حبیب جالب کی دوستی شاعری

یہ اور بات تیری گلی میں نہ آءیں ہم

حبیب جالب

یہ زندگی گزار رہے ہیں جوہم یہاں

حبیب جالب

کوئی ممنون فرنگی کوئی ڈالر کا غلام

حبیب جالب

یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم

حبیب جالب

تو رنگ ہے،غبار ہیں تیری گلی کے لوگ

حبیب جالب

شب کو چاند اور دن کو سورج بن کر روپ دکھاتی ہو

حبیب جالب

تو کلی نزہتوں نکہتوں میں پلی

حبیب جالب

ریستوران میں بیٹھو اور کانٹے سے کھانا کھائو

حبیب جالب

نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں

حبیب جالب

تیرے لیے میں کیا کیا صدمے سہتا ہوں

حبیب جالب

ابھی جو پاس سے گزری ہے خاک اڑاتی ہوئی

حبیب جالب

آخر کار یہ ساعت بھی قریب آ پہنچی

حبیب جالب

وہ بھی خائف نہیں تختئہ دار سع

حبیب جالب

کہیں آہ بن کےلب پر ترا نام نہ آءے

حبیب جالب

جی دیکھا ہے مردیکھا ہے

حبیب جالب

اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے

حبیب جالب

میں تجھے پھول کہوں اور کہوں بھونروں سے

حبیب جالب

غزلیں تو کہی ہیں کچھ ہم نے ان سے نہ کہا احوال تو کیا

حبیب جالب

دل والوکیوں دل کی دولت یوں بیکار لٹاتے ہو

حبیب جالب

دل کی بات لبوں پر لاکر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں

حبیب جالب

درخت سوکھ گئے رک گئے ندی نالے

حبیب جالب

دن بھر کافی ہائوس میں بیٹھے کچھ دلبے پتلے نقاد

حبیب جالب

گھر سے نکلے کار میں بیٹھے

حبیب جالب