزام ثابت ہوا۔

(جاری ہے)

وہ بدھ کو یہاں پنجاب ہائوس میں ہنگامی پریس کانفرنس کررہے تھے۔ اس موقع پر سینیٹر مشاہد حسین سید‘ سینیٹر پرویز رشید‘ مریم نواز‘ سینیٹرآصف کرمانی سمیت دیگر مسلم لیگی ارکان پارلیمنٹ موجود تھے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ میں پانامہ پیپرز کی بنیاد پر بنائے گئے کھوکھلے ریفرنسز کی لمبی داستان کو ایک طرف رکھتے ہوئے مختصراً یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ مجھے ان مقدمات میں الجھانے کا حقیقی پس منظر کیا ہی ان مقدموں‘ ان ریفرنسز‘ میری نااہلی اور پارٹی صدارت سے فراغت کے اسباب و محرکات کو میں ہی نہیں پاکستانی قوم بھی اچھی طرح جانتی ہے اور مقدمات کا کھیل کھیلنے والے بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ میرے نامہ اعمال کے اصل جرائم کیا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 12اکتوبر 1999ء کو پرویز مشرف نامی جرنیل نے آئین سے بغاوت کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ جما لیا۔ ہر دور کے آمروں کو خوش آمدید کہنے والے منصفوںنے آگے بڑھ کر اس کا استقبال کیا اور اس کے ہاتھ پر بیت کرلی۔ 8سال بعد 3نومبر 2007 کو اس نے ایک بار پھر آئین توڑا‘ ایمرجنسی کے نام پر ایک بار پھر مارشل لاء نافذ کیا اور چیف جسٹس آف پاکستان سمیت اعلیٰ عدلیہ کے ساٹھ کے لگ بھگ جج صاحبان کو اپنے گھروں میں قید کردیا۔

دنیا کے کسی بھی ملک میں اس طرح کی شرمناک واردات کی نظیر شاید ہی ملتی ہو۔ نواز شریف نے کہا کہ ایک جمہوری جماعت کی حیثیت سے مسلم لیگ (ن) نے مشرف کے غیر آئینی اقدامات کے بارے میں ایک واضح موقف اپنایا۔ 2013 کی انتخابی مہم میں اپنا یہ موقف عوام کے سامنے رکھتے ہوئے ہم نے واضح طور پر کہا کہ حکومت قائم ہونے کی صورت یں آئین پاکستان کے آرٹیکل 6 کی روشنی میں مشرف پر ہائی ٹریزن کا مقدمہ قائم کیا جائے گا۔

عوام نے ہمارے موقف کی تائید کی۔ حکومت قائم ہونے کے بعد توانائی کے بحران اور دہشت گردی پر قابو پانے کی اولین ترجیحات کے ساتھ میری حکومت نے پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ قائم کرنے کے لئے وکلاء سے مشاورت کا آغاز کیا۔ مجھے مشورہ دیا گیا کہ اس بھاری پتھر کو اٹھانے کا ارادہ ترک کردوں۔ مجھے ایسے پیغامات بھی ملے کہ مشرف پر مقدمہ قائم کرنے سے اس کا تو شاید کچھ نہ بگڑے مگر میرے لئے بہت مشکلات پیدا ہوجائیں گی۔

ان مشورہ نما دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے میں اپنے ارادے پر قائم رہا۔ نواز شریف نے کہا کہ اس سے بھی پہلے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں آصف علی زرداری ایک اہم قومی سیاسی رہنما کے ہمراہ میرے پاس آئے اور کہا کہ ہمیں پارلیمنٹ کے ذریعے مشرف کے دوسرے مارشل لاء یعنی نومبر 2007 کے اقدام کی توثیق کردینی چاہئے۔ زرداری صاحب نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی کہ مصلحت کا تقاضا یہی ہے لیکن میں نے کہا کہ ہم 65 برس سے ایسی مصلحتوں سے کام لے رہے ہیں۔

انہی مصلحتوں نے جمہوریت کو اس قدر کمزور کردیا ہے کہ وہ سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ آئین سے غداری کرنے والے ڈکٹیٹر کو Indeminity دینے یعنی اس کے غیر آئینی اقدام کی پارلیمانی توثیق کرنے کے بجائے اسے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ اس سے پوچھا جائے کہ اس نے اپنا حلف کیوں توڑا اور مسلح افواج کی طاقت کو اپنے ذاتی مقاصد کے لئے کیں استعمال کیا ۔

