Khizaan Ka Mosaam

خزاں کا موسم

زوال پر تھی بہار کی رت

خزاں کا موسم عروج پر تھا

اداسیاں تھیں ہر ایک شے پر

چمن سے شادابیاں خفا تھیں

ان ہی دنوں میں تھی میں بھی تنہا

اداسی مجھ کو بھی ڈس رہی تھی

وہ گرتے پتوں کی سوکھی آہٹ

یہ صحرا صحرا بکھرتی حالت

ہمی کو میری کچل رہی تھی

میں لمحہ لمحہ سلگ رہی تھی

مجھے یہ عرفان ہو گیا تھا

حقیقت اپنی بھی کھل رہی تھی

کہ ذات اپنی ہے یوں ہی فانی

جو ایک جھٹکا خزاں کا آئے

تو زندگی کا شجر بھی اس پل

خموش و تنہا کھڑا ملے گا

مزاج اور خوش روی کے پتے

دلوں میں لوگوں کے مثل صحرا

پھریں گے مارے یہ یاد بن کر

کچھ ہی دنوں تک

مگر مقدر ہے ان کا فانی

کے لاکھ پتے یہ شور کر لیں

مزاج میں سرکشی بھی رکھ لیں

یا گریہ کر لیں اداس ہو لیں

تو فرق اسے یہ بس پڑے گا

زمین ان کو سمیٹ لے گی

ذرا سی پھر یہ جگہ بھی دے گی

کرشمہ قدرت کا ہے یہ ایسا

عروج پر ہے زوال اپنا

ہر ایک کو ہے پلٹ کے جانا

اسریٰ رضوی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(539) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Asra Rizvi, Khizaan Ka Mosaam in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 27 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Asra Rizvi.