🔸100 Ashaar Par Mushtamil * * * Ghazal * * *

١٠٠ اشعار پر مشتمل ***غزل***

١٠٠ اشعار پر مشتمل ***غزل***

آپ کی بصارتوں کی نذر

دو گھڑی ان سے ہم خفا رہے ہیں

اور بڑی دیر غم زدہ رہے ہیں

بیر کی ٹہنیاں ہلا رہے ہیں

اور تصور میں سیب کھا رہے ہیں

مجھ سے ناراض ہیں تو کیوں میرے

آپ یہ شعر گنگنا رہے ہیں

نارسائی کے دن بھی کیا دن تھے

ہم بھی خوش فہم کیا سے کیا رہے ہیں

کل تلک مہرباں نہ تھی قسمت

زائچہ آج پھر بنا رہے ہیں

چادرِ شب میں پھول کاڑھے ہیں

یہ ستارے جو جھلملا رہے ہیں

بند دروازہ کوئی کیسے ملے

در محبت کے جن پہ وا رہے ہیں

یہ وسیلہ بنے گا بخشش کا

ہم رفیقانِ بے نوا رہے ہیں

رہنما کون مانتا ہے اِنہیں

یہ جو کٹھ پُتلیاں نچا رہے ہیں

سر بسر غرق اپنی ذات میں ہے

جس کو سب متقی بتا رہے ہیں

جاں کنی کا عذاب کم کیجے

آپ الٹی چھری چلا رہے ہیں

سارے مندی کی بات کرتے ہیں

اور دکانِ وفا بڑھا رہے ہیں

شام ہونے کو آرہی ہے اب

سارے امیدوار جا رہے ہیں

بھوت سر سے اتر ہی جاتا ہے

ہم بھی اک عمر لا دوا رہے ہیں

راستہ بھی طویل ہے گھر کا

اور نظارے بھی لبھا رہے ہیں

ان کی پسماندگی بتاتی ہے

دشمنِ رنگِ ارتقا رہے ہیں

آنکھیں کچھ اور چغلی کھا رہی ہیں

آپ نوحہ الگ سنا رہے ہیں

یہ عبادت گزار بھی پہلے

ایک دو سال بے ریا رہے ہیں

وقت اتنا ہی مختصر بچا ہے

پاؤں جتنے یہاں جما رہے ہیں

فتح دشمن کو مل نہیں سکتی

جنگ میں پیار آزما رہے ہیں

جن میں فرعونیت بلا کی ہے

شکر ہے ان کا آئنہ رہے ہیں

اب جو مخمل میں ٹاٹ کا پیوند

لگ چکا ہے تو کیوں چھپا رہے ہیں

بھوک حسِ جمال کھا گئی ہے

سبزیاں گملوں میں اُگا رہے ہیں

جس کو تصویر کر دیا گیا ہے

آنکھ کا ایک زاویہ رہے ہیں

مستقل مسکراہٹوں سے قبل

مدتوں وقفِ ابتلا رہے ہیں

سوکھی مٹی کی آس بڑھ گئی ہے

ابر دل کے نگر پہ چھا رہے ہیں

وہ لگے ہیں ستاروں کو چھونے

اور ہم نیکیاں کما رہے ہیں

کیا زمیں پر دوبارہ چلنا نہیں

لوگ بارود کیوں بچھا رہے ہیں

پہلے خوابوں کے جھنڈے لہرائے

اور اب دھجیاں اڑا رہے ہیں

کیا قلق پیچھے رہ گئے ہیں اگر

آپ تو کارواں بچا رہے ہیں

کشمکش ہے مفاد کی ساری

کچھ بڑے ڈوریاں ہلا رہے ہیں

جب کسی اور کی لڑائی ہے

ٹانگ ہم کس لئے اڑا رہے ہیں

طاقتیں حوصلوں سے ہاری ہیں

سب سے آگے شکستہ پا رہے ہیں

شہر میں اک سکوت کی صورت

دشتِ خاموش کی صدا رہے ہیں

جب رہائی کا وقت آ پہنچا

یہ قفس کس لئے سجا رہے ہیں

آبلہ پائی آڑے آئی نہیں

غم فقیروں کا آسرا رہے ہیں

بھول بیٹھے ہیں وہ سرِ منزل

ہم مسافت میں راستہ رہے ہیں

آندھیاں اپنا کام کر رہی ہیں

ہم دیے سے دیا جلا رہے ہیں

ایسے لگتا ہے لوگ سارے ہی

ایک دوجے کو ورغلا رہے ہیں

دردِ سر بن کے رہ گئے آخر

وہی جو موجبِ شفا رہے ہیں

جا رہے ہیں جو رہزنی کے لیے

پھول دربار پر چڑھا رہے ہیں

مسئلے اپنے جو سمجھتے نہیں

ساری دنیا کا مسئلہ رہے ہیں

کہیں گستاخی بات کرنا بھی

اور کہیں قتل بھی روا رہے ہیں

نیچ لوگوں کی یہ نشانی ہے

خبطِ عظمت میں مبتلا رہے ہیں

کچے پھل کا ہی کچھ خیال کریں

ٹہنیاں اتنی کیوں جھکا رہے ہیں

خون بہتا رہا ہے گلیوں میں

دل میں محشر کئی بپا رہے ہیں

ڈال کر شعر میں شعورِ عہد

قرض نسلوں کا ہم چکا رہے ہیں

ایک لمحے کی دسترس میں ہیں

اور صدیوں کا منہ چڑھا رہے ہیں

زندہ رہنے کی ٹھان لی ہم نے

خواہشوں کا گلا دبا رہے ہیں

اپنی اپنی خطاءوں کا ملبہ

سارے ابلیس پر گرا رہے ہیں

یہ نمائش الگ ہی شے ہے میاں

ہم تو ویرانے کو بسا رہے ہیں

میں تو دشمن کی بات کر رہا ہوں

کس لیے آپ تلملا رہے ہیں