2013ء کے اواخر میں غداری مقدمہ قائم کرنے کا عمل شروع ہوتے ہی مجھے اندازہ ہوگیا کہ آئین اپنی جگہ جمہوریت کے تقاضے اپنی جگہ‘ پارلیمنٹ کی بالادستی اپنی جگہ‘ قانون کی حکمرانی اپنی جگہ اور پاکستان کے عوام کا منڈیٹ اپنی جگہ لیکن ایک ڈکٹیٹر کو عدالت کے کٹہرے میں لانا کوئی آسان کام نہیں۔ شاید قانون و انصاف کے سارے ہتھیار صرف اہل سیاست کے لئے بنے ہیں۔

جابروں کا سامنا ہوتے ہی ان ہتھیاروں کی دھار کند ہوجاتی ہے اور فولاد بھی موم بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو وہ دن بھی یاد ہوگا جب جنوری 2014 میں ہائی ٹریزن کا ملزم گاڑیوں کے جلوس میں عدالت پیشی کے لئے اپنے محل سے نکلا اور اچانک کسی طے شدہ پلان کے تحت وہ راولپنڈی کے آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پہنچ گیا جہاں وہ کسی پراسرار بیماری کا بہانہ کرکے ہفتوں قانون اور عدالت کی دسترس سے دور بیٹھا رہا۔

سیاستدانوں اور وزیراعظم کے منصب پر بیٹھنے والوں کے ساتھ جو کچھ ہوتا رہا اور آج بھی ہورہا ہے اس سے آپ بخوبی واقف ہیں لیکن کوئی قانون نہ تو غداری کے مرتکب ڈکٹیٹر کو ہتھکڑی ڈال سکا نہ اسے ایک گھنٹے کے لئے جیل بھیج سکا۔ اس کی نوبت آئی بھی تو اس کے عالی شان محل نما فارم ہائوس کو سب جیل کا نام دے دیا گیا۔ نواز شریف نے کہا کہ میں اس فورم پر اس کھلی عدالت کے سامنے پوری تفصیل بتانے سے قاصر ہوں کہ مشرف پر مقدمہ قائم کرنے اور اس کارروائی کو آگے بڑھانے پر قائم رہنے کی وجہ سے مجھے کس کس طرح کے دبائو کا نشانہ بننا پرا۔

اس کے باوجود جب میرے عزم میں کوئی کمزوری نہ آئی تو 2014 کے وسط میں انتخابات میں نام نہاد دھاندلی کا طوفان پوری شدت سے اٹھ کھڑا ہوا۔ مصدقہ رپورٹس کے مطابق اس طوفان کے پیچھے بھی یہی محرک چھپا تھا کہ مشرف کے معاملے میں مجھے دبائو میں لایا جائے۔ میں دھرنوں سے صرف دو ماہ قبل مارچ 2014 میں اپنے دو رفقاء کے ہمراہ بنی گالہ میں عمران خان سے ملا تھا یہ ایک خوش گوار ملاقات تھی۔

انہوں نے دھاندلی کے موضوع پر کوئی بات کی نہ ہی کسی احتجاجی تحریک کا اشارہ دیا۔ لیکن ادھر پرویز مشرف کے مقدمے میں تیزی آئی اور ادھر اچانک لندن میں طاہر القادری اور عمران خان کی ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کے بعد بظاہر دھاندلی کو موضوع بنا کر اسلام آباد میں دھرنوں کا فیصلہ کرلیا گیا۔ 14 اگست 2014 سے شروع ہونے والے یہ دھرنے چار ماہ جاری رہے۔

ان دھرنوں کے دوران جو جو کچھ ہوا وہ سب اس قوم کے سامنے ہے۔ طاہر القادری اور عمران خان کا مشترکہ مطالبہ صرف یہ تھا کہ وزیراعظم مستعفی ہوجائے۔ ان دھرنوں کا منصوبہ کیسے بنا طاہر القادری اور عمران خان کیسے یکجا ہوئے کس نے ان کے منہ میں وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ ڈالا اور کون چار ماہ تک مسلسل ان کی حوصلہ افزائی کرتا رہا یہ باتیں اب کوئی ڈھکا چھپا راز نہیں ہیں۔

