چین نے دریائے سندھ پر 40 ماحول دوست گریوٹی ڈیم بنانے کی تجویز دے دی

ان ڈیموں کی مالیت کالا باغ ڈیم سے دگنی مگر بجلی کی پیداوار 14 گنا زیادہ یعنی 50 ہزار میگا واٹ ہو سکتی ہے

منگل جون 21:06

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ منگل جون ء) چین نے دریائے سندھ پر 40 ماحول دوست گریوٹی ڈیم بنانے کی تجویز دے دی۔ ان ڈیموں کی مالیت کالاباغ ڈیم سے دگنی مگر بجلی کی پیداوار 14گنا زیادہ یعنی 50 ہزار میگا واٹ ہو سکتی ہے۔ پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ ملکی سالمیت کیلئے نقصان دہ منصوبہ کی تعمیر پر زور دینے کے بجائے متبادل راستہ اختیار کیا جائے، دوست ملک چین نے دریائے سندھ کے کناروں پر 40 ماحول دوست گریوٹی ڈیم بنانے کی تجویز دی ہے جس کی مالیت کالاباغ ڈیم سے دگنی مگر بجلی کی پیداوار چودہ گنا زیادہ یعنی پچاس ہزار میگا واٹ ہو گی جس پر عمل درامد سے قومی پیداوار اور برامدات میں زبردست اضافہ ہوگا اور پاکستان بجلی برامد کرنے والا ملک بن جائے گا۔

(جاری ہے)

 اپنے ایک بیان میں ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا کہ چینی تجویز قابل عمل ہے کیونکہ اس نے پہلے ہی چشمہ کے مقام پر 280 میگاواٹ کا ایک چھوٹا گریوٹی ڈیم بنایا ہوا ہے۔ دنیا بھر میں بڑے ڈیموں کے مقابلہ میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کو ترجیح دی جا رہی ہے۔اسکے علاوہ جاپان کی طرز پر بہتے پانی پر سستے جنریٹرز نصب کرکے فراوانی سے بجلی پیدا کی جا سکتی جسے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ کالا باغ ڈیم کے برعکس داسو ، دیا میر بھاشا اور منڈا ڈیموں سے مجموعی طور پر9520 میگاواٹ بجلی کی پیداوار حاصل ہوگی ، ان ڈیموں کے دیگر فوائد کالاباغ ڈیم سے زیادہ ہیں۔ داسو، دیا میر بھاشا اور منڈا ڈیموں کے بارے میں قومی اتفاق رائے موجود ہے، یہ پتھریلے پہاڑوں میں واقع ہیں، قریب آبادی بھی نہیں ، انکی انچائی اور پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کالا باغ ڈیم سے زیادہ ہے۔

داسو، دیا میر بھاشا اور منڈا ڈیم کی اپ رائزنگ ھو سکتی ہے جبکہ کالا باغ ڈیم کی اپ رائزنگ ممکن نہیں، داسو ، دیا میر بھاشا اور منڈا ڈیم میں سیلٹنگ کا مسئلہ بھی نہیں ہو گا جبکہ کالا باغ ڈیم کو 15 سال کے اندر ڈی سلٹنگ کی ضرورت ہو گی۔کالا باغ ڈیم سے تربیلہ ڈیم کوکوئی فائدہ نہیں جبکہ دیا میر بھاشا اور داسو ڈیم کے بنے سے تربیلہ کی زندگی میں 50 سال کا اضافہ ہو گا اس لئے انکی تعمیر جنگی بنیادوں پر کی جائے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں پانی کی کمی کا بحران تیزی سے شدت اختیار کر رہا ہے۔ جہاں ایک طرف موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان بے حد متاثر ہوا ہے، وہیں دوسری جانب بھارت نے نئے ڈیم بنا کر پاکستان کے دریاوں کا پانی روک لیا ہے۔ اس تمام صورتحال کے باوجود پاکستان میں بننے والی کوئی بھی حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔

پاکستان میں بننے والی زیادہ تر حکومتوں کی توجہ ترقیاتی منصوبے پر ہی مرکوز رہتی ہے۔ پاکستان میں بننے والی حکومتوں نے کبھی بھی مستقبل کی فکر کرتے ہوئے پانی کے مسئلے کے حل کیلئے سنجیدگی سے کوئی کام نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں پانی کا بحران ہر گزرتے دن کیساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ عالمی موحولیاتی تنظیموں کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔

اسی باعث پاکستان میں پہلے سے قدرے کم بارشیں ہونے لگی ہیں۔ جبکہ پاکستان میں گرمی کے موسم کی شدت اور دورانیہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں ڈیموں کی کمی کے باعث دریاوں کا 90 فیصد پانی بھی ضائع ہو جاتا ہے۔ پاکستان نے اب تک جو ڈیم تعمیر کیے ہیں، ان کی مدد سے صرف 10 فیصد پانی محفوظ کیا جا سکتا ہے، پانی کی یہ مقدار 22 کروڑ لوگوں کے ملک کیلئے ناکافی ہے۔

اس صورتحال میں حکمراں تو اب بھی خواب غفلت سے بیدار نہیں ہوئے، تاہم اب عوام نے اس مسئلے کو حل کروانے کی ذمہ داری خود سنبھال لی ہے۔ پاکستانی عوام کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک بھرپور مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس مہم کا نعرہ ہے کہ "ڈیم بناو، پاکستان بچاو"۔ اس مہم میں شرکت کرنے والے سوشل میڈیا صارفین کا مطالبہ ہے کہ نہ سڑکیں چاہیئں، نہ میڑو بس، نہ ہی اورنج لائن ٹرین، پاکستان کا مستقبل محفوظ بنانا ہے تو نئے ڈیم بنائیں جائیں۔

اگر ملک میں کالا باغ اور دیگر ڈیم تعمیر نہ کیے گئے تو اگلے چند برسوں میں پاکستان پانی کی بوند بوند کو ترسے گا۔ اس مہم کے زور پکڑنے کے بعد اب کالا باغ ڈیم سے بھی کہیں بڑے اور اہم ڈیم کے حوالے سے تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کے ضلع سکردو میں کٹزرہ نامی ایک علاقہ موجود ہے۔

اس علاقے میں دریائے سندھ پر انتہائی اونچائی پر ڈیم تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ کٹزرہ ڈیم گلگت بلتستان کے علاقے سکردو میں بنایا جا سکتا ہے۔ یہ ڈیم 1000 سال تک خطہ کی پانی ضرورت پوری کر سکتا ہے۔ جبکہ اس ڈیم کو بنانے سے باقی ڈیموں کی عمر بھی بڑھ جائیگی۔ ڈیم میں 35 ملین ایکڑ فٹ پانی سٹور کرنے کی گنجائش ہوگی اور یہ دنیا کا دوسرا بڑا ڈیم ہوگا۔

جبکہ اس ڈیم سے بجلی کی پیداواری صلاحیت بھی 15000 میگا واٹ ہوگی۔ تاہم اسی حوالے سے پیپلز پارٹی کے دور حکومت کی ایک رپورٹ بھی منظر عام پر آئی ہے۔ یہ رپورٹ واپڈا کی جانب سے تیار کی گئی تھی جس میں کٹزرہ ڈیم کے حوالے سے تفصیلات بتائی گئی۔ واپڈا نے اس ڈیم کی تعمیر ناممکن قرار دے دی تھی۔ واپڈا کی رپورٹ میں موقف اختیار کیا گیا کہ چونکہ ڈیم کی سائٹ ایسے علاقے میں موجود ہے جہاں تک آمد و رفت کے ذرائع بہت محدود ہیں، اس لیے اس ڈیم کو تعمیر کرنا ناممکن دکھتا ہے۔

اگر اس ڈیم کو تعمیر کر بھی لیا جائے تو اس سے گلگت کے کئی علاقے بشمول سکردو کا آبادی والا حصہ پانی میں ڈوب جائے گا۔ جبکہ اس ڈیم کی تعمیر کے باعث پاکستان کی سیاچن کے محاذ تک رسائی بھی مشکل ہو جائے گی۔ واپڈا کی اس رپورٹ کے بعد اس ڈیم کا دوبارہ کبھی ذکر نہیں ہوا۔ تاہم اب دوبارہ سے ملک میں نئے ڈیمز کی تعمیر کی مہم کے آغاز کے بعد اس ڈیم کی تعمیر کا ذکر بھی چھڑ گیا ہے۔

Your Thoughts and Comments