Aey Mare Watan Ke Khush Nawa

اے میرے وطن کے خوش نواؤ

اک عمر کے بعد تم ملے ہو

اے میرے وطن کے خوش نواؤ

ہر ہجر کا دن تھا حشر کا دن

دوزخ تھے فراق کے الاؤ

روؤں کہ ہنسوں سمجھ نہ آئے

ہاتھوں میں ہیں پھول دل میں گھاؤ

تم آئے تو ساتھ ہی تمہارے

بچھڑے ہوئے یار یاد آئے

اک زخم پہ تم نے ہاتھ رکھا

اور مجھ کو ہزار یاد آئے

وہ سارے رفیق پا بجولاں

سب کشتۂ دار یاد آئے

ہم سب کا ہے ایک ہی قبیلہ

اک دشت کے سارے ہم سفر ہیں

کچھ وہ ہیں جو دوسروں کی خاطر

آشفتہ نصیب و در بدر ہیں

کچھ وہ ہیں جو خلعت و قبا سے

ایوان شہی میں معتبر ہیں

سقراط و مسیح کے فسانے

تم بھی تو بہت سنا رہے تھے

منصور و حسین سے عقیدت

تم بھی تو بہت جتا رہے تھے

کہتے تھے صداقتیں امر ہیں

اوروں کو یہی بتا رہے تھے

اور اب جو ہیں جا بجا صلیبیں

تم بانسریاں بجا رہے ہو

اور اب جو ہے کربلا کا نقشہ

تم مدح یزید گا رہے ہو

جب سچ تہ تیغ ہو رہا ہے

تم سچ سے نظر چرا رہے ہو

جی چاہتا ہے کہ تم سے پوچھوں

کیا راز اس اجتناب میں ہے

تم اتنے کٹھور تو نہیں تھے

یہ بے حسی کسی حساب میں ہے

تم چپ ہو تو کس طرح سے چپ ہو

جب خلق خدا عذاب میں ہے

سوچو تو تمہیں ملا بھی کیا ہے

اک لقمۂ تر قلم کی قیمت

غیرت کو فروخت کرنے والو

اک کاسۂ زر قلم کی قیمت

پندار کے تاجرو بتاؤ

دربان کا در قلم کی قیمت

ناداں تو نہیں ہو تم کہ سمجھوں

غفلت سے یہ زہر گھولتے ہو

تھامے ہوئے مصلحت کی میزان

ہر شعر کا وزن تولتے ہو

ایسے میں سکوت، چشم پوشی

ایسا ہے کہ جھوٹ بولتے ہو

اک عمر سے عدل و صدق کی لاش

غاصب کی صلیب پر جڑی ہے

اس وقت بھی تم غزل سرا ہو

جب ظلم کی ہر گھڑی کڑی ہے

جنگل پہ لپک رہے ہیں شعلے

طاؤس کو رقص کی پڑی ہے

ہے سب کو عزیز کوئے جاناں

اس راہ میں سب جئے مرے ہیں

ہاں میری بیاض شعر میں بھی

بربادئ دل کے مرثیے ہیں

میں نے بھی کیا ہے ٹوٹ کر عشق

اور ایک نہیں کئی کیے ہیں

لیکن غم عاشقی نہیں ہے

ایسا جو سبک سری سکھائے

یہ غم تو وہ خوش مآل غم ہے

جو کوہ سے جوئے شیر لائے

تیشے کا ہنر قلم کو بخشے

جو قیس کو کوہ کن بنائے

اے حیلہ گران شہر شیریں

آیا ہوں پہاڑ کاٹ کر میں

ہے بے وطنی گواہ میری

ہر چند پھرا ہوں در بدر میں

بیچا نہ غرور نے نوازی

ایسا بھی نہ تھا سبک ہنر میں

تم بھی کبھی ہم نوا تھے میرے

پھر آج تمہیں یہ کیا ہوا ہے

مٹی کے وقار کو نہ بیچو

یہ عہد ستم جہاد کا ہے

دریوزہ گری کے مقبروں سے

زنداں کی فصیل خوشنما ہے

کب ایک ہی رت رہی ہمیشہ

یہ ظلم کی فصل بھی کٹے گی

جب حرف کہے گا قم بہ اذنی

مرتی ہوئی خاک جی اٹھے گی

لیلائے وطن کے پیرہن میں

بارود کی بو نہیں رہے گی

پھر باندھیں گے ابرووں کے دوہے

پھر مدح رخ و دہن کہیں گے

ٹھہرائیں گے ان لبوں کو مطلع

جاناں کے لیے سخن کہیں گے

افسانۂ یار و قصۂ دل

پھر انجمن انجمن کہیں گے

احمد فراز

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(4828) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Aey Mare Watan Ke Khush Nawa by Ahmed Faraz - Read Ahmed Faraz's best Shayari Aey Mare Watan Ke Khush Nawa at UrduPoint. Here you can read the best poetry Aey Mare Watan Ke Khush Nawa of Ahmed Faraz. Aey Mare Watan Ke Khush Nawa is the most famous poetry by Ahmed Faraz. People love to read poetry by Ahmed Faraz, and Aey Mare Watan Ke Khush Nawa by Ahmed Faraz is best among the whole collection of poetry by Ahmed Faraz.

Ahmed Faraz is the most famous Urdu Poet. Therefore, people love to read Urdu Poetry of Ahmed Faraz. At UrduPoint, you can find the complete collection of Urdu Poetry of Ahmed Faraz. On this page, you can read Aey Mare Watan Ke Khush Nawa by Ahmed Faraz. Aey Mare Watan Ke Khush Nawa is the best poetry by Ahmed Faraz.

Read the Ahmed Faraz's best poetry Aey Mare Watan Ke Khush Nawa here at UrduPoint; you will surely like it. If we make a list of Ahmed Faraz's best Shayari, Aey Mare Watan Ke Khush Nawa of Ahmed Faraz will be at the top. Many people, who love the Urdu Shayari of Ahmed Faraz, regard it as the best poetry Aey Mare Watan Ke Khush Nawa of Ahmed Faraz.

We recommend you read the most famous poetry, Aey Mare Watan Ke Khush Nawa of Ahmed Faraz here, you will surely love it. Also, don't forget to share it with others.