عمران خان خود کھلے عام یہ اعلان کرتے رہے کہ بس ایمپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے۔ کون تھا وہ ایمپائر وہ جو کوئی بھی تھا اس کی مکمل پشت پناہی ان دھرنوںکو حاصل تھی۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ ان دھرنوں کے دوران جو کچھ ہوا اس کی پوری تفصیلات قوم کے سامنے ہیں۔ پارلیمنٹ ہائوس‘ پریذیڈنٹ ہائوس‘ وزیراعظم ہائوس‘ پی ٹی وی غرض کچھ بھی فسادی عناصر سے محفوظ نہ تھا۔

اس تماشے نے ملک و قوم کو شدید نقصان پہنچایا لیکن اصل مقصد ایک ہی تھا کہ مجھے وزیراعظم ہائوس سے نکال دیا جائے تاکہ مشرف کے خلاف مقدمے کی کارروائی آگے نہ بڑھ سکے۔ منصوبہ سازوں کا خیال تھا کہ اس شدید اور طویل یلغار سے میرے اعصاب جواب دے جائیں گے اور میں خود کو بچانے کے لئے ہر طرح کے کمپرومائز پر آمادہ ہوجائوں گا۔ بلا شبہ یہ ایک سوچا سمجھا اور نہایت ہی سخت حملہ تھا ایسے دن بھی آئے کہ وزیراعظم ہائوس میں داخل ہونے اور باہر جانے والے راستوں پر شرپسندوں نے قبضہ کرلیا۔

اعلان کئے گئے کہ وزیراعظم کے گلے میں رسی ڈال کے گھسیٹتے ہوئے باہر لائیں گے لیکن میں الله کی تائید و حمایت پر بھروسہ کرتے ہوئے ڈٹا رہا۔ انہوں نے کہا کہ دھرنوں کے ذریعے مجھ پر لشکر کشی کرکے مجھے یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ مشرف پر غداری کا مقدمہ قائم کرنے کے نتائج اچھے نہ ہوں گے۔ انہی دنوں ایک انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کا پیغام مجھ تک پہنچایا گیا کہ میں مستعفی ہوجائوں اور اگر یہ ممکن نہیں تو طویل رخصت پر چلا جائوں۔

اس پیغام سے بے حد دکھ پہنچا مجھے رنج ہوا کہ پاکستان کس حال کو پہنچ گیا ہے عوام کی منتخب حکومت اور اس کے وزیراعظم کی بس اتنی ہی توقیر رہ گئی ہے کہ اس کے براہ راست ماتحت ادارے کا ملازم اپنے وزیراعظم کو مستعفی ہونے یا چھٹی چلے جانے کا پیغام بھجوا رہا ہے۔ شاید ہی تیسری دنیا کے کسی ملک میں بھی اتنی افسوسناک صورتحال ہو میرے مستعفی ہونے یا طویل رخصت پر چلے جانے کا مطالبہ اس تاثر کی بنیاد پر تھا کہ نواز شریف کو راستے سے ہٹا دیا گیا تو مشرف کے خلاف مقدمے کو لپیٹنا بھی مشکل نہیں رہے گا۔

نواز شریف نے کہا کہ میں اپنے اقتدار میں اپنی ذات کو خطرے میں ڈال کر کیوں بضد تھا کہ ایک ڈکٹیٹر کو اپنے کئے کی سزا ضرور ملنی چاہئے۔ صرف اس لئے کہ آمریتوں نے پاکستان کے وجود پر گہرے زخم لگائے ہیں۔ آئین شکنی یا اقتدار پر قبضے کا فیصلہ ایک یا دو تین جرنیل کرتے ہیں اقتدار کی لذتیں بھی صرف مٹھی بھر جرنیلوں کے حصے میں آتی ہیں لیکن اس کی قیمت مسلح افواج کے پورے ادارے کو ادا کرنی پڑتی ہ ے۔

میں اپنی مسلح افواج کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ فوج کی کمزوری کا مطلب ملکی دفاع کی کمزور ہے۔ قابل تحسین ہیں ہمارے وہ بہادر سپوت جو مادر وطن کے دفاع کے لئے ہر وقت سینہ سپر رہتے اور وقت آنے پر اس پاک سرزمین کے لئے اپنے خون کا نذرانہ تک پیش کردیتے ہیں۔ اس فوج کی اصل آبرو بہادر مائوں کے وہی فرزند ہیں جو اقتدار کی بارگاہوں کے بجائے سرحدی مورچوں میں بیٹھتے اور حکمرانی کی لذتیں سمیٹنے کے بجائے ہمارے کل کے لئے اپنا آج قربان کردیتے ہیں۔