سیکھنے ہیں چلن زمانے کے

درسِ معصومیت بھلا رہے ہیں

نفع بھی جب ہوا نہ راحت بخش

ہم خساروں سے ماورا رہے ہیں

اپنی تکمیل کا غرور ہمیں

اور وہ چاک پر گھما رہے ہیں

مال جب سارا بیچ ڈالا ہے

یہ صدا کس لئے لگا رہے ہیں

یہ بہادر ہیں یا کہ احمق ہیں

نوکِ خنجر سے سر کھجا رہے ہیں

متصف ہیں ہنر وری سے اور

ایک گمنام واقعہ رہے ہیں

لوگ کیچڑ اچھالنے لگے ہیں

آپ چھینٹوں کی زد میں آ رہے ہیں

فرق آئے گا کیا زمانے میں

میرے جیسے یہاں سدا رہے ہیں

پہلے پہلے مشیر تھے میرے

آپ کو پٹی اب پڑھا رہے ہیں

وقت بدلا تو معتبر ٹھہرے

جن کی نظروں میں نا سزا رہے ہیں

جھونکے اڑنے لگے ہیں خوشبو کے

گل کسے دیکھ کر لجا رہے ہیں

اب سمجھ آئی ایک دوسرے کی

ایک مدت جدا جدا رہے ہیں

اتنی رغبت نظر نہیں آئی

جتنی ہمدردیاں جتا رہے ہیں

پہلے الجھا کے منزلوں کا پتہ

واپسی سے ہمیں ڈرا رہے ہیں

دیکھ کر بے نیازیاں ان کی

درمیاں سے جھجھک ہٹا رہے ہیں

پاس آؤ کہ ولولے اتنے

ایک دل میں کہاں سما رہے ہیں

ہار آئے ہیں جان و تن ایسے

جیسے ہم کائنات پا رہے ہیں

تیرے ہونٹوں کا ذائقہ رہا ہے

تیرے ہونٹوں کا ذائقہ رہے ہیں

زرد آنچل اڑا رہی ہے ہوا

پھول سرسوں کے لہلہا رہے ہیں

چھوڑ دیں چھینا جھپٹیاں اب تو

کیوں میسر کو بھی گنوا رہے ہیں

تازہ لہریں اٹھا رہی ہیں سر

سب ورق ماضی کے بہا رہے ہیں

جسم نیلام ہونے آ گیا ہے

اب خسارے بھی رنگ لا رہے ہیں

کیوں نہیں آنسو روکتے اپنے

آپ ڈھارس اگر بندھا رہے ہیں

حال اندر کا چھوڑیے مرشد

سب کی نظروں میں پارسا رہے ہیں

درد مندوں پہ اک نظر کر کے

آپ توقیرِ غم بڑھا رہے ہیں

فائدہ شک کا مل گیا ہے ہمیں

بے گناہی پہ مسکرا رہے ہیں

اپنی دنیا الگ بسائی ہے

اپنا جھولا الگ جھلا رہے ہیں

ہم پہ جو گزری چھوڑیے صاحب

آپ کیوں اتنے بد مزہ رہے ہیں

سارے معصوم سہمے بیٹھے ہیں

شور بس چور ہی مچا رہے ہیں

ڈھلتی چھاؤں بتا رہی ہے مجھے

محفلِ حسن کی ضیا رہے ہیں

کچھ سبب تو اداسیوں کا ہے

کڑیاں ماضی سے ہم ملا رہے ہیں

کس نے رسی دراز کی ان کی

جو غریبوں پہ ظلم ڈھا رہے ہیں

راستے منزلوں پہ رکھے ہیں

جو مسافت کی ابتدا رہے ہیں

جاتے جاتے جگا گئے ہیں خواب

لوریاں دے کے ہم سلا رہے ہیں

کیا کسی اور سے بھی رابطہ ہے

آئنے سے نظر چرا رہے ہیں

رنگ موسم کا ہی نہیں بدلا

وہ بھی تیور الگ دکھا رہے ہیں

کیا کہیں کتنے زخم خوردہ ہیں

بزم کی بزم کو ہنسا رہے ہیں

تلخ جتنے معاملات بھی ہوں

رنگ فطرت کے جاں فزا رہے ہیں

یہ مسافر پرندے رک جائیں

دانہ ہم اس لیے کھلا رہے ہیں

آکسیجن، طیور، چھاؤں، ثمر

لوگ یہ پیڑ کیوں کٹا رہے ہیں

ان پرندوں میں دشمنی نہیں ہے

سب محبت کے گیت گا رہے ہیں

اب کہاں تیرا غم رہا ہے ہمیں

خود کو بس عادتا گھلا رہے ہیں

موسموں کے مزاج برہم ہیں

اور ہم شدتیں گھٹا رہے ہیں

وہ نہیں ہیں تو روبرو کس کے

دیر تک ہم غزل سرا رہے ہیں

فرق کچھ اونچ نیچ سے نہ پڑا

عکس سوچوں کے خوش نما رہے ہیں

قاعدے پیار نے بدل ڈالے

روٹھنے والے ہی منا رہے ہیں

بن گئے ہیں نئی رتوں کی نوید

اور حوالہ گذشتہ کا رہے ہیں

تخت و تاج اور سلطنت جاذب

اہلِ زر کا مطالبہ رہے ہیں

اکرم جاذب

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(257) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Akram Jazib, 🔸100 Ashaar Par Mushtamil * * * Ghazal * * * in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 13 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.5 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Akram Jazib.