Kiya Kiya Badast Gaib Sabhi Ne Liya Na Tha

کیا کیا بہ دست غیب سبھی نے لیا نہ تھا

کیا کیا بہ دست غیب سبھی نے لیا نہ تھا

لیکن مری وفا کا کوئی بھی صلہ نہ تھا

آوازۂ رقیب سے الجھے ہیں بار بار

تجھ سے شکایتوں کا مگر حوصلہ نہ تھا

اس کی نوازشوں پہ نہ اتراؤ دوستو

مجھ پر کرم وہ تھا کہ کسی پر ہوا نہ تھا

لیتے ہیں بار بار وہ ایسے خدا کا نام

دنیا میں جیسے اور کسی کا خدا نہ تھا

رستے دیار دل کے بھی کتنے عجیب تھے

سب راہرو تھے کوئی یہاں رہنما نہ تھا

دل نے تو اپنی بات کہی سب کے روبرو

دل تھا منافقت سے کبھی آشنا نہ تھا

شیشہ گروں نے اس کی بصیرت بھی چھین لی

آنکھیں تھیں اس کے پاس مگر دیکھتا نہ تھا

نادیدہ منزلوں کے مسافر تھے کتنے لوگ

چلنا تھا جن کا کام مگر آسرا نہ تھا

کیا بجھ گئے تھے میرے ہی گھر کے سبھی چراغ

یا شہر بھر میں دیا بھی جلا نہ تھا

اس گل کا آب و رنگ ہی تھا روکش بہار

جو گل درون شاخ تھا لیکن کھلا نہ تھا

قاتل تو اور بھی تھے بہت شہر درد میں

تجھ سا مگر جمیلؔ کوئی دوسرا نہ تھا

جمیل ملک

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(320) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Jameel Malik, Kiya Kiya Badast Gaib Sabhi Ne Liya Na Tha in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 29 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.1 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Jameel Malik.