میں نے فوج کی پیشہ وارانہ استعداد میں اضافے کو ہمیشہ اہمیت دی۔ میرے دورے میں دفاعی بجٹ میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ دفاع وطن کو ناقابل تسخیر بنانے کے لئے ہی 1998 میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا دو ٹوک اور ٹھوس جواب دینے کا فیصلہ کرنے میں میں نے چند گھنٹوں کی تاخیر بھی نہیں کی تھی۔ مجھے پختہ یقین تھا کہ اگر ہم نے اپنی ایٹمی قوت کا کھلا اظہار نہ کیا تو شاید آئندہ کبھی اس کا موقع نہ ملے۔

مجھے اس بات میں بھی کوئی شک نہیں تھا کہ پاکستان نے ایٹمی دھماکے نہ کئے تو خطے میں شدید عدم توازن قائم ہوجائے گا، بھارت کی عسکری بالادستی قائم ہوجائے گی اور پاکستان سراٹھا کر کھڑا نہ ہوسکے گا۔ میں اس وقت پاکستان سے باہر قازقستان کے دورے پہ تھا۔ میں نے اسی دن وہیں چیف آف آرمی سٹاف جنرل جہانگیر کرامت اور دیگر متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کیں کہ وہ جوابی ایٹمی دھماکوں کی تیاری شروع کردیں۔

میں نے یہ بھی ہدایت کی سارا کام کم سے کم درکار وقت یعنی سترہ دن کے اندر اندر مکمل کرلیا جائے۔ مجھے عالمی طاقتوں کی طرف سے نصف درجن فون آئے۔ 5ارب ڈالر کالالچ دیا گیا۔ لکین میں بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو سربلند دیکھنا چاہتا تھا۔ میںنے وہی کیا جو پاکستان کے مفاد میں تھا۔ مجھے پاکستان کی سربلندی ، پاکستان کا وقار، پاکستان کا افتخار اور پاکستان کی عزت و عظمت ، اربوں کھربوں ڈالر سے زیادہ عزیز تھی۔

آئین شکنی کرنے اوراپنا مقدس حلف توڑ کر قتدار پر قبضہ کرنے والے ڈکٹیٹر کا محاسبہ کرنا آئین اور جمہوریت ہی کا نہیں خود فوج کے وقار و تقدس کا بھی تقاضا ہے۔ جب ایک یادوچارجرنیل ، جمہوری حکومت کا تختہ الٹتے ، آئین توڑتے اور خود اقتدار کی کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں تو فوج کے ادارے کی آبرو پر بھی آنچ آتی ہے ۔ اسکی پیشہ ورانہ صلاحیتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

عوامی سطح پر اس کے احترام پر بھی منفی اثر پڑتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی اس کی ساکھ مجرح ہوتی ہے۔ انہی محرکات کے پیش نظر پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ چلانا ضروری خیال کیا گیا۔ اپنی بات کو سمیٹتے ہوئے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرے خلاف جھوٹے ، بے بنیاد ، من گھڑت اور خود ساختہ مقدمات کی وجہ یہ کہ میں نے سرجھکا کے نوکری کرنے سے انکار کردیا۔

میں نے مشرف کے خلاف مقدمات نہ بنانے سے انکار کردیا۔ میں نے اپنے گھر کی خبر لینے اور حالات ٹھیک کرنے پر اصرار کیا۔ میں خارجہ پالیسی کو قومی مفاد کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی۔ میں اس سب کچھ کو اپنے منصب کا دستور تقاضا سمجھتا تھا۔ لیکن اس سے غالباً یہ تاثر لیا گیا کہ میرا وجود کچھ معاملات میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ اس لئے مجھے منصب سے ہٹانا، پارٹی سے ہٹانا، عمر بھر کیلئے نااہل قرار دے ڈالنا اور سیاست کے عمل سے خارج کردینا ہی واحد حل سمجھا گیا۔

اب تک ریفرنسز کی حقیقت آپ پر کھل چکی ہوگی ۔ استغاثے کا کوئی گواہ میرے خلاف اپنے الزامات کا کوئی ادنیٰ سا ثبوت بھی پیش نہیں کرسکا۔ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ استغاثہ کے گواہوں نے بھی عملاً امیرے موقف کی تصدیق کی ہے۔ پانامہ پیپرزمیں دنیا کے کئی ممالک کے ہزاروں افراد کے نام آئے ہیں۔ ان میں حکمران بھی تے اور سیاسی لیڈر بھی ۔

مجھے معلوم نہیں کہ ساری دنیا میں ان پیپرز کی بنیاد پر کتنے افراد کے خلاف مقدمات بنے، کتنے افراد کو سزائیں ملیں، کتنے وزرائے اعظم یا صدر کو معزول کیا گیا اور کتنے عمر بھر کیلئے نااہل قرار پائے۔ پانامہ کے نام پر یہ سب کچھ صرف ایک ایسے شخص کے خلاف ہوا جس کا پانامہ میں نام تک نہ تھا۔ اس شخص کا نام نواز شریف ہے۔ چونکہ پاکستان کے عوام اس سے محبت کرتے ہیں، اسے بار بار ووٹ دیتے ہیں، اسے پاکستان کی وزارت عظمی کے منصب پر بٹھاتے ہیں اس لئے وہ ایک نامطلوب شخص قرار پایا۔

اسے کبھی اپنی آئینی معیاد پوری نہیں کرنے دی گئی۔ اسے سبق سکھانے کیلئے قید کیا گیا۔ کال کوٹھڑیوں میں ڈالا گیا۔ اسے ہائی جیکر قرار دے کر عمر قیدکی سزا دی گئی۔ خطرناک مجرموں کی طرح اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال کر جہاز کی سیٹ سے باندھ دیا گیا۔ اس کی ہرممکن تذلیل کی گئی ۔ پھر ملک کو اس کے شر سے بچانے کیلئے جلا وطن کردیا گیا۔ اس کی جائیداد یں ضبط کرلی گئیں۔

اس کے مورثی گھروں پر قبضہ جمالیا گیا۔ وہ ساری پابندیاں توڑ کر وطن آیا تو ہوائی اڈے ہی سے ایک بار پھر ملک بدرکردیا گیا۔ کیا آج سے 19سال قبل یہ سب کچھ ’’پانامہ‘‘ کی وجہ سے ہورہا تھا کیا میرے ساتھ یہ سلوک لندن فلیٹس کی وجہ سے کیا جارہا تھا نہیں جناب والا! انیس بیس سال پہلے بھی میرا قصور وہی تھا جو آج ہے۔ نہ اس وقت کسی پانامہ کا وجود تھا نہ آج کسی پانامہ کا وجود ہے۔

اس وقت بھی میں عوام کی حاکمیت اور آئینی تقاضوں کے مطابق حقیقی جمہوریت کی بات کررہا تھا، آج بھی یہی کررہا ہوں۔ اس وقت بھی میرا کہنا یہ تھا کہ داخلی اور خارجی پالیسیوں کی باگ ڈور منتخب عوام کے ہاتھ میں ہونی چاہیے، آج بھی میں یہی کہتا ہوں کہ فیصلے وہی کریں جنہیں عوام نے فیصلے کا اختیار دیا ہے۔ 1۔ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ جس پٹیشن یا درخواس کو دوبارلغو، فضول اور ناکارہ قرار دیا گیا ہو وہ اچانک معتبر ہوجائی 2۔

کیا کبھی اس طرح کے معاملات کی چھان بین کیلئے JITبنی ہی 3۔ کیا کبھی اس طرح کے معاملات میں انٹیلی جنس ایجنسیز کو JITکا حصہ بنایا گیا 4۔ کیا کبھی JITکے ارکان کے انتخابات کیلئے خفیہ طور پر وٹس ایپ کالز کی گئیں اور مخصوص افراد کو اس میں ڈالنے کیلئے دبائو ڈالا گیا 5۔ کیا آج سپریم کورت کے کسی بنچ نے JITکے کام کی نگرانی کی ہی 6۔ کیا کسی بھی پٹیشنز نے اپنی پٹیشن میں کسی دبئی کمپنی اور میرے اقامے کی بنیاد پر مجھے نااہل قرار دینے کی درخواست کی تھی 7۔

کیا کوئی عدالت ملک کے واضح قانون اور ضابطوں کی موجودگی اور کسی لفظ کی قانونی تشریح ہوتے ہو، اس لفظ کی من مانی تعبیر کیلئے کسی گمنام ڈکشنری کا سہارا لے سکتی ہی 8۔ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ ایک ہی مقدمے میں کبھی دو ، کبھی تین اور کبھی پانچ ججوں کے کئی فیصلے سامنے آئیں 9۔ کیا ان دوججوں کو اس پانچ رکنی پنچ کا حصہ ہونا چاہیے تھا جو پہلے ہی میرے خلاف فیصلہ دے چکے تھی 10۔

کیا پوری عدالتی تاریخ میں سپریم کورت کے کسی جج کو کسی مخصوص مقدمے میں نیب کورٹ کا مانیٹر بنایا گیا ہی اور جج بھی وہ جو میرے خلاف فیصلہ دے چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ چند سوالات جو میں اٹھائے تھے۔ مجھے ااج تک ان کا جواب نہیں ملا۔ یقیناً آپ کے پاس ان کا کوئی جواب نہیں۔ لیکن میں یہ سوالات اس لئے دوہرا رہا ہوں کہ آپ ان پر غور ضرور کریں اور سوچیں کہ یہ پراسرار کہانی کیا کہہ رہی ہے۔

جناب عالیٰ! جب فیصلے پہلے ہوجائیں اور ان کے جواب کیلئے حیلے بہانے بعد میں تراشے جائیں تو اسی ہی کہانیاں جنم لیتی ہیں۔ ’’مائنس ون‘‘ کا اصول طے پایا جائے تو اقامہ جیسا بہانہ ہی بہت کافی ہوتا ہے۔ میں اس فیصلے کے حوالے سے مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا لیکن اپنی یہ بات ضرور تاریخ کے ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ اس کا شمار بھی ہماری عدالتی تاریخ کے انہی فیصلوں میں ہورہا ہے جو نہ پاکستان کیلئے باعث فخر ہیں، نہ ہمارے نظام قانون وانصاف کیلئے ، نہ عدلیہ کی عزت وقار کیلئے اور نہ ان منصفوں کیلئے جنہوں نے نظریہ ضرورت ہی کی بنیاد پر نہ جانے کس کی ضرورت پوری کرنے کیلئے ایک خیالی تنخواہ کو اثاثہ قرار دینے کا عجوبہ روزگار ایجازکرلیا۔

اس فیصلے میں شروع سے آخر تک بدعنوانی تو کسی کو نظر نہیں آئی، ناانصافی ہر ایک کو نظر آرہی ہے۔ جناب والا! میں اور بھی بہت کچھ کہہ سکتاہوں کہ مجھے مقدمات میں کیوں الجھایا گیا۔ لیکن قوم و ملک کا مفاد مجھے اس سے زیادہ کچھ کہنے کی اجازت نہیں دے رہا۔ آپ اگر پاکستان کی تاریخ سے واقف ہیں تو آپ کو بخوبی علم ہوگا کہ ایسے مقدمات کیوں بنتے ہیں کن لوگوں پر بنتے ہیں اور ان لوگوں کا اصل گنا کیا ہوتا ہی ان کا اصل گنا ہ صرف ایک ہی ہوتا ہے کہ پاکستان کے عوام کی بھاری اکثریت انہیں چاہتی ہے۔

ان پر اعتماد کرتی ہے۔ انہیں قیادت پر بٹھاتی ہے۔ وہ عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ آئین اور قانون کے تحت ، عوام کی حاکمیت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ملکی پالیساں اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں۔ میں بھی اسی راستے کا ایک مسافر ہوں ۔ میں بھی چاہتا ہوں کہ عوام کی مرضی کا احترام کیا جائے۔ ان کے ووٹ کی عزت کی جائے۔ ان کی مرضی پر اپنی مرضی مسلط نہ کی جائے۔

آئین کا احترام کیا جائے۔ تمام ادارے اپنی طے کردہ حدود میں رہیں۔ پالیسیاں عوام کے منتخب نمائندے ترتیب دیں۔ کیونکہ انہی کو عوام کی عدالت میں جانا اور احتساب کیلئے پیش ہونا ہوتاہے۔ یہ ہے میرے جرائم کا خلاصہ ۔ اس طرح کے جرائم اور اس طرح کے مجرم ہماری تاریخ میں جابجا ملتے ہیں۔ کاش ایسا ممکن ہوتا کہ آپ نوابزداہ لیاقت علی خان کی روح کو بلاک کر یہی سوال پوچھ سکتے کہ آپ کو کیوں شہید کردیا گیا کاش آپ ذوالفقار علی بھٹو کی روح کو طلب کرکے یہی سوال پوچھ سکتے کہ آپ کیون پھانسی چڑھادیا گیا کاش آپ بے نظیر بھٹو کی روح کو اس عدالت میں بلا کر پوچھ سکتے کہ بی بی آپ کو کیوں قتل کردیا گیا کاش آپ مقبول منتخب وزرائے اعظم کو بلا کر یہ سوال پوچھ سکتے کہ آپ میں سے کوئی ایک بھی اپنی آئینی معیاد کیوں پوری نہیں کرسکا کاش آپ اس دنیا سے گزرجانے والے اور ایک زندہ جرنیل سے پوچھ سکتے کہ آپ میں ایسی کیا خوبی تھی کہ مجھے ہائی جیکر کہیں یا کچھ اور، سسلین مافیا کہیں یا گاڈ فادر، وطن دشمن کہیں یا غدار، مجھے کسی نام، کسی لقب سے کچھ فرق نہیں پڑتا، میری صداقت اور امانت پر سوال اٹھائیں، مجھے کچھ فرق نہیں پڑتا، میں پاکستان کا بیٹا ہوں اور اس مٹی کا ایک ایک ذرہ مجھے اپنی جان سے بھی پیارا ہے، میرے بزرگوں نے اس پاکستان کیلئے ہجرت کی اور لاکھوں دوسرے مسلمانوں کی طرح اپنا سب کچھ چھوڑ کر یہاں آئے، کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینا میں اپنی حب الوطنی کی توہین سمجھتا ہوں،میں نے عوام کے اعتماد کو ہمیشہ ایک اعزاز بھی سمجھا اور بہت بڑا امتحان بھی، ، میں نے اس ملک اور عوام کی حالت بدلنے کیلئے جو کچھ کیا، اسے اللہ کی خصوصی عنایت سمجھتا ہوں، آج پاکستان میں موٹرویز اور شاہراہوں کا جال بچھا ہے، پشاور سے کراچی تک موٹروے کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کو ہے، میں اللہ کے حضور احساس تشکر کے ساتھ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ گزشتہ پانچ سال میں ہماری حکومت نے جتنے کام کئے، ان کی مثال گزشتہ 65سالوں میں نہیں ملتی، سی پیک کا منصوبہ اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ایک ابھرتے ہوئے پاکستان کی نوید بن رہی ہے، شورش زدہ بلوچستان کو ہم نے امن دیا، بوری بند لاشوں، بھتوں اور ہڑتالوں والے کراچی کو بدامنی سے نکال کر روشنیوں اور رونقوں کی طرف واپس لائے، 19سال بعد اس ملک میں مردم شماری کراچی،، فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کیلئے اصلاحات کیں، زرعت پیشہ لوگوں کو مثالی مراعات دیں، نوجوانوں کیلئے خود روزگاری کے مواقع عام کئے، اعلیٰ تعلیم کیلئے بھاری وظائف کی سکیمیں شروع کیں، صحت کارڈ کے ذریعے علاج کی سہولتوں تک رسائی دی، بجلی کی پیداوار میں دس ہزار میگا واٹ کا اضافہ کیا، دہشت گردی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور اس پر کاری ضرب لگائی، خارجہ پالیسی کو نئے خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کی، اقوام متحدہ میں کشمیری عوام پر بھارتی مظالم کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی، پاکستان کے بارے میں اس کے جارحانہ اور سخت گیر رویے سے عالمی رہنمائوں کو آگاہ کیا، افغانستان سے معاملات بہتر بنانے کی کوشش کی، عالمی طاقتوں کے خدشات دور کرنے کی کوشش کی، میں اللہ کے فضل و کرم سے یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ میں نے اپنی قوم کو وہ پاکستان دیا جو زندگی کے ہر شعبے میں 2013کے پاکستان سے زیادہ روشن، زیادہ مستحکم اور زیادہ توانا تھا۔

یہ اس ملک کے دانشوروں اور مبصرین نے دیکھنا ہے کہ 28جولائی 2017کے فیصلے نے اس پاکستان کو کیا دیا، اس ملک کے عوام کو کیا دیا، معیشت، توانائی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں، صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کتنا نقصان پہنچا، جمہوری عمل اور حکومتی کارکردگی پر کیا اثرات ڈالے، پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور بے یقینی کو کتنی ہوا دی، ان عوام کے دلوں کو کس قدر زخمی کیا جو کئی برس بعد ایک ابھرتا ہوا ،ترقی کرتا ہوا اور آگے بڑھتا ہوا پاکستان دیکھ رہے تھے، ممکن ہے مجھے حکومت سے بے دخل کرنے اور نا اہل قرار دینے سے کچھ لوگوں کی تشکیل ہو گئی ہو، لیکن کوئی بتا سکتا ہے کہ پاکستان کی جمہوریت ،،پاکستان کے آئینی نظام اور پاکستان کے احترام و وقار کو کیا ملا، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کتنی بہتر ہوئی اور سب سے بڑا سوال یہ کہ اس فیصلے سے خود پاکستان کی عدلیہ اور پاکستان کے نظام قانون و انصاف کو کیا ملا۔

جس طرح 2013کے پاکستان اور جولائی 2017 تک کے پاکستان کا موازنہ کیا جانا چاہیے اسی طرح 28جولائی 2017یعنی عدالتی فیصلے کے دن اور اس کے بعد کے دس مہینوں کا جائزہ بھی ضرور لینا چاہیے، یقیناً ان دس مہینوں نے نہ صرف آگے بڑھتے ہوئے پاکستان کے قدموں میں زنجیریں ڈال دیں بلکہ کئی شعبوں میں اسے پیچھے بھی دھکیل دیا، ان دس مہینوں میں پیدا ہونے والے ماحول سے فائدہ اٹھا کربلوچستان میں حکومت کا تختہ الٹ کر’’حقیقی جمہوریت‘‘ قائم کی گئی اور پھر پارلیمنٹ کے منظور کردہ ایک قانون کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مجھے پارٹی سربراہی سے فارغ کر دیا گیا، اسی فیصلے کی آڑ لے کر پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں پہلی بار سینیٹ کیلئے ہمارے امیدواروں کو شیر کے نشان سے محروم کر کے بے چہرہ کر دیا گیا، کیا پاکستان ہی نہیں دنیا کی تاریخ میں بھی کوئی ایسی نظیر ملتی ہے، اسی فیصلے کی بنیاد پر آپ کی عدالت میں یہ ریفرنس چل رہے ہیں، میں ان ریفرنسز میں 70سے زائد پیشیاں بھگت چکا ہوں، کیا پاکستان میں بڑے بڑے جرم کا ارتکاب کرنے والا کوئی ایک بھی ایسا شخص ہے جس نے اتنی پیشیاں بھگتی ہوں۔

28 جولائی 2017 کے فیصلے پر عوامی رد عمل بھی آ چکا ہے، ماہرین قانون کی رائے بھی اور عالمی مبصرین کے تبصرے بھی، مجھے اس پر کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں لیکن میں صرف ریکارڈ پر لانے کی خاطر ایسے چند سوالات کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں جو میں نے اگست 2017میں آل پاکستان لائرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اٹھائے تھے ۔ سوال یہ تھے کہ آپ نے دس دس سال حکمرانی کی اور کاش آپ اپنے سینئر جج صاحبان کو بھی بلا کے پوچھ سکتے کہ آپ نے ہر آئین شکنی اور ہر غداری کو جواز کیوں بخشا اپنے حلف سے بے وفائی کرکے آمروں کے ہاتھ پر بیعت کیوں کی نواز شریف نے کہا کہ میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے اس بے بنیاد مقدمے کا سب سے اہم اور حقیقی پہلو پیش کرنے کا موقع دیا۔

میں نے اپنی داستان کا مختصر سا حصہ آپ کے سامنے پیش کردیا ہے ان باتوں کا تزکرہ کردیا ہے جنہیں میرے مخالفین میرا جرم خیال کرتے ہیں اور جنہیں میں پاکستان کی سلامتی‘ عوام کی فلاح و بہبود اور اپنی حب الوطنی کا تقاضا سمجھتا ہوں۔ آپ اب تک جان چکے ہیں کہ کسی بھی کمپنی‘ جائیداد یا فیکٹری سے میرا ذرہ بھر تعلق ثابت نہیں ہوسکا۔ میں ایک بار پھراپنے اس موقف کو دہراتا ہوں کہ مجھ پر لگائے گئے تمام الزامات لغو اور بے بنیاد ہیں۔

میں ریفرنسز کا فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں۔ بلا شبہ مجھے آپ کو اور ہم میں سے ہر ایک انسان کو ایک نہ ایک دن الله کے حضور پیش ہونا ہے جہاں کوئی جھوٹ چلے گا نہ فریب۔ سب سے بڑی عدالت الله ہی کی ہے۔ میں نے پوری سچائی اور دیانت کے ساتھ اپنا مقدمہ آپ کی عدالت میں پیش کردیا ہے اور انصاف کا منتظر ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ کرتے وقت آپ اس حقیقت کو پیش نظر رکھیں گے کہ آپ کو بھی ایک دن اپنا مقدمہ الله کی عدالت میں پیش کرنا ہے۔ میری دعا ہے کہ آپ سرخرو ہوں۔